As Budget 2023 approaches, I, like many other investors and market analysts, will be closely watching how the government's financial plan wi
seen from Chile
seen from Malaysia
seen from United States
seen from Malaysia
seen from China

seen from United States

seen from United States
seen from Netherlands

seen from Netherlands
seen from United States
seen from United States
seen from Netherlands
seen from Germany

seen from Australia

seen from United States
seen from China
seen from Guatemala
seen from United States
seen from China

seen from United States
As Budget 2023 approaches, I, like many other investors and market analysts, will be closely watching how the government's financial plan wi
Mali - Analyse approfondie des Décisions Stratégiques du Conseil des Ministres du 9 Octobre 2024
Le communiqué du Conseil des Ministres du 9 octobre 2024, sous la présidence du Colonel Assimi Goïta, met en exergue plusieurs décisions majeures, stratégiques pour le Mali. Ces décisions, d’envergure législative, financière et sociale, témoignent de l’engagement du gouvernement de transition à renforcer la stabilité et préparer l’avenir du pays. 1. Règlement du Budget de l’État 2023 : Une…
Communique du conseil des ministres CM N°2024-41/SGG du mercredi 09 octobre 2024
Le Conseil des Ministres s’est réuni en session ordinaire, le mercredi 09 octobre 2024, dans sa salle de délibérations au Palais de Koulouba, sous la présidence du Colonel Assimi GOITA, Président de la Transition, Chef de l’Etat. Après examen des points inscrits à l’ordre du jour, le Conseil a : adopté des projets de texte ; procédé à des nominations ; entendu des communications.
Elon Musk tells Republic he and Tesla are coming to India, after meeting PM Modi
Elon Musk tells Republic he and Tesla are coming to India, after meeting PM Modi
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push();
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push();
Video
What Can Help You Meet Your Budget While Shopping for Important Items?
Shopping for important items can sometimes put a strain on your budget. However, with some smart strategies and careful planning, you can find ways to meet your budget and make wise purchasing decisions. This article will provide you with effective tips and techniques to help you stay within your budget while shopping for essential items.
Set a Budget and Prioritize
آئی ایم ایف اور بھرا ہوا سگریٹ
گزشتہ ہفتے جو سالانہ وفاقی بجٹ پیش کیا گیا، اس میں یکم جولائی سے کم سے کم ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار روپے سے بڑھا کے بتیس ہزار روپے کر دی گئی ہے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی اکثریت کے لیے پنشن کی کم ازکم حد ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کے دس ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ تو کیا اس اضافے کو ایک ایسی معیشت میں خوشخبری سمجھا جائے جس میں سالانہ بڑھوتری محض اعشاریہ انتیس فیصد ہوئی ہے۔ مہنگائی کا ماہانہ گراف اڑتیس فیصد سے اوپر جا چکا ہے، شرح سود اکیس فیصد پر برقرار ہے، ایک ڈالر ایک برس کے دوران مزید سو روپے کھا چکا ہے اور پاکستانیوں کی فی کس آمدنی گزشتہ برس کی سترہ سو چھیاسٹھ ڈالر کی حد سے اوپر نکلنے کے بجائے پندرہ سو اڑسٹھ ڈالر تک گر گئی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے موجودہ سیٹ اپ پر عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس کے مقابلے میں جاری مالی سال میں ساڑھے تین ارب ڈالر کم بھیجے ہیں اور وہ بھی ایسے وقت جب اس ملک کو ایک ایک ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔
زرعی شعبے میں گندم اور مکئی کی پیداوار میں اگرچہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے مگر پاکستان کو زرِمبادلہ فراہم کرنے والی کپاس کی فصل میں اکتالیس فیصد اور چاول کی پیداوار میں بائیس فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ صنعتی شعبہ بھی لگ بھگ تین فیصد سکڑ گیا ہے۔ کار ساز کمپنیاں تو بوریا بستر گول یا چھوٹا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہی ہیں۔ اب شیل پٹرولیم نے بھی اپنی سرمایہ کاری نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان تمام خبروں سے بیمار معیشت پر اور تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن جو بیرونی سرمایہ کار تھوڑا بہت پیسہ لگانے کے لیے سوچ بھی رہے تھے انہوں نے اب تک یہ سوچ کے پر دوبارہ سمیٹ لیے ہوں گے کہ جب شیل جیسی بڑی کمپنی اتنے برس منافع کمانے کے بعد بھی پاؤں مزید ٹکانے میں دشواری محسوس کر رہی ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ گراچی میں ایک محاورہ عام ہے ٹوپی گھمانا۔ اس کا مطلب ہے کہ احمد سے ادھار لی گئی ٹوپی محمود کے سر پر رکھ دو اور جب احمد واپسی کا تقاضا کرے تو محمود کے سر پر رکھی ٹوپی احمد کے سر پے رکھ کے کسی نئے شخص کو شیشے میں اتار کے اس کی ٹوپی محمود کے سر پے رکھ دو۔
