کشکول۔۔۔
روایت ہے کہ ایک فقیر اپنے درویش مرشد کی ملاقات کو آیا، جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی۔ کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمین میں گاڑا گیا ہے۔ فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا: "پیر و مرشد یہ سب کیا ہے؟ میں تو آپ کے زُہد اور الله تعالٰی پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا۔ اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں۔" درویش نے ہنس کر کہا: "میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں۔" یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا۔ اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ہی پہن لے۔ کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا: "میں کشکول تو آپ کے خیمے میں بھول آیا۔ اُس کے بغیر میرا گزارہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ رکیں! میں ابھی جا کر کشکول اٹھا لاتا ہوں۔" درویش نے ہنس کے کہا: "میرے دوست! میری چھونپڑی کی سونے کی میخیں زمین میں دھنسی ہیں میرے دل میں نہیں۔ لیکن تمہارا کشکولِ گدائی ابھی بھی تمہارے تعاقب میں ہے۔" دنیا میں زندگی گزارنے کا مطلب وابستگی نہیں ہے۔ دنیا کا تصوّر ذہن میں بٹھانا وابستگی ہے۔ دنیا آپ کے دماغ سے نکلے گی تو الله تبارک و تعالٰی سے وابستگی حاصل ہو گی۔ Read the full article














