"I'm Dorothy Gale from Kansas"

No title available

Janaina Medeiros
Stranger Things
almost home

JVL
cherry valley forever
No title available
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year

@theartofmadeline
Peter Solarz

No title available
RMH
hello vonnie
Cosmic Funnies

❣ Chile in a Photography ❣

shark vs the universe
DEAR READER

祝日 / Permanent Vacation
Claire Keane

seen from Belgium

seen from Malaysia
seen from Russia

seen from Singapore

seen from Türkiye
seen from Germany

seen from Italy

seen from United States

seen from Singapore
seen from Romania

seen from United States

seen from Germany
seen from United States
seen from Malaysia

seen from Singapore

seen from T1
seen from Italy

seen from Singapore

seen from France

seen from Italy
@azad008
Goddess siham
اَللّهُ اَكْبَر - اَللّهُ اَكْبَر
تحریر بشکریہ @salehabajiofficial
ہم اکثر سنتے ہیں کہ سائینس جن چیزوں کو آج ڈسکور کر رہی ہے، اسلام ان ہی چیزوں کے بارے میں مسلمانوں کو چودہ سو سال پہلے ہی آگاہی فراہم کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں کئی مثالیں علما دیتے ہیں۔ مثلاً جب چاند پر انسان نے قدم رکھے تو جو ایک لکیر انہیں نظر آئی وہ علما کے مطابق وہ لکیر تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاند کے دو ٹکڑے کرنے سے پیدا ہوئی تھی۔ اس ہی طرح کی اور بھی امثال موجود ہیں۔ میں جس چیز کی جانب آپ کی توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ جنسی کھلونے اور ان کے استعمالات ہیں۔ سائنس اور اسلام آپس میں متضاد نہیں ہیں۔ یاد رکھئے اللہ نے قرآن مجید میں ہمیں تحقیق کا حکم دیا ہے اور ہمیں کسی ایک موضوع تک محدود نہیں فرمایا۔ انسانی بدن پر تحقیق نہ صرف طبی مقاصد کیلئے مفید ہے بلکہ اس سے ایسی چیزیں بھی سامنے آتی ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے جسم کو مزید صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ اسی تحقیق کا نتیجہ ہم آئے دن نت نئی دوائیوں اور ورزش کے نئے سے نئے طریقوں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ بدن پر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ہی ایسے کھلونے ایجاد کئے گئے ہیں جو کہ ہماری جنسی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں ہمیشہ۔
اسلام آسانی کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی ایسے کام کا حکم نہیں دیتے جو کہ انسانی جسم کیلئے دشوار ہو۔ آج اسلام کے نام پر جو مسالک وجود میں آ گئے ہیں ان میں سے ہر ایک نے اپنی دکان کھول رکھی ہے اور فتاویٰ بانٹتے ہیں۔ کئی چیزیں جن کی اسلام میں کوئی ممانعت نہیں ہے، یہ علما سو مسلمانوں پر ان چیزوں کو حرام قرار دے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلام غیر مسلموں کی نظر میں بدنام ہو جاتا ہے۔ انہی چیزوں میں یہ جنسی کھلونے بھی شامل ہیں۔ کھلونے کا لفظ تو اب استعمال ہونے لگا ہے جبکہ یہ اوزار صدیوں سے رائج ہیں۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی ہمارے جسم میں جنسی اعضا رکھے ہیں اور جنسی طلب کا پیدا ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی ہے۔ جنسی طلب ہر بالغ مرد اور عورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اسے دبا دیا جائے جیسا کہ علما ہمیں بتاتے ہیں۔ اس کے نقصانات بھی ہیں جن سے ہمیں جان بوجھ کر آگاہ نہیں کیا جاتا۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ جنسی طلب کا کوئی حل نہ نکالنے کی صورت میں یہ اکٹھی ہوتی جاتی ہے اور بالآخر ایک مقام ایسا آتا ہے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان زنا کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔
اسلام میں زنا کی ممانعت ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم میں واضح احکامات موجود ہیں لیکن جنسی خواہشات کے اطمینان کیلئے اسلام نے مختلف طریقوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ سب سے بہتر تو نکاح ہے۔ بدقسمتی سے نکاح کو ہمارے معاشرے میں مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ نکاح کرنے کیلئے اب لوگ اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ پہلے اچھی خاصی دولت اکٹھی کر لیں۔ دوسرا طریقہ عارضی نکاح کا ہے۔ اس کو شیعہ مسلک میں متعہ کہا جاتا ہے لیکن یہ باقی مسالک میں مختلف ناموں سے رائج ہے۔ اس عارضی نکاح میں دولت تو ذیادہ خرچ نہیں ہوتی لیکن نکاح کیلئے دو افراد لازمی ہیں۔ لہذا ایسے لوگ جنہیں نکاح کیلئے ساتھی نہیں ملتا وہ اپنی جنسی پیاس کیسے بجھائیں۔ ان کیلئے اسلام میں یہ اجازت ہے کہ کسی ایسی کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ کوئی بھی ایسی بے جان چیز جس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، اسے استعمال کر کے اپنی پیاس بجھا سکتے ہیں۔ اسلام کی یہ خاصیت ہے کہ اپنے پیروکاروں کو کسی ایک چیز تک محدود نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ ایک سے زیادہ آپشنز دستیاب کرتا ہے۔
