Kya Gasht Karne Se Azaab-e-Qabr Hata Liya Jata Hai? Fatwa Darul Uloom De...
seen from Belgium
seen from United States

seen from Spain
seen from United States
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from Germany

seen from Russia
seen from United States

seen from United States
seen from Russia

seen from Costa Rica
seen from United States
seen from Italy

seen from United States
seen from Italy
seen from United Kingdom
Kya Gasht Karne Se Azaab-e-Qabr Hata Liya Jata Hai? Fatwa Darul Uloom De...
Claims of Hamdard hiring Muslims and that Rooh Afza is a Tableeghi product is false
Claims of Hamdard hiring Muslims and that Rooh Afza is a Tableeghi product is false
Claim 1: “अब गर्मियों में हमदर्द का शर्बत रूह अफज़ा न पिएं, ना जाने कितने तबलीगियो ने इसमें थूका होगा”
Translation: Do not drink Humdard’s Rooh Afza in the summers, you never know how many Tableeghis have spit in it.
Claim 2: “तबलीग वालों का प्रोडक्ट है रूह अफजा, हमदर्द कंपनी में सिर्फ मुसलमान काम करते हैं.”
Translation: Rooh Afza is a product of Tableeghi Jamaat, and only Muslims are hired in…
View On WordPress
Old image resurfaces claiming Jamaat members were beaten up by police after misbehaving with nurses
A photo of a man with marks of brutal beating on his back is viral with the text in the image which says “A man in Uttar Pradesh who attended the Tableeghi Jamaat was in quarantine, after finding a nurse beautiful, he stripped in front of the nurse, then he and the other two people were beaten by the police and the case was registered on them.“
The post has been shared for over 1000…
View On WordPress
نیلم وادی میں تبلیغی جماعت کے18اراکین سمیت22افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے
نئی دہلی:پاکستان مقبوضہ کشمیر کی نیلم وادی میں بادل پھٹنے سے تبلیغی جماعت کے18اراکین سمیت کم از کم22افراد ہلاک ہو
تبلیغی جماعت کیا ہے, تبلیغ کا کام کیسے ہوتا ہے؟
اتوار کو لاہور کے قریب رائیونڈ کے علاقے میں جب تبلیغی جماعت کی مرکزی شوریٰ کے امیر حاجی عبدالوہاب کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تو اس میں شرکت کے لیے ملک کے طول و عرض اور بیرونِ ملک سے بھی ہزاروں افراد وہاں پہنچے۔ حاجی عبدالوہاب کا انتقال لاہور کے ایک ہسپتال میں علالت کے بعد تقریباً 95 برس کے عمر میں ہوا تھا۔ حاجی عبدالوہاب کے جنازے میں شرکت کے لیے ان کے معتقدین کی اتنی بڑی تعداد لاہور آئی کہ اس موقع پر پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی طرف سے کراچی سے لاہور کے لیے خصوصی پرواز کا انتظام بھی کیا گیا۔
حاجی عبد الوہاب سے قربت رکھنے والے پاکستان کالج آف فیزیشئنز اینڈ سرجنز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ حاجی عبدالوہاب کی نماز جنازہ میں دنیا بھر سے علما کرام اور ان کے چاہنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں ایسے افراد بھی تھے جو رش اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حاجی عبدالوہاب نے ساری زندگی دعوت تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی اور تقریباً 70 سال تک وہ دعوت کے کام سے منسلک رہے۔
تبلیغی جماعت کیا ہے؟
تبلیغ کا لفظی معنی ہے دوسروں کو دین کی دعوت دینا یا تلقین کرنا ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق تبلیغی جماعت کی ابتدا سب سے پہلے ہندوستان سے سنہ 1926 یا 1927 میں ہوئی جہاں مولانا محمد الیاس نامی ایک عالم دین نے اس کام کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں مولانا محمد الیاس نے دعوت کے کام کی شروعات دہلی کے مضافات میں آباد میواتی باشندوں کو دین کی تعلیم دینے سے کی لیکن کچھ عرصے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ اس طریقہ کار کے تحت ادارے تو وجود میں آ رہے ہیں لیکن اچھے مبلغ پیدا نہیں ہو رہے جو دوسروں کو دین کی تعلیم دے سکے۔ لہذا انھوں نے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اس طرح انھوں نے دہلی کے قریب واقع نظام الدین کے علاقے سے باقاعدہ طورپر بحیثیت تبلیغ کے کام کا آغاز کر دیا۔
