my name jeff

seen from Netherlands
seen from Spain
seen from T1
seen from United States

seen from Suriname
seen from Germany
seen from Brazil

seen from United States
seen from South Korea

seen from Netherlands

seen from Belgium

seen from Algeria
seen from United States

seen from Malaysia

seen from Germany
seen from China
seen from United Kingdom
seen from Russia

seen from United States

seen from Belgium
my name jeff
CAC/PAC JF-17 Thunder
PAC JF-17 Thunder Multi-Role Fighter
The PAC JF-17 Thunder also designated CAC FC-1 Xiaolong (English: Fierce Dragon), is a third generation, light-weight, single-engine, multi-role combat aircraft developed jointly by the Chengdu Aircraft Industries Corporation (CAC) of China, the Pakistan Air Force and the Pakistan Aeronautical Complex (PAC) The JF-17 was primarily developed as a low-cost multi-role combat aircraft. It was designed for further potential upgrades when necessary, and designed with flexibility for various mission and customer needs.This aircraft shows Chinese aviation military equipment is becoming mature and caught the attention of many potential customer..
پاکستان نے بھارتی رافیل طیارہ کیسے گرایا؟ رائٹرز نے لمحے لمحے کی روداد بتا دی
7 مئی کو نصف شب کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی ایک غیر معمولی فضائی جھڑپ میں بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیارے رافیل کی تباہی نے دنیا بھر کے عسکری حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس واقعے کی اصل وجوہات، تکنیکی پہلوؤں اور خفیہ معلومات کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی ہے۔
پس منظر: کشیدگی اور حملے کی فضا ہاک بھارت کا آغاز پہلگام حملے کے بعد ہوا جس میں 26 بھارتی سیاح ہلاک ہو گئے تھے اور بھارت روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ جس پر پاکستان نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا تھا تاہم بھارت نے اس واقعے کی آڑ میں 7 مئی کی صبح پاکستان پر فضائی حملہ کیا جس کے ردِعمل میں پاکستان نے غیر معمولی فوجی چابک دستی کا مظاہرہ کیا۔
آپریشن روم میں پاک فضائیہ کے سربراہ ہر وقت موجود رہے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کئی روز سے ایئر آپریشن روم میں موجود تھے اور لمحے لمحے کی نگرانی کر رہے تھے۔ جیسے ہی بھارتی طیاروں کی بڑی تعداد ریڈار پر ظاہر ہوئی پاک فضائیہ کے چیف نے فوری طور پر چینی ساختہ جے-10 سی (Vigorous Dragon) طیارے روانہ کرنے کا حکم دیا اور خاص طور پر رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی۔
چینی میزائل PL-15: گیم چینجر ثابت ہوا رائٹرز نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ رافیل کی تباہی کی سب سے اہم وجہ بھارتی انٹیلیجنس کی غلطی بنی، جس نے چینی ساختہ PL-15 میزائل کی اصل رینج کا غلط اندازہ لگایا۔ بھارتی پائلٹ یہ سمجھتے رہے کہ وہ پاکستانی میزائلوں کی پہنچ سے باہر ہیں، حالانکہ اصل میں PL-15 کی رینج 200 کلومیٹر یا اس سے زیادہ نکلی۔ اس میزائل کو پاکستانی جے-10 سی طیارے نے فائر کیا، اور یہی وار رافیل کو لے ڈوبا۔
پاکستانی الیکٹرانک وارفیئر؛ بھارت پر کاری وار پاکستان نے نہ صرف میزائلوں کے ذریعے برتری حاصل کی بلکہ اس نے ایک جدید "کِل چین" (Kill Chain) نظام بھی ترتیب دیا۔ رائٹرز کے بقول چار پاکستانی حکام نے تصدیق کی کہ یہ نیٹ ورک زمین، فضا اور خلا میں موجود سینسرز کو جوڑتا ہے، جس میں پاکستانی ساختہ Data Link-17 اور سویڈن کا ساختہ نگرانی کرنے والا طیارہ بھی شامل تھا۔ اس نظام کے تحت، پاکستانی جے-10 سی طیارے ریڈار بند رکھ کر دشمن کی نظروں سے چھپ کر پرواز کرتے رہے، جب کہ دور پرواز کرتا نگرانی طیارہ انہیں ریئل ٹائم فیڈ دیتا رہا۔
