SBCA officers, builder remained unidentified in Nasla Tower FIR
SBCA officers, builder remained unidentified in Nasla Tower FIR
KARACHI: A case has been registered against the responsible persons behind the illegal construction of Nasla Tower and commercial activities, however, the Sindh Building Control Authority (SBCA) officers, builders and other accused were not named in the First Information Report (FIR).
A case was registered against the responsible people involved in the illegal construction of a high rise Nasla…
Supreme Court (SC) on Friday has conducted hearing on a case pertaining to demolish illegally constructed Nasla Tower in Karachi. During the proceedings,
While one outfit requested Rs220 million to demolish Nasla Tower via controlled implosion, another offered a free service via mechanical mea
Nasla Tower controlled blast destruction costs Rs220m. While one outfit requested Rs220 million to demolish Nasla Tower via controlled implosion, another offered a free service via mechanical means.
In his report to the apex court, Commissioner Muhammed Iqbal Memon listed the benefits and drawbacks of both techniques recommended by the two shortlisted firms, sources informed Dawn on Sunday.
A foreign company expresses interest in a controlled explosion at Karachi's Nasla Tower. On Monday, made on decision on how the Supreme Cour
A foreign company expresses interest in a controlled explosion at Karachi’s Nasla Tower. On Monday, made on decision on how the Supreme Court-ordered demolition of the Nasla Tower in Karachi would be carried out, four out of five companies submitted bids for manual demolition of the 15-story structure. At the same time, a foreign firm offered to raze it via a controlled implosion blast.
According to sources, an eight-member committee for the demolition of Nasla Tower met at the deputy commissioner (DC) office for district East. It deliberated extensively on the bids and proposals submitted by four local and one foreign firms and the method and date of the tower’s demolition.
DC Asif Jan Siddiqui told Dawn that the committee deliberated on the bids and decided to convene the bidding businesses on Wednesday (tomorrow) to present their respective proposals for the demolition method and time required. “We will unquestionably use the safest technique possible to demolish the building,” he stressed.
Commissioner Iqbal Memon established the committee to award the contract, with the DC-East serving as its chairman.
Additionally, four local firms have requested for manual demolition of the 15-story structure.
Significant media regarding the safest and quickest method of dismantling the 15-story residential structure. The Commissioner’s office in Karachi made the offer.
Nasla Tower is a residential development spanning 1,121 square yards on Plot No193-A under the Sindh Muslim Cooperative Housing Society, or SMCHS, in Sharea Faisal.
According to experts, a controlled detonation was not feasible since it would also cause the Nursery overpass, surrounding buildings, water, and other utility pipelines to fall.
Furthermore, they stated that a controlled detonation was impossible due to the building’s location in a densely populated region with a high traffic volume.
According to analysts, the country’s detonation facility is used to destroy mountains, but “applause theory” was necessary to destroy Nasla Tower, and such a facility does not exist in Pakistan.
According to them, primarily the explosion blast in mountainous regions.
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کراچی میں واقع نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے کے اندر اندر گرا دیا جائے۔ اس معاملے کی قانونی نوعیت تو یقیناً وہی ہو گی جو معزز عدالت نے طے کر دی۔ البتہ کچھ سوالات قانون سے ہٹ کر بھی ہیں۔ یہ سوال سماجیات اور عمرانیات سے متعلق ہیں جو معاشرے اور پارلیمان کی توجہ چاہتے ہیں۔ نسلہ ٹاور ناجائز تھا، گرا دیا جائے گا۔ یہ قانونی پہلو ہے۔ سماجی اور عمرانی پہلو یہ ہے کہ اس ٹاور میں کچھ ہنستے بستے خاندان بھی رہ رہے ہیں جنہوں نے اپنی جائز کمائی سے جائز طریقے سے ادائیگی کر کے یہاں اپنے لیے رہائش خریدی۔ دو دن بعد ان کے گھروں کی بجلی اور گیس کاٹ دی جائے گی اور سات دن کے بعد ان کے گھر زمین بوس ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان خاندانوں پر کیا بیتے گی اور انہیں یہ سزا کس جرم میں ملے گی؟ اسی سوال سے پھر یہ بحث جنم لیتی ہے کہ شہریوں اور ریاست کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟
ریاست اپنے شہریوں پر محض قانون کا اطلاق کرتی ہے یا ریاست ایک ماں کی طرح اپنے شہریوں کے جائز مفادات کا تحفظ بھی کرتی ہے؟ نیز یہ کہ قانون سماج کے لیے ہوتا ہے یا معاشرہ قانون کے لیے؟ نسلہ ٹاور ایک دن میں نہیں بن گیا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں مرکزی اور نمایاں جگہ پر ایک کثیر المنزلہ عمارت بنتی ہے۔ سب کے سامنے بنتی ہے۔ جب یہ عمارت بن رہی ہوتی ہے اس وقت ریاست کے تمام متعلقہ ادارے موجود ہوتے ہیں اور کام کر رہے ہوتے ہیں۔ عدالتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔ نقشے بھی منظور کیے جاتے ہیں۔ واپڈا والے بجلی کا کنکشن بھی دے دیتے ہیں اور سوئی گیس کا محکمہ گیس بھی پہنچا دیتا ہے۔ علی الاعلان سب کے سامنے ان فلیٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے جمع پونجی اور گھر کا سونا بیچ کر یہاں فلیٹس لیے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ٹاور ناجائز تھا تو یہ بن کیسے گیا؟ بن گیا تو یہاں فلیٹس کیسے فروخت ہو گئے۔ فلیٹس فروخت ہو گئے تو وہاں بجلی اور گیس کیسے آگئے؟
چائنا کٹنگ کراچی کا بلاشبہ سنگین مسئلہ ہے لیکن کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ جب کئی عشروں یہ چائنا کٹنگ ہو رہی تھی تو اس وقت ملک کے نظام تعزیر و قانون کی بھی چائنا کٹنگ ہو چکی تھی اور کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ اس سلسلے کو روک سکے۔ ریاستی اداروں نے تو گویا یہاں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ قبضے ہوتے رہے اور متعلقہ ادارے خاموش رہے۔ ایسے میں تعزیر کا کوڑا صرف ان بے گناہ خریداروں کی کمر پر کیوں برسایا جائے جنہوں نے سارے قانونی تقاضے پورے کر کے شہر کے بیچ رہنے کو گھر خریدے؟ اس سارے دورانیے میں جن اداروں نے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، کیا قانون ان کی دہلیز پر بھی دستک دے گا؟ کیا ان کی تنخواہیں اور پینشن بھی ضبط نہیں ہونی چاہیے جو اس ساری واردات کے سہولت کار تھے اور جن کی غفلت کی وجہ سے آج مائیں بہنیں اوربیٹیاں اپنے گھروں کو مسمار ہوتے دیکھ رہی ہیں اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو رہے ہیں؟
یہ قبضے کچے کے علاقے میں نہیں ہو رہے تھے کہ کسی کو اس واردات کی خبر نہ ہو سکی، نہ ہی نسلہ ٹاور علاقہ غیر میں تعمیر ہو رہا تھا کہ کراچی میٹروپولیٹن سمیت کسی ادارے کے علم میں نہ آسکا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے وسط میں قبضہ کر کے عمارات تعمیر کر کے انہیں فروخت کیا جاتا رہا اور کسی ادارے کو خبر نہیں ہو سکی؟ اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ نظام قانون و تعزیر کا مقصد کیا ہے؟ کیا قانون کا نفاذ مقصود بالذات ہے یا قانون کے نفاذ کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے؟ نسلہ ٹاور ایک وارداتِ مسلسل کا نام ہے۔ کسی نے ناجائز عمارت تعمیر کی، کوئی اس کا سہولت کار بنا، کسی نے یہاں فلیٹس خریدے۔ اب اس پوری واردات کو مخاطب کیے بغیر صرف معصوم اور بے گناہ خریداروں پر قانون کا نفاذ پوری پارلیمان کی قانونی بصیرت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ پارلیمان بدلتے حالات کے مطابق قانون سازی نہ کر سکے تو اس کی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟
نسلہ ٹاور کو گرانے کے لیے جدید مشینری کے حصول کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی معزز عدالت نے دیا ہے کہ اس مشینری کا کرایہ سوسائٹی کے مالک سے وصول کیا جائے اور اگر وہ نہ دے تو اس کی جائیداد ضبط کر کے وصول کیا جائے۔ کیا ایسا ہی کوئی اہتمام ان خاندانوں کے لیے نہیں ہو سکتا تھا جن کے فلیٹس مسمار ہونے جا رہے ہیں؟ ان خاندانوں کے بارے میں عدالت نے کہا ہے کہ ان کو ان کی رقم دی جائے اور اگر رقم نہ دی جائے تو وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’ریکوری سوٹ‘ کرنا، ایک طاقتور کے خلاف کرنا، پھر اس میں کامیاب ہو کر رقم لے لینا کوئی معمولی بات نہیں۔ روایت یہ ہے کہ اس معاملے میں کامیابی کے لیے صبر ایوب درکار ہے۔ کیا معلوم یہ رقم ان لوگوں کو کب ملے اور ملے بھی کہ نہیں؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ یہاں بھی ویسا ہی حکم آ جاتا کہ مالک کی جائیداد ضبط کر کے ایک ہفتے میں متاثرین کو رقم ادا کی جائے اور رقم ادا کرتے ہی ٹاور گرا دیا جائے؟ قانون میں ایسی گنجائش موجود نہیں تو پارلیمان کو ان خطوط پر سوچنا نہیں چاہیے؟
لوگ سب کچھ بیچ کر اور ساری پینشن لگا کر گھر بناتے ہیں اور پھر جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو فراڈ تھا، ایسے میں کیا ان کے لیے حصول انصاف کا کوئی سپیڈی میکنزم نہیں ہونا چاہیے؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ غریب پہلے جمع پونجی سے محروم ہو جائے، پھر گھر بھی گرا دیا جائے اور پیسوں کی ریکوری کے لیے اسے ایک طویل اور تکلیف دہ پروسیجر کے حوالے کر دیا جائے؟ لوگوں کے گھر اگر ایک ہفتے میں گرائے جا سکتے ہیں تو قانون ایسے لوگوں کو دو ہفتوں میں ان کی رقم واپس کیوں نہیں دلوا سکتا؟ کچھ ناجائزسوسائٹیوں کو محض جرمانے کر کے معاملہ حل کر لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی بیرون ملک سے ضبط ہو کر واپس آنے والی رقم بھی مبینہ طور پر انہی جرمانوں میں ایڈجسٹ کر لی جاتی ہے۔ کیا یہی اصول ہر ’بے گناہ خریدار‘ کے معاملے میں بطور قانون لاگو نہیں ہو سکتا یا کم از کم کیا اتنی قانون سازی نہیں ہو سکتی کہ ایسے معاملات میں جب تک بے گناہ خریدار کو ساری رقم واپس نہ دلائی جائے تب تک اس سے چھت نہ چھینی جائے؟