ہوں میں یکسر رائیگاں، افسوس میں
کیا کہوں میں بس مِیاں، افسوس میں
کیسے پہنچوں آخر اپنے آپ تک
میں ہوں اپنے درمیاں ، افسوس میں
میرے ہی دل پر لگا ہے جس کا تیر
ہے وہ میری ہی کماں، افسوس میں
رائیگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے میری عمرِ رواں! افسوس میں
زندگی ہے داستان افسوس کی
میں ہوں میرِداستاں، افسوس میں
میرے سینے میں چراغِ زندگی
میری آنکھوں میں دھواں، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں، افسوس میں
ایک ہی تو باغِ حسرت ہے میرا
ہوں میں اس کی خِزاں،افسوس میں
اے زمین و اسماں! افسوس تم
اے زمین و آسماں!افسوس میں
جون