عالمی اثرات: فرانس اور چین کا موازنہ رافیل طیارے کو گرائے جانے کی خبر کے بعد فرانسیسی کمپنی Dassault کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز
پاکستان نے بھارتی طیارے کیسے گرائے ؟
پاک بھارت ٹکرائو کے پہلے مرحلے میں سب سے اہم واقعہ پاکستانی ائیرفورس کی غیر معمولی کارکردگی رہی۔ پاکستان نے بھارت کے پانچ اہم فائٹر طیارے مار گرائے ، ان میں تین رافیل ، ایک سخوئی تیس اور ایک مگ انتیس طیارہ بتایا جا رہا ہے ۔ اس دعوے کو بی بی سی، الجزیرہ اور رائٹر جیسی بڑی عالمی نشریاتی ایجنسیوں نے بھی کنفرم کیا ہے، اس لئے اسے صرف پروپیگنڈہ یا دعویٰ نہیں کہہ سکتے، جبکہ ایک رافیل طیارے کے ملبے کی تو ویژول کنفرمیشن ہو گئی ہے، اس کے ملبے کو بلڈوزر سے اٹھانے کی ویڈیوز آئیں تو عسکریات سے دلچسپی رکھنے والوں نے پہچان لیا کہ یہ رافیل ہی کا انجن ہے۔ ممکن ہے عام آدمی حتیٰ کہ پڑھے لکھے افراد کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہو سکے گا کہ رافیل طیارے کا یوں نشانہ بن جانا کتنی بڑی اور اہم خبر ہے۔
رافیل طیارے کی خصوصیات پہلے یہ سمجھ لیں کہ فائٹر طیارے مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں، ہر ایک کا خاص کردار ہوتا ہے، بعض طیارے دوسرے جگہوں پر اٹیک کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں، انہیں اپنی سپیڈ اور ریڈار سسٹمز وغیرہ کی وجہ سے فضا میں مکمل برتری (Air superiority ) حاصل ہوتی ہے . بعض ڈوگ فائٹ یعنی طیاروں کا باہمی جنگ کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ رافیل ایک ملٹی رول طیارہ ہے جو ایئر سپیریورٹی، ایئر ٹو گراؤنڈ حملے، نیوکلیئر اسٹرائیک اور ایئر ٹو ایئر لڑائی کے مشنوں کو کامیابی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رافیل طیارہ متعدد فضائی، بحری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ رافیل میں خاصی حد تک سٹیلتھ صلاحیتیں بھی موجود ہے۔ سٹیلتھ طیارے کا مطلب ہے کہ جو ریڈار پرنظر نہ آ سکے۔ رافیل کا رڈار کراس سیکشن (RCS) بہت کم ہے، عام فائٹر طیارہ اسے اپنے ریڈار پر دیکھ ہی نہیں سکتا اور تب تک رافیل اسے اپنے جدید ترین ریڈار پر دیکھ کر لاک کر دیتا ہے، لاک کا مطلب کہ میزائل فائر کر دینا۔ جب میزائل فائر ہو گیا تو پھر وہ طیارہ تو گیا، وہ جہاں جہاں جائے گا، میزائل پیچھے ہی جائے گا۔
رافیل کی ایک اور خوبی اس کا زیادہ وزن اٹھانا ہے، اس کا انجن بھی ڈوئل یعنی ڈبل ہے اور ہارڈ پوائنٹس بھی زیادہ ، یعنی یہ عام فائٹر طیارے سے زیادہ میزائل لے کر جا سکتا ہے۔ رافیل طیارہ ایک فعال ایریا اسکیننگ رڈار (AESA) کے ساتھ آتا ہے، جو طیارے کو دور سے دشمن کے طیاروں کو ٹریک اور نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ رافیل جدید ترین الیکٹرک وارفیئر سسٹم سپیکٹرا (SPECTRA) سے لیس ہے ۔ یہ سسٹم سپیکٹرا اسے دشمن کے رڈار سے بچنے اور ایئر ڈیفنس سسٹمز سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ رافیل کی آپریشنل رینج بھی بہت زیادہ ہے، سینتس سو کلو میٹر کے لگ بھگ۔ یہ دراصل فور پلس پلس (4++) جنریشن طیارہ ہے۔ یاد رہے کہ ایف سولہ فورتھ جنریشن طیارہ ہے۔ جبکہ جے ایف سترہ تھنڈر، سخوئی تیس۔ میراج دو ہزار وغیرہ سب فورتھ جنریشن ہی ہیں۔ رافیل کو ان سب پر برتری حاصل ہے۔
پاکستانی جے ٹین سی اور پی ایل پندرہ میزائل پاکستان نے یہ کرشمہ چین سے لئے گئے فورپلس جنریشن طیارہ جے ٹین سی ڈریگن اور چینی ساختہ جدید ترین میزائل پی ایل ای پندرہ (PLe15) کی مدد سے انجام دیا۔ چینی ساختہ پی ایل پندرہ میزائل جدید اور لانگ رینج ہے۔ اسے پاکستان نے جے ٹین سی کے علاوہ جے ایف سترہ تھنڈر بلاک تھری پر بھی لگا رکھا ہے۔ پی ایل میزائل تباہ کن سمجھا جاتا ہے، اسکی رینج خاصی زیادہ ہے، ڈیڈھ سو کلومیٹر کے لگ بھگ ۔ PL-15E ایک BVR (Beyond Visual Range) میزائل ہے، جو دشمن کے طیاروں کو بصری رابطہ کیے بغیر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد دشمن کے طیاروں کو طویل فاصلے سے ہٹ کرنا ہے۔ اس کی رفتار بہت زیادہ تیز ہے اور ایک بار فائر ہونے کے بعد اس سے بچنا بڑا مشکل ہے۔ دوسری طرف رافیل کے پاس بھی جدید ترین میزائل موجود ہیں۔ رافیل طیارے مختلف ایئر ٹو ایئر میزائلوں سے لیس ہیں، جن میں MICA اور Meteor شامل ہیں۔ میکا MICA ایک BVR میزائل ہے، اور Meteor ایک طویل رینج کا BVR میزائل ہے۔ میٹیور Meteor میزائل کو رافیل طیارے میں شامل کیا گیا ہے اور یہ دنیا کے سب سے جدید اور طویل رینج والے BVR میزائلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ MICA کی رینج تقریباً 80 کلومیٹر ہے۔ میٹیور Meteor کی رینج تقریباً 150 کلومیٹر ہے، جو PL-15E سے ملتی جلتی ہے۔
رافیل بمقابلہ جے ٹین سی ڈریگن رافیل کو تھوڑی سی سبقت حاصل ہے کیونکہ اس کا ریڈار سسٹم زیادہ جدید ہے اور الیکٹرانک وار فیئر سسٹم سپیکٹرا کا اسے ایڈوانٹیج ہے، رافیل کی آپریشنل رینج بھی جے ٹین سی سے دوگنا ہے۔ اصل بات آج کہ ماڈرن ائیر فائٹ میں یہ ہے کہ کون سا طیارہ دوسرے کو کتنا دور سےاپنے جدید ریڈار کی مدد سے دیکھ کر اسے لانگ رینج میزائل سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی اصل فرق ہے۔ اب ڈوگ فائٹ کی اکثر اوقات نوبت ہی نہیں آتی۔ رفال کو ڈیٹیکٹ کرنا خاصا مشکل تھا اور اس طرح ایسا کیا جائے کہ رافیل کے ریڈار پر نہ آتے ہوئے اسے نشانہ بنایا جائے، یہ باقاعدہ ایک بڑا ٹآسک تھا۔ اب پاکستانی پائلٹس نےنجانے یہ کیسے ممکن کر دکھایا، مگر بہرحال یہ کرشمہ ہوا ہے کہ جے ٹین سی کے پی ایل ای پندرہ میزائلوں نے تین رافیل طیارے تباہ کر دئیے۔ رافیل طیارہ زیادہ جدید اور بہت زیادہ مہنگا سمجھا جاتا ہے، جے ٹین سی سے شائد دو تین گنا زیادہ مہنگا ۔
میں بعض فیس بک گروپس کا حصہ ہوں جہاں مختلف انٹرنیشنل ماہرین اور عسکریات سے دلچسپی رکھنے والے نوجوان موجود ہیں۔ چند دن پہلے اس پر بحث ہوئی کہ اگر رافیل اور جے ٹین سی میں مقابلہ ہوا تو کون جیتے گا۔ اکثر کا خیال تھا کہ رافیل کو برتری ملے گی اور جے ٹین سی تب ہی غالب آ سکتا ہے جب وہ دو تین ہوں اور رافیل اکیلا ، تب بھی جے ٹین سی کو حملے میں پہل کرنا پڑے گی، ورنہ اگر رافیل نے وار کر دیا تو ڈریگن جے ٹین سی مارا جائے گا۔ اکثر دفاعی ماہرین کا ٰخیال تھا کہ پاک بھارت جنگ میں رافیل فیصلہ کن عنصر ثابت ہو گا اور بھارت کو سبقت دلائے گا۔ کل رات جو کچھ ہوا ، وہ برعکس ہے۔ پاکستانی پائلٹس نے کمال کر دکھایا۔ چینی ہتھیار اور چینی طیارے نے اپنی سبقت ظاہر کر دی۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی ملک نے فور پلس پلس جنریشن طیارے کو گرایا ہے۔ یعنی رافیل کا گرنا ایک انہونی ہوئی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ اس واقعے سے رافیل طیارہ بنانے والی کمپنی کے شیئرز نیچے آئے ہیں جبکہ چینی جے ٹین سی بنانے والی کمپنی کے شیئرز اوپر گئے ہیں۔ ابھی تو ایک دن ہوا ہے، لگتا یہی ہے کہ ڈریگن کی دنیا میں مانگ بڑھے گی اور چینی اسلحے پر دنیا کا اعتبار بھی مستحکم ہو گا۔ بھارتی عسکری ماہرین متفکر ہوں گے کہ رافیل کا یہ نقصان کیسے ہوا؟ وہ یقیناً اپنی حکمت عملی بنا رہے ہوں گے، سردست تو پاکستان ائیر فورس کے افسران اور ماہرین مسرور اور مطمئن ہوں گے۔ دیکھیں آنے والے دنوں میں ان دونوں طیاروں کا ٹکرائو پھر ہوتا ہے یا نہیں
بشکریہ عامر خاکوانی