سلطان رکن الدین بیبرس کون تھا ؟؟
*سلطان رکنالدین بیبرس کون تھا ؟؟* سلطان بیبرس جو ایک غلام سے امیرالمومینین بنے تھے وہ مصر کہ سلطان سلطان قطز کہ ساتھ اس وقت دنیا کہ سامنے آئے جب سفاک منگولوں کہ سامنے کو ئی بند باندھنے والا نہیں تھا اسنے منگولوں کو اسے جھکڑ لیا کہ یا تو وہ مسلمان ہوکردائرہ اسلام میں داخل ہو گئے یا بیبرس کی تلوار کہ نظر ہوگئے اپ بھلا کہ بہادر شجاع فاتح دلیراور ایک عظیم مجاھد تھے اسکے بارے میں انگریز مصنف ہیر لڈیم اسکے زاتی اوصاف کے بارے میں خوب لکھتا ہے۔۔ وہ ایک عظیم فاتح اور دلیر جنگجو تھا ۔ وہ بھیس بدلنے کا شوقین تھا۔ کئی بار وہ اسٹیج سے غائب اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔تماشائیوں کو حیران کرنے میں اسے بڑا لطف آتا۔ کبھی وہ گداگر کا روپ دھارتا اور کبھی مہمان بن کر دسترخوان پر اکیلا مزے اڑاتا دکھائی دیتا وہ بلا کہ حاضر دماغ تھا ۔ ۔ مختصر یہ کہ وہ مشرق کا سچا اداکار تھا ۔ طرابلس کا راہب ولیم شاہد ہے کہ سپاہی کی حیثیت سے وہ جولیس سیزر سے کم نہ تھا ۔ وہ منگولوں کے سنہری غول کا تاتاری سپاہی تھا۔ فطری طور پر جنگجو۔ اسکی عسکری صلاحیتیں دشت و صحرا میں پروان چڑھیں۔ اسے دمشق میں تقریباً پانچ سو کے روپے میں فروخت کیا گیا وہ بحری مملوکوں کے جتھوں میں بطور تیر انداز شامل ہوا اور بالآخر انکا سردار بن گیا ۔ وہ اکیلا خاقان اعظم کی یلغار کے سامنے حائل ہوا اور منگولوں کے رخ پھیر دیے اسکے جوابی حملے نے سینٹ لوئس کا دل اور فرانسیسی بہادروں کی کمر توڑ دی تھی ۔ وہ صرف فاتح سلطان ہی نہیں تھا بلکہ امیر المومنین بھی ۔الف لیلہ کا نیک سیرت خلیفہ۔ وہ بڑا موجی بندہ تھا ۔محض خوش طبعی کیلئے شہزادہ کو قلی قلی کو شہزادہ بنادیتا بیبارس کو روپ بدلنے کا بڑا شوق تھا وہ بھیس بدل کروہ گھوڑے پر سوار Read the full article












