سجن سانبھ کے رکھی دا
میوہ میوہ چکھی دا
لہجہ تیرا شہد اے یارا
شہد وی چھوٹی مکھی دا.....!!!
he wasn't even looking at me and he found me
Cosimo Galluzzi

Origami Around

JVL

❣ Chile in a Photography ❣
noise dept.
tumblr dot com
Peter Solarz
No title available

blake kathryn
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH

Kaledo Art

if i look back, i am lost
No title available
dirt enthusiast
Misplaced Lens Cap
Today's Document
I'd rather be in outer space 🛸

shark vs the universe
Three Goblin Art
seen from Türkiye

seen from Netherlands
seen from United States

seen from Italy
seen from Netherlands

seen from Netherlands

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Romania

seen from Switzerland

seen from Türkiye

seen from United States

seen from Switzerland
seen from Netherlands
seen from Netherlands
seen from United States
seen from Netherlands
seen from Bahamas
seen from United States

seen from United States
@sdkhsblog
سجن سانبھ کے رکھی دا
میوہ میوہ چکھی دا
لہجہ تیرا شہد اے یارا
شہد وی چھوٹی مکھی دا.....!!!
باهر سے جا ملا میرے اندر کا انتشار
اپنے خلاف میں نے بھی پتھر اٹھا لیئے
خِزاں کی زد میں ہے شاخِ تعلق
ہمارے رابطے مُرجھا رہے ہیں ــ!
ہوئی تخلیق عورت کی ، تو آیا لطف جینے میں...!!!
لیے پھرتے تھے مرد ، ایک فالتو پسلی کو سینے میں
عُمرِ رواں میں کتنے هی موسم بدل گئے
آنکھوں میں انتظار کی شدت وہی رہی
اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہوا
خود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا
رہ کے خاموش بھی اعلان بہت کرتا ہے
آئنہ چہروں کا نقصان بہت کرتا ہے
خزاں بہار کہاں ملتے ہیں
اب وہ اتوار کہاں ملتے ہیں
جو چلا جائے چلا جاتا ہے
بچھڑ کے یار کہاں ملتے ہیں
جو آنکھوں سے نشہ کرتے تھے
اب وہ مے خوار کہاں ملتے ہیں
اب فرشتوں سے پالا پڑتا ہے
اب گنہگار کہاں ملتے ہیں
درج ہو جن پہ دن کی سچائی
ایسے اخبار کہاں ملتے ہیں
قیس، پُنوں، فرہاد میاں رانجھا
اب یہ کردار کہاں ملتے ہیں
جس کے دل پہ ایک قابض ہو
ایسے دلدار کہاں ملتے ہیں
عشق پچھلی صدی کا قصہ تھا
اب وہ بیمار کہاں ملتے ہیں
شاید ملنے سے دل یہ بھر جائے
ہم تجھے بار بار ملتے ہیں
یہ تو فانی ہے اِسکو چھوڑ میاں
آ نا۔۔۔ جسموں کے پاار ملتے ہیں
خاک جینا ہے زندگی کو ہمیں
جنکو بس دن ہی چاار ملتے ہیں
ایکـــ میں ہی نہیں شبـــــ ،چھتــــــ پہ بسر کرتا تھا
چاند کـے پیچھــے ، کئی اور بھی پاگل پــڑے تھـے
جلد بازوں نے بچھــــــڑنـے میں، بڑی عُجلتــــــ کی
ایکــــــ ایکــــ مسئلے کے ورنہ کئی حل پــڑے تھـے
پھر سامان پرانے پہ نظر جا ٹھہری
پھر سے تم بند لفافوں سے نکل آئے ہو
#یاد_ماضی
تُمھارا نعم البدل بھی تم ہو
یعنی ملال در ملال ھے بس_♥
مصر کے بازار میں کسی قہوہ خانے پر
داستان گو کا سنایا ہوا قصہ ہے وہ شخص __!!