اسی لئے بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بعض غیر شادی شدہ اور بعض رنڈوے یا طلاق یافتہ صحابہ کرام نے اپنی جنسی بجھانے کیلئے جانوروں کا استعمال بھی کیا۔ ایسی روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ہیں کثیر تعداد میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایسی کوئی روایت اگرچہ دستیاب نہیں لیکن اہل بیت کے بارے میں ایسی ڈھیروں روایات ہیں کہ اہل بیت میں اکثر بالغ افراد بشمول خواتین جانوروں سے ازحد پیار فرمایا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ جانور اونٹ اور بکریاں تھے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ تھیں، ان کے بارے میں یہ بات مختلف ذرائع سے ثابت شدہ ہے کہ انہوں نے گھر میں ایک خنزیر پال رکھا تھا۔ یاد رہے کہ یہ اسلام سے پہلے کا زمانہ تھا اور تب خنزیر کو حرام قرار نہیں دیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے لیکن آپ خنزیر کو اگر دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہیں تو اس پر اسلام میں کوئی قدغن نہیں۔ آج کل جو مغرب میں ایسے اوزار استعمال ہوتے ہیں جو کہ مرد اور عورت کی جنسی پیاس بجھانے میں مددگار ہیں، ان کو اس شکل میں پہنچنے میں عرصہ لگا ہے۔
ایسے اوزار استعمال ہونا آج کی بات نہیں۔ یہ تو صدیوں سے مستعمل ہیں۔ قدیم تاریخ کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن اسلامی تاریخ میں اس سے متعلق وافر مقدار میں مواد موجود ہے۔ دراصل ہوتا اس طرح تھا کہ گھریلو خواتین جن کی شادی میں تاخیر ہو جاتی تھی یا ایسی شادی شدہ خواتین جن کے خاوند روزگار یا کسی اور سلسلے میں گھر سے دور ہوتے تھے، ایسی خواتین اپنی جنسی پیاس کی تکمیل کیلئے سبزیاں استعمال کر لیتی تھیں۔ مثال کے طور پر گاجر مولی، کیلے یا بعض اوقات بینگن 🍆۔ صفائی کا ذیادہ اہتمام نہ ہونے کے سبب سبزیوں کو بغیر دھوئے پکا دیا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ نہ جانے کب سے چلا آ رہا تھا اور ختم تب ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان خواتین کی ضروریات کا مکمل ادراک اور احساس تھا۔یہی وجہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً سے پابندی نہیں عائد کی بلکہ خواتین کو اس کا متبادل عطا فرمایا۔ حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے بعد مدینہ کے بازاروں میں لکڑی کے لمبے اور چکنے ٹکڑے بکنا شروع ہوئے تھے۔
ان ٹکڑوں کا سائز عضو تناسل کی لمبائی کے برابر ہوتا تھا۔ اس سے حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کی دور اندیشی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے کر جہاں خواتین پر احسان عظیم کیا وہیں ایک ایسی صنعت کی بنیاد بھی رکھ دی کہ جس نے لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، لکڑی کے ان ٹکڑوں نے اپنی ہیئت بدلنا جاری رکھی۔ خواتین کی ڈیمانڈ کے مطابق۔ لکڑی کی جگہ پلاسٹک نے لے لی۔ اب تو ایسے ایسے بھی دستیاب ہیں کہ جن کو چھو کر ایسا لگتا ہے کہ واقعی عضو تناسل ہی ہو۔ مردوں کیلئے بھی اندام نہانی نما کھلونے دستیاب ہیں جن میں عضو تناسل داخل کر کے بالکل ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کسی خاتون کی شرمگاہ میں عضو تناسل داخل کیا ہو۔
یہ تمام قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان زنا سے بچیں اور ان چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی اسلام نے اجازت دے رکھی ہے۔
میں جو بات بھی کرتی ہوں، ڈنکے کی چوٹ پر اور مکمل تاریخی حوالوں کے ساتھ کرتی ہوں۔ اگر آپ کو اتفاق نہیں تو مجھے غلط ثابت کر دیں۔ میں اپنی غلطی تسلیم کر کے ہمیشہ کیلئے اس موضوع سے تائب ہو جاؤں گی لیکن اگر آپ کو مجھ سے اتفاق ہے تو یہ آپ کا فرض ہے کہ سچائی کو فروغ دیں اور میری تحاریر کو آگے پھیلائیں۔ یہ صدقہ جاریہ بھی ہے۔ جزاکِ اللہ خیرا کثیرا۔
السلام عليكم