محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے
محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے
محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھےہمارے چرچے ہر اک زباں پر رواں دواں تھے تو تم کہاں تھےوفا کے وعدے کئے جو تم نے وہ آج تم کو ہیں یاد آئےلگی تھیں جب ہم پہ تہمتیں کتنے بیکراں تھے تو تم کہاں تھےچڑھا کے ہم کو وفا کی سُولی پہ شہر سارا ہی ہنس رہا تھاکہ پتھروں کی برستی بارش میں بےنشاں تھے تو تم کہاں تھےوہ اب تلک دکھ ہیں ساتھ میرے جو مانگتے تھے تری محبتپڑی ضرورت تھی تیری جب تو نہ تم یہاں…
View On WordPress