بتایا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع سنہ 1941 میں انڈیا میں ہوا جس میں تقریباً 25 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ 1940 کے عشرے تک یہ جماعت غیر منقسم ہندوستان تک محدود رہی لیکن پاکستان بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اس جماعت نے تیزی سے ترقی کی اور اس طرح یہ تحریک پوری دنیا تک پھیل گئی۔ آج کل اس تحریک کے سب سے زیادہ حامی براعظم ایشیا میں بتائے جاتے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے جہاں یہ کام اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔ انٹرنیٹ سے لی گئی معلومات کے مطابق آج کل تبلیغ کا کام تقریباً 200 ممالک میں ہوتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام سے آٹھ سے دس کروڑ کے قریب افراد منسلک ہیں۔ یہ جماعت اب دنیا بھر میں مسلمانوں کی سب بڑی جماعت بھی سمجھی جاتی ہے۔ تبلیغی جماعت کا سب بڑا اجتماع ہر سال بنگلہ دیش میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان کے رائیونڈ کے مقام پر بھی سالانہ تبلیغی اجتماع کا اہتمام ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان شرکت کرنے آتے ہیں۔
تبلیغ کا کام کیسے ہوتا ہے؟ اس تحریک کی بنیاد اسلام کے چھ بنیادی اصولوں پر رکھی گئی ہے جس میں کلمہ، نماز، علم و ذکر، اکرام مسلم (مسلمان کی عزت کرنا)، اخلاص نیت اور دعوت و تبلیغ شامل ہے۔ تحریک سے منسلک افراد کے مطابق اس تحریک کا واحد مقصد یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان سو فیصد اللہ کے احکامات اور پیغمبر اسلام کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں۔ تبلیغی جماعت نے عام لوگوں کو دعوت یا تبلیغ کا کام سمجھانے کے لیے ایک نصاب بھی مقرر کیا ہوا ہے جس کے تحت ابتدائی طورپر اس کام سے روشناس ہونے کے لیے تین دن گھر سے نکل کر جماعت میں لگانے پڑتے ہیں اور پھر اس طرح 40 دن، چار مہینے اور ایک سال کے لیے بھی لوگ ملک سے باہر یا ملک کے اندر تبلیغ کا کام کرنے کے لیے جایا کرتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کا بنیادی عقیدہ سنی مسلک کا ہے لیکن ان کے اجتماعات میں دیگر مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔ اس تحریک سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ یہ تحریک سیاست اور فرقہ واریت سے مکمل طورپر پاک ہے اور نہ ہی یہ اختلافی مسلکی مسائل پر یقین کرتی ہے۔ تبلیغی جماعت میں عام طورپر اختلافی مسائل اور ملکی سیاست پر بات کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔
کھلاڑی اور فنکار تبلیغی جماعت میں پاکستان میں ویسے تو تبلیغی جماعت سے ہر شعبہ ہائے زندگی کے افراد منسلک ہیں لیکن ان میں فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران، تعلیمی اداروں کے پروفیسرز، ڈاکٹرز اور کئی بیوروکریٹ بھی باقاعدہ سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ فنکار اور مختلف کھیلوں کے قومی سٹارز بھی ان کے اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ وقت صرف کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بعض اہم سابق کھلاڑی تو مستقل طورپر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں جن میں سعید انور، محمد یوسف، انضمام الحق اور ثقلین مشتاق قابل ذکر ہیں۔
اس تحریک میں نوجوان طبقہ بھی کافی فعال نظر آتا ہے۔ پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں میں یہ کام بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ اکثر لوگ تبلیغی جماعت کو ’خاموش انقلاب‘ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جو کسی سے کچھ مانگنے کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ لوگوں کو اللہ اور اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید یہی ان کی بڑی کامیابی کی بڑی وجہ ہے۔
رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حاجی عبدالوہاب مرحوم
ہمارے ایک جاننے والےکی Repute بہت خراب تھی۔ ملنے والے، عزیز رشتہ دار، ہمسایوں سب کو معلوم تھا کہ یہ شخص شرابی ہے، زانی ہے، جوا بھی کھیلتا ہے۔ اُس کی اسی Repute کی وجہ سے مجھ سمیت بہت سے لوگوں کا اُس کے حوالے سے دل بُرا رہتا اور کبھی اُس سے ملنے کی خواہش نہ ہوتی بلکہ ہمیشہ کوشش رہتی کہ اگرکہیں آمنا سامنے ہو جائے تو اُسے اِگنور کیا جائے۔ بہت سوں کے لیے وہ ایک ایسا فرد تھا جس نےاپنے لیے تباہی کا رستہ چن لیا تھا۔ زندگی کا سفر جاری رہا، کئی سال میرا اُس شخص سے رابطہ نہیں ہوا، نہ ہی میں نے اُسے کہیں دیکھا۔
کافی سال گزر گئے، ایک دفعہ میں نماز کےلیے ایک مسجد کے پاس رکا۔ باجماعت نماز ادا کی تو فرض نماز کے فوری بعد پہلی صف میں موجود ایک باریش نمازی اُٹھا اور وہاں موجود نمازیوں کو دعوت دینا شروع کر دی کہ نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لیے مسجد میں ہی تشریف رکھیے، ’’اسلام کے مطابق زندگی کیسے گزارنی چاہیے تاکہ ہمارے آخرت سنور جائے‘‘ کے موضوع پر بات ہو گی۔ دعوتِ تبلیغ دینے والا یہ باریش نمازی وہی شخص تھا جس کے ماضی کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا۔ ماضی کا شرابی، زانی، جواری ان برائیوں کو چھوڑ کر اب تبلیغ اسلام کے عظیم کام میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ مجھے اُس شخص کو دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی اور دل سے دعا نکلی کہ اللہ سب کو اسی طرح ہدایت دے۔ یہ ہے وہ تبدیلی جس سے ہماری آخرت کی کامیابی جڑی ہے اور جس کے لیے تبلیغی جماعت بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی تبلیغی جماعت کے امیر، اسلامی دنیا کا ایک بڑا نام اور عظیم مبلغ حاجی عبدالوہاب صاحب اتوار کو انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حاجی عبدالوہاب مرحوم سے کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوا جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا لیکن اُن کے انتقال کی خبر سن کر دل بہت افسردہ ہوا اور محسوس ہوا کہ جیسے میرا اپنا کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے۔ حاجی صاحب نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی اصلاح اور تبلیغ اسلام کے لیے وقف کیے رکھی۔ حاجی صاحب وہ خوش قسمت انسان تھے جن کو اللہ تعالی نے تبلیغ اسلام کے عظیم کام کے لیے چُنا اور اُن کی دعوت اور تبلیغ کےنتیجےمیں دنیا بھر میں لاکھوں، کروڑوں افراد دینِ اسلام سے جڑے۔ اسی تبلیغی جماعت کی محنت سے بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ حاجی وہاب مرحوم اور اُن کی تبلیغی جماعت کے توسط سے ہی جنید جمشید مرحوم نے گلوگاری کو اپنے زمانۂ عروج میں چھوڑا۔ اُن کا دل بدلا اور ایسا بدلا کہ اس دنیا سے رخصت ہونے تک انہوں نے اسلام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کیے رکھا۔
پاکستان کی کرکٹ کا کسی زمانہ میں شوبز اور عیاشی سے گہرا تعلق تھا لیکن حاجی عبدالوہاب مرحوم اور اُن کی جماعت کی محنت سے نہ صرف سعید انور بدلے، ماضی کے یوسف یوحنا اسلام قبول کر کےمحمد یوسف بن گئے، انضمام الحق کی زندگی بدل گئی بلکہ ان کرکٹرز نے مستقلاً اپنے آپ کو تبلیغ اسلام کے عظیم کام کے ساتھ جوڑ دیا۔ ماضی کے امیج کے برعکس ہمارے اور بھی بہت سے کرکٹرز بدل گئے اور اب ماشاء اللہ ہماری کرکٹ ٹیم کی حالت یہ ہے کہ گرائونڈ میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے اُن کی تصویریں اکثر اخبارات اور ٹی وی میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر تبلیغی جماعت نے بڑا مثبت اثر ڈالا اور اس کی وجہ حاجی عبدالوہاب جیسے بزرگ ہیں جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی تبلیغ اسلام کے لیے وقف کیے رکھی۔ حاجی عبدالوہاب دین کا کام کرنے والوں سے محبت کرتے تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ایک ٹویٹ کے مطابق حاجی عبدالوہاب کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی مگرپوری دنیا میں موجود ان کی روحانی اولاد اُن کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور اُن کے درجات بلند فرمائے اور ہم سب کو دینِ اسلام کی خدمت اور تبلیغ کے کام کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
انصار عباسی
امیر تبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب، جنھوں نے پوری زندگی تبلیغ کے لئے وقف کی
امیرتبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب 1922 کو انڈیا کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے ہجرت کے بعد پاکستان آئے، ان کا تعلق راجپوت راؤ برادری سے تھا، اسلامیہ کالج لاہور سے گریجو یشن کیا، گریجویشن کے بعد تحصیلدار کی نو کری شروع کر دی، انہوں نے تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حاجی عبدالوہاب مسلم دنیا کے 500 سو بااثر شخصیات میں 10 ویں نمبر پر شامل تھے، ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ کے لئے وقف کی۔ محمد شفیع قریشی تبلیغی جماعت کے پہلے امیر تھے ان کی وفات کے بعد حاجی محمد بشیر دوسرے امیر مقرر ہوئے جبکہ حاجی عبدالوہاب تیسرے امیر مقرر ہوئے.
Haji Abdul Wahab : A profile of Tableeghi Jamaat Ameer
Born on January 1, 1923 in Delhi he went on to become Islamic preacher after joining the movement during the life of Tableeghi Jamaat founder Muhammad Ilyas Kandhlawi. According to reports, the cleric originally hailed from Karnal district in India and belonged to Rajput tribe. He is said to have attended Islamia College, Lahore, and also worked as Tehsildar in pre-partition India. Haji Abdul Wahab was also affiliated with Majlis-e-Ahrar-e-Islam in his youth. He joined the Tableeghi Jamaat in 1944 and later left his job to work for the movement. Haji Abdul Wahab, also known as the direct companion of Maulana Muhammad Ilyas, is considered one of the first five people in Pakistan who offered their entire life for Tabligeehi Jamaat. Maulana succeeded Haji Muhammad Bashir as Ameer of the Jamaat in 1992. Based in Jamaat's headquarters in Raiwind Markaz near Lahore, he was head of Shura (council) as well as a member of the movement's (Aalmi Shura) World Council based in Nizamuddin, Delhi India.