پاکستانی معیشت بھی گزشتہ ایک برس سے ٹوپی گھمانے کے اصول پر رواں ہے۔چین سے قرضہ لے کے متحدہ عرب امارات کو واپس کر دو اور پھر امارات سے دوبارہ وہی قرضہ واپس لے کے چین کو لوٹا دو اور پھر امارات تقاضا کرے تو سعودی عرب سے قرضہ لے کے امارات کو دے دو اور پھر چین سے وہی پرانا قرضہ رول اوور کے نام سے چین سے لے کے سعودی عرب کو واپس کر کے اس سے دوبارہ وہی پیسے لے کے چین کو لوٹا دو اور اگلے دن پھر واپس لے لو۔ جب تک آپ کو پوری طرح ٹوپی گھمانے کا آرٹ سمجھ میں آئے تب تک خود آپ کے سر پر ٹوپی گھمائی جا چکی ہو گی۔ جیسا کہ میں نے شروع میں مثال دی کہ روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی ماہانہ شرح میں اڑتیس فیصد اضافے کے بعد غریبوں کی کم ازکم تنخواہ بڑھا کے انہیں محسوس کروایا گیا کہ سرکار کو ان کا کتنا درد ہے اور پھر اس اضافے کو پٹرول، ڈیزل اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کھا جائے گا۔ یوں سب ناراض اور سب بیک وقت خوش۔ اسے کہتے ہیں ڈارنامکس ۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران آئی ایم ایف نے شائد ہی کسی ملک کی جانب سے قرضے یا قسط کی درخواست مسترد کی ہو۔ مگر ہمارے وزیرِ خزانہ جس طرح آئی ایم ایف کو کبھی آنکھیں دکھاتے ہیں، کبھی ہر شرط مان لینے کا عندیہ دیتے ہیں اور پھر فوراً طعنہ زنی شروع کر دیتے ہیں۔ اس رویے نے آئی ایم ایف کو بھی کنفیوز کر رکھا ہے۔ چنانچہ وہ کچھ شرائط پوری ہونے کے بعد مزید کچھ شرائط پیش کر دیتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ مالی انتظام کی معیاد تیس جون کو ختم ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف نے سوا ارب ڈالر کی وہ قسط جو اکتوبر میں جاری کرنا تھی آج آٹھ مہینہ بعد بھی اسے بانس سے لٹکایا ہوا ہے۔ اسحاق ڈار ایک دن کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف دراصل پاکستان کو سری لنکا کی طرح دیوالیہ دیکھ کر ہمارے گھٹنے ٹیکوانا چاہتا ہے اور دوسری ہی سانس میں یہ پیش کش بھی کر دیتے ہیں کہ میں نے جو بجٹ پیش کیا ہے اگر آئی ایم ایف کو اس میں دی گئی رعائیتوں پر اعتراض ہے تو بجٹ سفارشات میں اب بھی رد و بدل ممکن ہے۔
پاکستان کا معاشی بدن ٹوٹ رہا ہے اور آئی ایم ایف اس بار ایک اور بھرا ہوا سگریٹ دوبارہ دینے کو تیار نہیں کیونکہ ہر بار اسے یہی سننے کو ملتا ہے کہ خدا کی قسم یہ آخری ہے، اس کے بعد نہیں پیئوں گا۔ لہذا جس طرح کمہار کا غصہ بالاخر گدھے پر نکلتا ہے۔ بعینہہ ڈار صاحب کا غصہ عملاً پہلے سے ادھ موئے عوام پر نکل رہا ہے۔ کم ازکم تنخواہ میں سات ہزار روپے اور پنشن میں ڈیڑھ سے ساڑھے تین ہزار روپے کا اضافہ کرنے کے بعد عام آدمی کو مہنگائی کے بھیڑیے سے بھڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب یہ ستر فیصد پاکستانی شہریوں کا امتحان ہے کہ بتیس ہزار روپے میں چار نفوس کا کنبہ روٹی ، دوا ، چھت اور تعلیم کا خرچہ پورا کر کے دکھائیں اور پنشنرز بارہ ہزار روپے میں پورا مہینہ نکال کے دکھائے۔ اس وقت اگر یہ سماج پوری طرح بکھر نہیں پا رہا تو اس کی وجہ بس وہ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ہے، جس سے اس کا مالک بارہ گھنٹے کی شفٹ کروانے کے بعد سرکار کی کم ازکم مقرر کردہ پچیس ہزار روپے کی تنخواہ کے واؤچر پر دستخط کروا کے اسے پندرہ سے بیس ہزار روپے دیتا ہے، کیونکہ اس سیکورٹی گارڈ نے اب تک کمپنی کی فراہم کردہ بندوق یا پستول کا رخ کسی موٹی توند والے سیٹھ کی طرف نہیں کیا۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو
آئی ایم ایف نے بجٹ کو مواقع ضائع کرنیوالا بجٹ قرار دیا
آئی ایم ایف نے بجٹ کو معاشی بحالی کا موقع ضائع کرنے کے مترادف قرار دے دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی اور قرضوں پر انحصار میں کمی، اور ڈیفالٹ کے امکانات کم ہونے تھے، لیکن وفاقی حکومت نے معاشی بحالی کا یہ موقع گنوا دیا ہے، تاہم ابھی بھی معاشی بحران کو کچھ طریقے اختیار کر کے ٹالا جاسکتا ہے، جیسا کہ حکومت کو آمدنی اور خرچ میں توازن لانا ہو گا۔ پاکستان کا نیٹ ریونیو 6,887 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 14,460 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہے، اخراجات میں کمی کیلیے حکومت کو دفاعی، تنخواہوں، پینشن اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں کمی کرنی ہو گی، لیکن حکومت نے بجٹ میں ان اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے، مہنگائی میں کمی کرنا ہو گی جو کہ 1957 سے بھی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اور مزید اضافے کا امکان ہے۔
