باغباں ہوش ،،، کہ برہم ہے مزاجِ گُلشن
ہر کلی ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے
فیض احمد فیضؔ 🥀💐🌹

Origami Around
DEAR READER
he wasn't even looking at me and he found me

PR's Tumblrdome
I'd rather be in outer space 🛸
YOU ARE THE REASON

shark vs the universe

if i look back, i am lost
NASA
Claire Keane

No title available
taylor price
wallacepolsom
sheepfilms

blake kathryn

JVL
No title available
almost home

tannertan36
One Nice Bug Per Day

seen from Czechia

seen from Türkiye
seen from United States
seen from Sri Lanka
seen from United States
seen from Türkiye
seen from United Kingdom

seen from Türkiye
seen from Germany

seen from Estonia
seen from Philippines

seen from Mexico
seen from Malaysia
seen from Finland
seen from Canada
seen from France

seen from United States

seen from Malaysia

seen from Malaysia

seen from United States
@moizkhan1967
باغباں ہوش ،،، کہ برہم ہے مزاجِ گُلشن
ہر کلی ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے
فیض احمد فیضؔ 🥀💐🌹
کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے بام و در
یہ وہی دِیار ہے دوستو جہاں لوگ پِھرتے تھے رات بھر
میں بھٹکتا پِھرتا ہُوں دیر سے یونہی شہر شہر، نگر نگر
کہاں کھو گیا مِرا قافلہ کہاں رہ گئے مِرے ہمسفر
جنہیں زندگی کا شعُور تھا انہیں بے زری نے بِچھا دِیا
جو گراں تھے سینۂ چاک پر، وہی بن کے بیٹھے ہیں مُعتبر
مِری بے کسی کا نہ غم کرو مگر اپنا فائدہ سوچ لو
تمہیں جس کی چھاؤں عزِیز ہے میں اُسی درخت کا ہُوں ثمر
یہ بجا ہے آج اندھیرا ہے ذرا رُت بَدلنے کی دیر ہے
جو خِزاں کے خوف سے خُشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ و بَر
ناصر کاظمی
آج رُوٹھے ہُوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے اُجڑے ہُوئے گُلشن کو بہت یاد کیا
جب کبھی گردشِ تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں
گیسُوئے یار کی اُلجھن کو ،،، بہت یاد کیا
شمع کی جوت پہ جلتے ہُوئے پروانوں نے
اِک تِرے شعلۂ دامن کو بہت یاد کیا
جس کے ماتھے پہ نئی صُبح کا جُھومر ہو گا
ہم نے اُس وقت کی دُلہن کو بہت یاد کیا
آج ٹُوٹے ہُوئے سپنوں کی بہت یاد آئی
آج بِیتے ہُوئے ساون کو بہت یاد کیا
ہم سرِ طور بھی مایوسِ تجلّی ہی رہے
اُس درِ یار کی چلمن کو بہت یاد کیا
مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغرؔ
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں
اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے
ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں ترے پیروں کے
کنول کھلا کرتے تھے
ہنسے تو دو گالوں میں
بھنور پڑا کر تے تھے
تری کمر کے بل پر
ندی مڑا کرتی تھی
ہنسی تری سُن سُن کر
فصل پکا کرتی تھی
جہاں تری ایڑی سے
دھُوپ اُڑا کرتی تھی
سنا ہے اس چوکھٹ پر
اب شام رہا کرتی ہے
دل درد کا ٹکڑا ہے
پتھر کی کلی سی ہے
اک اندھا کنواں ہے یا
اک بند گلی سی ہے
اک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
میں لاکھ جلاتا ہوں
وہ بھسم نہیں ہوتا ۔۔۔
گلزار
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے
جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے
ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے
مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے
راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے
وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے
ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر
زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے
اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں
میری ہر سانس ترے نام لکھی ہو جیسے
فیض انور
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیں
تیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو پیار سے پیار ملا
ہم نے تو جب کلیاں مانگیں کانٹوں کا ہار ملا
خوشیوں کی منزل ڈھونڈی تو غم کی گرد ملی
چاہت کے نغمے چاہے تو آہ سرد ملی
دل کے بوجھ کو دونا کر گیا جو غم خوار ملا
بچھڑ گیا ہر ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ
کس کو فرصت ہے جو تھامے دیوانوں کا ہاتھ
ہم کو اپنا سایہ تک اکثر بیزار ملا
اس کو ہی جینا کہتے ہیں تو یوں ہی جی لیں گے
اف نہ کریں گے لب سی لیں گے آنسو پی لیں گے
غم سے اب گھبرانا کیسا غم سو بار ملا
ساحر لدھیانوی
غزل
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شبِ غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
چشمِ ساقی سے پیو یا لبِ ساغر سے پیو
بےخُدی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے
ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اۓ دوست
تُو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر تیرا وعدہِ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا
حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایہِ گل میں ناصر
ہم بہت روۓ وہ جب یاد آیا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا
(ناصر کاظمیٓ)
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔ
سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے
احمد فراز
کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہو گا
وہ دن گئے جب کہ ہر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے
اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی، تو اس کا پتھر جواب ہو گا
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی، کہ سانس لینا عذاب ہو گا
سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو
جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا
نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے، غزل میں تاریخِ بے حسی ہے
جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے، وہ کل شریکِ نصاب ہو گا
مرتضیٰ برلاس~
ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
زندگی گزری مگر درد نہ جانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا
حسرتیں خاک ہوئیں مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانہ دل کا
ان کی محفل میں نصیرؔ ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
( پیر نصیر الدین نصیر)
It's my 10 year anniversary on Tumblr 🥳
ذی حالِ مستی مکن بہ رنجش
بحا لِ ھجراں بے چارا دل ھے
سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن
تمھارا دل یا ہمارا دل ہے
وہ آکے پہلو میں ایسے بیٹھے
کہ شام رنگین ھو گئی ہے
ذرا ذرا سی کھلی طبیعت
ذرا سی غمگین ہو گئ ہے
یہ شرم ہے یا حیا ہے کیا ہے؟؟؟
نظر اُٹھاتے ہی جھک گئی ہے
تمہاری آنکھوں پہ گر کے شبنم
ہماری پلکوں پہ رک گئی ہے
عجیب ہیں دل کے زخم یارو
نہ ہوں تو مشکل ہے جینا اس کا
جو ہو تو ہر درد ایک ہیرا
ہر ایک غم ہے نگینہ اس کا
سنائی دیتی ہے جسکی دھڑکن
تمھارا دل یا ہمارا دل ہے..
گلزار
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو وہ تذکرۂ نا تمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں
سنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں
لحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا
خیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی~