مفتی کفایت اللہ نے ایسا کیا اعلان کر ڈالا کہ حکومت نے ان سے سکیورٹی واپس لے لی؟
مانسہرہ (جی سی این رپورٹ)کرونا وائرس سے جاں بحق حاجی طارق کی نماز جنازہ و تدفین کے لئے مفتی کفایت اللہ کے پہنچتے ہی انتظامیہ اور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں ضلع بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک شدگان کی نماز جنازہ پڑھانے اور ضلعی انتظامیہ کے احکامات نہ ماننے کا اعلان_ڈی پی او مانسہرہ نے مفتی کفایت اللہ کی سیکورٹی واپس لے لی تفصیلات کے مطابق گزشہ روز کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے تبلیغی مرکز کے امیر حاجی طارق کی وفات ہوجانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے لاش قبضہ میں کر کے ایک بجے کے بجائے 11بجے ہی جنازہ پڑہا کر تدفین کی تیاری کی تھی کہ مفتی کفایت اللہ پہنچ گئے جس سے پولیس کی دوڑیں لگ گئیں انہوں نے جنازہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور دوبارہ خود جنازہ پڑھا کر خود تدفین کی اور کسی بھی سرکاری اہلکار کو پاس نہیں آنے دیا اس موقع پر مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ اللہ پاک ہر ایک کو اس مہلک بیماری سے بچائے اور اگر کسی جگہ کرونا سے کوئی ہلاکت ہوئی تو میں خود جنازہ بھی پڑھاؤں گا اور کسی سرکاری احکامات کو نہیں مانیں گے مفتی کفایت اللہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی ان سے سرکاری سیکورٹی واپس لے لی گئ ہے جس پر علماء کرام اور ہر مکتب فکر کے عوام نے ڈی پی او کی اس لاپروائی کو انتقامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مفتی کفایت اللہ کے ساتھ نا خوشگوار واقعہ ہوا تو اس کی زمہ دار ڈی پی او مانسہرہ ہونگے__ مرکز مدنی مسجد کے امیر طارق محمود صاحب کا جنازہ اسیر ختم نبوت سالار حریت جرنیل جمعیت مفتی کفایت اللہ صاحب کی اقتداء میں ادا کردی گئ, تدفین مدنی مسجد کے قبرستان میں کر دی گئیاس موقع پر ہر آنکھ اشکبار،رقت آمیز مناظر Read the full article