ترسیلات زر، ایکسپورٹس اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا ضروری ہے، حکومت نے ان میں اضافے کیلیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسا کہ سمندر پار پاکستانیوں کیلیے ڈائمنڈ کارڈ اور لاٹری اسکیم وغیرہ کا اجراء کرنا، لیکن ایکسپورٹ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی کا رجحان برقرار ہے، جس میں اضافے کیلیے مزید اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے، کرنسی کی قدر میں ریکارڈ 80 فیصد گراوٹ کے باجود اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ درآمدی ٹیرف کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ بجٹ میں بیجوں، سولر ایکوپمنٹس، خام مال اور ذرعی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، لیکن برآمدات کو بڑھانے کیلیے ضروری ہے کہ درآمدی ٹیرف میں مزید اصلاحات کی جائیں، پاکستان کیلیے سب سے اہم توانائی کے شعبوں میں بھی اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بہت سے پری بجٹ سیمینارز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ اصلاحات کا وقت نہیں ہے، حالانکہ بہت سے ممالک ایسے ہی مواقع پر اصلاحات کر چکے ہیں، اسی لیے اس بجٹ کو مواقع ضائع کرنے والا بجٹ کیا گیا ہے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز
کیا پاکستان ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہا ہے؟
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے بجٹ پر اعتراضات کے ساتھ ہی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے ڈیفالٹ کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار متعدد بار یہ دعوی کر چکے ہیں کہ پاکستان اپنی تمام تر ادائگیاں وقت پر ممکن بنائے گا۔ لیکن بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق موڈیز کی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اس امکان میں اضافہ ہو رہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں کر پائے گا۔ معاشی امور کی ماہر ثنا توفیق کا کہنا ہے ڈیفالٹ کا خدشہ موجود تو ہے تاہم حکومت کے پاس فی الحال چند راستے موجود ہیں۔ وفاقی بجٹ پر آئی ایم ایف کے اعتراضات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’بجٹ کا جائزہ لیں تو ٹیکس اکھٹا کرنے کے لیے سارے ایسے اقدامات لے گئے جو پہلے ہی تھے، ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے پتا چلے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے گا اور آئی ایم ایف کا یہی اعتراض ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس وقت خدشہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ تاخیر کا شکار ہو گا جبکہ وقت کم ہے۔ کوئی درمیانی راستہ نکالنا پڑے گا جو اس لیے مشکل ہے کیونکہ وقت کم ہے۔‘
ثنا توفیق کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ’یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بغیر فنانسنگ کہاں سے ہو گی اور اب تک حکومت کی جانب سے کوئی پلان بی نظر نہیں آ رہا۔‘ ’متبادل یہ ہے کہ واجب الادا قرضے کی ری سٹرکچرنگ قرضے ہو یا ری پروفائلنگ ہو۔ اس طریقے میں ایک سال کے شارٹ ٹرم قرضے کو کھینچ کر تین سال تک کے لیے لے جایا جاتا ہے اور وہ ایک بہتر راستہ ہے۔ اس سے سانس لینے کی جگہ ملتی ہے۔‘ ’دوسرا ذریعہ کرنٹ اکاوئنٹ ہے۔ اگر حکومت خسارے سے بچے، امپورٹ کو کم رکھا جائے اور ایکسپورٹ کو بڑھانے کی کوشش کی جائے تو وقت حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا ہونا موجودہ عالمی حالات میں ایک مسئلہ ہے۔‘ ثنا توفیق کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حکومت اسی طرح معاشی میدان کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی۔ ’لیکن دوسری جانب اگر سیاسی حکومت کی جگہ نگران حکومت آتی ہے تو ان کے لیے ایک چیلنج ہو گا کہ وہ دو سے تین ماہ کیسے گزارتے ہیں، لگ رہا ہے کہ یہ سارا دباؤ نگران حکومت پر پڑنے والا ہے۔‘ ’اور یہ دیکھنا ہو گا کہ نگران حکومت کے ساتھ کریڈیٹرز بات چیت کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ معاملات مینیج نہیں ہو سکے، تو پھر بات ڈیفالٹ کی طرف جا سکتی ہے۔‘
زبیر اعظم بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد