ہم وہ قوم ہیں جوسال بھر ویگن میں کسی عورت کے کاندھے سے کاندھا ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔بس میں کسی عورت پر پیٹھ ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہسپتال میں نیم مردہ لڑکی کو ڈاکٹر سے لے کر صفائی کرنے والے تک بہانے بہانے سے ہاتھ لگاتے ہیں۔ دفتر میں کام کرنے والی واحد لڑکی سے سارے دفتر کو پیار ہو جاتا ہے۔سائیکل والے سے لے کر کار والے تک گھر چھوڑنے کی آفر کرتے ہیں۔کسی ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر سب سے پہلے اس کے سینے کے کوہستان سر کرنے کی کوشش کریں گے۔ راہ چلتی خاتون کا حدود اربعہ پہلے ناپتے ہیں اور چہرے کو بعد میں دیکھتے ہیں۔کسی سڑک کے کنارے کھڑی لڑکی کے سامنے دس منٹ میں پندرہ گاڑیاں روکیں گے۔سکول اور مدرسے کے بچوں پر اپنے استادوں کی بری نظرہو گی۔کیا علامے ،کیا بزرگ،کیا لبرل ، سب اپنی گرل فرینڈ سے پہلا سوال اس کی ورجینیٹی کا کریں گے۔ منبروں سے چلا چلا کر دہائیاں دیں گے کہ ہائے ہائے معاشرے میں کوئی باکرہ نہ رہی۔انٹرنیٹ سب سے ذیادہ پورن سرچ کریں گے۔بچیوں اور بچوں کے ساتھ بلاتکار کریں گے۔لغت میں لڑکی کو’بچی‘…. ’ مال …. ’پیس‘اور ’آئٹم‘ کہیں گے۔ ’ہیڈ لائٹس‘، ’سامان اور ’مال ‘ جیسی مکروہ اصطلاحات سے انسانی اعضا کا ذکر کریں گے۔قوم کی گالی میں ہمیشہ کسی کی ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا ذکر ہو گا۔ اور پھر چودہ فروری کو ہم حیا ڈے منائیں گے
جمیل اصغر











