پاکستان میں انتشار مت پھیلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
پاکستان میں انتشار مت پھیلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر ۔ محمد سکندرشاہ ، بانیان پاکستان نے پاکستان بنانے سے پہلے پاکستان بنانے کا مقصد واضح کردیا تھا ، علامہ اقبالؒ نے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس کے الفاظ یہ تھے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کو توڑنا اور اس کے اقتدار کو ختم کرنا ہم پر فرض ہے لیکن آزادی سے ہمارا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ہم آزاد ہوجائیں بلکہ ہمارا اولین مقصد یہ ہے کہ اسلام قائم رہے اور مسلمان طاقتور بن جائیں ، اس لئے میں ایسی حکومتوں کے بارے میں رائے نہیں دے سکتا جن کی بنیاد انہی اصولوں پر ہو جن پر انگریز حکومت قائم ہے ، ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل کو قائم کرنے کا کیا معنیٰ ، ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان مکمل نہ سہی لیکن ایک بڑی حد تک دارالسلام بن جائے ، لیکن اگر آزادی ہند کا یہ نتیجہ ہو جیسا کہ دارالکفر ہے یا اس سے بھی بد تر ہوجائے تو ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا ، بولنا ، روپیہ خرچ کرنا ، لاٹھیاں کھانا ، جیل جانا ، گولیوں کا نشانہ بننا سب حرام اور قطعی حرام سمجھتا ہوں ، پاکستان بنانے کے لئے مصور پاکستان کے یہ تصورات تھے لیکن بدقسمتی سے قوم کو پرفریب نعروں میں الجھا کر اصل مقصد سے دور کردیا گیا ، مقصد سے دور ہونا ہی ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے ، ہم اپنے مسائل کیسے حل کریں اس کے لئے مجھے طیب اردوان کا یہ جملہ ذہن نشین ہوگیا کہ جمہوریت اسلامی نظام کی طرف جانے والا ایک راستہ ہے ، اس لئے میں نے ہمیشہ جمہوریت کو سپورٹ کیا ہے ، لیکن پاکستان میں موجود دینی فکر کے لوگ آج تک جمہوریت کے بارے میں کنفیوژ ہیں اس میں دینی لوگوں اور جمہوریت کا قصور کم اور اُن سے ہاتھ کرنے والوں کا قصور زیادہ ہے ، جن لوگوں نے اسلام کا نام لے کر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی انہیں چاہیئے Read the full article














