پکاقلعہ آپریشن کے 100 سے زائد شہداء کی 28ویں برسی آج منائی جائے گی #aajkalpk #Karachi #haidarabad #Barsi شہداء کے لواحقین اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے جائیں گے اور فاتحہ خوانی ہو گی حیدرآباد: پکاقلعہ آپریشن کے 100 سے زائد شہداء کی 28ویں برسی آج ہفتے کے روز منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر شہداء کے لواحقین اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے جائیں گے اور فاتحہ خوانی ہو گی۔ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی حکومت میں جبکہ آفتاب شعبان میرانی کو وزیراعلیٰ سندھ بنایا گیا تھا 26 مئی 1990ء کو حیدرآباد میں ایک بڑا پولیس آپریشن کیا گیا تھا جو دو دن تک جاری رہا تھا، یہ پکاقلعہ آپریشن کے نام سے مشہور ہے جس میں سندھ بھر کے مختلفاضلاع سے جمع کئے گئے 12 ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں اور کراچی کے خصوصی ایگل اسکواڈ نے حصہ لیا تھا۔ 32 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں پکاقلعہ اور اطراف کے علاقوں کا محاصرہ کرکے تلاشی لی گئی تھی اور دوسرے روز اس کے خلاف مختلف علاقوں سے نکلنے والے احتجاجی جلوسوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔ جس میں 100 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ 27 مئی کو سہ پہر کے بعد فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر پولیس فورس کو نکالا تھا۔نگراں حکومت میں ٹریبونل قائم ہونے کے باوجود آج تک اس سانحہ کی کوئی تحقیقات نہیں ہو سکی اور مجرموں کو سزا نہیں مل سکی اور نہ ہی حیدرآباد سے منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور ان کی جماعت ایم کیو ایم نے کبھی قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے فلور پر اس قتل و غارتگری میں ملوث مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لئے آواز اٹھائی، بھٹائی ہسپتال لطیف آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شائق علی جنہوں نے 67 میتوں کی شناخت کے سلسلے میں فہرست آویزاں کی تھی ان کو چند ماہ بعد کھائی روڈ پر انہیں ان کے کلینک میں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا اور ان کے قاتلوں کا بھی آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔













