اس صحافی کو رات 9 بجے سے پہلے جیو آفس سے نکال باہر کرو ورنہ تمہارا ادارہ بند ہو جائیگا
اس صحافی کو رات 9 بجے سے پہلے جیو آفس سے نکال باہر کرو ورنہ تمہارا ادارہ بند ہو جائیگا ۔۔۔ میر شکیل الرحمٰن کو یہ دھمکی کس نے دی تھی ؟ بڑا کچھ سمجھا دینے والی خبر لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصارعباسی اپنے ایک تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی چار سال پہلے جب ICIJ پاناما لیکس پر کام کر رہی تھی تو دی نیوز انویسٹی گیشن سیل کے سینئر صحافی عمر چیمہ اُن پاکستانیوں کے نام ڈھونڈ رہے تھے جو آف شور کمپنیوں کے مالک تھے۔ میاں نواز شریف فیملی کے علاوہ دوسرے کئی پاکستانیوں کے نام ICIJکے تحقیقاتی رپورٹرز کے سامنے آ چکے تھے جنہیں عمر چیمہ ایک مخصوص سوال نامہ بجھواتا رہا تاکہ خبر میں شائع کرنے کے لیے اُن کا ردعمل بھی لیا جا سکے۔ایک دن میں آفس میں بیٹھا تھا تو عمر چیمہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ’’سر ایک مسئلہ ہو گیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ عمر نے جواب دیا کہ پاناما کی آف شور کمپنیاں رکھنے والوں میں میر شکیل الرحمٰن صاحب کا بھی نام ہے۔ عمر نے پوچھا ’’اب کیا کریں؟‘‘میں نے جواب دیا کہ جیسے دوسروں کو اپنا سوال نامہ بجھوا رہے ہو، اسی طرح میر صاحب کو بھی سوال ای میل کر دو۔ عمر چیمہ نے ایسا ہی کیا۔ کوئی تین چار روز بعد میری میر شکیل الرحمٰن صاحب سے بات ہوئی تو میں نے اُن سے ذکر کیا کہ عمر چیمہ نے آپ کو ایک ای میل بھیجی ہے، مہربانی کرکے اُسے دیکھ لیں۔میر صاحب نے کہا کہ اُنہوں نے ای میل پڑھ لی ہے اور چند ہی دنوں میں اپنا جواب عمر چیمہ کو بجھوا دیں گے۔ اُنہوں نے صرف ایک بات کہی کہ عمر چیمہ صاحب سے کہہ دیں کہ میرا ردّعمل پورا شائع کیا جائے۔ چند ہفتوں بعد پاناما اسکینڈل بریک کیا گیا اور دنیا بھر کے میڈیا میں اس خبر کی شہ سرخیاں شائع ہوئیں۔ میر شکیل الرحمٰن کے بارے میں یہ خبر کہ Read the full article














