طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر بڑی پیشرفت
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے قومی مفاہمت کے لیے ایک کونسل کا تقرر کیا ہے جو طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہو گی۔ کونسل کے ارکان کی تقرری کے بعد طالبان کے ساتھ بین الافغان بات چیت کا جلد آغاز ہونے کی توقع ہے۔ ان مذاکرات کا تعین فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے شدہ امن معاہدے میں بھی کیا گیا تھا تاکہ جنگ زدہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا سکے۔ تاہم بین الافغان مذاکرات کی شروعات میں رکاوٹوں کی وجہ سے ہونے والی تاخیر نے واشنگٹن کو مایوس کیا ہے۔ کچھ ماہرین کو توقع کی تھی کہ اس ماہ کے شروع میں مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ افغان صدر اشرف غنی نے ہفتے کی شب اپنے سابق حریف عبداللہ عبداللہ کی سربراہی میں 46 رکنی کونسل کے قیام کے لیے ایک فرمان جاری کیا۔ یہ کونسل اس 21 رکنی مذاکراتی ٹیم سے علیحدہ ہے جسے صدر غنی نے مارچ میں مقرر کیا تھا۔ مذاکراتی ٹیم کو قطر میں موجود طالبان کے سیاسی دفتر میں انٹرا افغان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے خلیجی ریاست جانا ہے۔ دوسری جانب نئی کونسل کے پاس مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ہو گا اور وہ آخر میں ان نکات پر فیصلہ کرے گی جو مذاکرات کرنے والی ٹیم طالبان کے ساتھ اٹھائے گی۔ قومی مفاہمت کی یہ اعلی سطحی کونسل افغان سیاسی شخصیات پر مشتمل ہے جس میں موجودہ اور سابق عہدیدار شامل ہیں۔ اس کے علاؤہ کونسل میں نو خواتین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جن میں سے ایک کو عبداللہ کا نائب نامزد کیا گیا ہے۔ اشرف غنی نے سابق صدر حامد کرزئی کو بھی کونسل کا رکن مقرر کیا تھا لیکن ان کے پیشرو نے اتوار کو ایک بیان میں اس تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی حکومتی ڈھانچے کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کونسل میں Read the full article