ہم ملیں گے کہیں
ہم ملیں گے کہیں
اجنبی شہر کی خواب ہوتی ہوئی شاہراؤں پہ
اور شاہراؤں پہ پھیلی ہوئی دھوپ میں
ایک دن ہم کہیں ساتھ ہوں گے
وقت کی آندھیوں سے اٹی ساعتوں پر سے مٹی ہٹاتے ہوئے
ایک ہی جیسے آنسو بہاتے ہوئے
ہم ملیں گے گھنے جنگلوں کی ہری گھاس پر
اور کسی شاخ نازک پہ پڑتے ہوئے بوجھ کی داستانوں میں کھو جائیں گے
ہم صنوبر کے پیڑوں کے نوکیلے پتوں سے صدیوں سے سوئے ہوئے دیوتاؤں کی آنکھیں چبو جائیں گے
ہم ملیں گے کہیں برف کے بازوؤں میں گھرے پربتوں پر
بانجھ قبروں میں لیٹے ہوئے کوہ پیماؤں کی یاد میں نظم کہتے ہوئے
جو پہاڑوں کی اولاد تھے اور انہیں وقت آنے پہ ماں باپ نے اپنی آغوش میں لے لیا
ہم ملیں گے شاہ سلیمان کے عرس میں
حوض کی سیڑھیوں پر وضو کرنے والوں کے شفاف چہروں کے آگے
سنگ مر مر سے آراستہ فرش پر پیر رکھتے ہوئے
آہ بھرتے ہوئے
اور درختوں کو منت کے دھاگوں سے آزاد کرتے ہوئے
ہم ملیں گے کہیں نارمینڈی کے ساحل پہ آتے ہوئے
اپنے گم گشتہ رستوں کے خاک سفرسے اٹی وردیوں کے نشاں دیکھ کر
مراکش سے پلٹے ہوئے ایک جرنیل کی آخری بات پر مسکراتے ہوئے
اک جہاں جنگ کی چوٹ کھاتے ہوئے
ہم ملیں گے کہیں روس کی داشتاؤں کی جھوٹی کہانی پہ آنکھوں میں حیرت سجائے ہوئے
شام، لبنان، بیروت کی نرگسی چشم حوروں کی آمد کے نوحوں پہ ہنستے ہوئے
خونی قضیوں سے مفلوج البانیہ کے پہاڑی علاقوں میں مہمان بن کر ملیں گے
ہم ملیں گے کہیں ایک مردہ زمانے کی خوش رنگ تہذیب میں جذب ہونے کے امکان میں
اک پرانے عمارت کے پہلو میں اجڑے ہوئے لان میں
اور اپنے اسیروں کی راہ دیکھتے پانچ صدیوں سے ویران زندان میں
ہمیں ملیں گے تمناؤں کی چھتریوں کے تلے
خواہشوں کی ہواؤں کے بے باک بوسوں سے چھلنی بدن سونپنے کے لیے راستوں کو
ہم ملیں گے زمیں سے نمودار ہوتے ہوئے آٹھویں براعظم میں اڑتے ہوئے قالین پر
ہم ملیں گے کسی بار میں
اپنی بقایا عمر کے پائمالی کے جام ہاتھ میں لیں گے اور ایک ہی گھونٹ میں ہم یہ سیال اندر اتاریں گے
اور ہوش آنے تلک گیت گائیں گے،
بچپن کے قصے سناتا ہوا گیت جو آج بھی ہم کو ازبر ہے
"بیڑی وے بیڑی توں ٹھلدی تے پئی ایں پتے پار کیا ہے پتے پار کیا ہے
بیڑی وے بیڑی توں کھلدی تے پئی ایں پتے پار کیا ہے پتے پار کیا ہے"
ہم ملیں گے کہیں
باغ میں، گاؤں میں، دھوپ میں، چھاؤں میں، ریت میں، دشت میں، شہر میں
مسجدوں میں، کلیسوں میں، مندر میں، محراب میں، چرچ میں
موسلا بارش میں، بازار میں، خواب میں، آگ میں
گہرے پانی میں، گلیوں میں، جنگل میں اور آسمانوں میں
کون و مکاں سے پرے غیر آباد سیارۂ آرزو میں
صدیوں سے خالی پڑی بینچ پر
جہاں موت بھی ہم سے دست و گریبان ہوگی
تو بس ایک دو دن کی مہمان ہوگی. . .
Muhabbat khawab hai Kis ne kaha hai
Muhabbat se Bary hain Khawab mere
تیری ۔۔۔۔
موجودگی کی رُت میں
ہمیں سبز ہونا تھا ۔۔۔
زرد ہو رہے ہیں ۔۔۔
سرد ہو رہے ہیں ۔۔۔
کیسے رخصت کروں دسمبر کو
واپس آنے میں سال لگتا ہے
خزاں میں بھی تو مہکتی غزل پہن کے ملا،
مزاجِ یار تیری خوش لباسیاں نہ گئیں...!!