Regular Sinestro
seen from T1
seen from Türkiye

seen from Singapore
seen from Türkiye

seen from United States
seen from Germany

seen from United States
seen from China
seen from United Kingdom
seen from United Kingdom
seen from China
seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from United Kingdom
seen from South Korea

seen from Australia
seen from Türkiye
seen from United States
seen from China
Regular Sinestro
Lmao gottem
وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
ٹوکیو: صحت کے مسائل کے سبب اہم ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوں،جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔65 سالہ شنزو ابے نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے مسائل کے سبب اہم ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوں۔شنزو ابے 7 سال 8 ماہ تک جاپان کے وزیر اعظم رہے اور انہیں جاپان کی تاریخ کا سب سے زیادہ مدت تک وزیراعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔اس سے قبل 2006 سے 2007 تک شنزو ابے جاپان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں جب کہ 2005-06 میں چیف کیبنٹ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ Read the full article
حکومت میں تبدیلی! وزیر خارجہ سے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا
حکومت میں تبدیلی! وزیر خارجہ سے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا وارسا (ویب ڈیسک ) یورپی ملک پولینڈ کے وزیر خارجہ جیکیک کاپوتووک نے حالیہ انتخابات میں اینڈرزیج ڈوڈا کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد حکومت میں تبدیلی کے طور پر استعفیٰ دے دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ جیکیک کاپوتووک رواں ہفتے مستعفی ہونے والے چوتھے اعلی عہدیدار ہیں۔وزیر خارجہ جیکیک کاپوتووک کے استعفے کے حوالے سے وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا کہ جیکیک کاپوتووک نے گزشتہ بیان میں کہا تھا کہ صدارتی انتخابات کے بعد پولینڈ ڈپلومیسی کے سربراہ کی تبدیلی کے لیے بہترین وقت ہے اور جو بھی نئے وزیر خارجہ یا ان کے جانشین آئیں گے وہ موجودہ لائن کو جاری رکھتے ہوئے بین الاقوامی میدان میں پولینڈ کی پوزیشن کو مزید تقویت بخشیں گے۔رواں ہفتے مستعفی ہونے والوں میں وزیر صحت اور ان کے نائب اور ڈیجیٹائزیشن کے نائب وزیر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پولینڈ کے 12 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں صدر اینڈرزیج ڈوڈا کے دوبارہ انتخاب پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ توقع ہے کہ وہ حکومت میں تبدیلی کے تناظر میں وزارت چھوڑ دیں گے۔ Read the full article
بیروت دھماکے:عوامی دباؤ پر حکومت مستعفی
لبنان کے وزیر اعظم حسن دیاب نے دارالحکومت بیروت میں گذشتہ ہفتے خوف ناک دھماکے میں 163 ہلاکتوں اور چھ ہزار زخمیوں کے بعد عوامی احتجاج کے دباؤ میں آ کر اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ دیاب نے پیر کی شام ٹی وی پر عوام سے خطاب میں بیروت کی بندرگاہ پر ایک گودام میں سات سال سے موجود انتہائی دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کو 'بدعنوانی کی بیماری' کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا آج ہم عوام کی جانب سے سات سال سے چھپے اس سانحے کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبے اور حقیقی تبدیلی کی خواہش کا احترام کر رہے ہیں۔ 'میں حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔' خیال رہے کہ وزیر اعظم دیاب کی کابینہ پر پہلے ہی مستعفی ہونے کا زبردست دباؤ تھا اور حالیہ دنوں میں یک بعد دیگرے وزرا کے استعفے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ غازی وزنی نے آج ہی استعفیٰ دیا، ان سے پہلے کابینہ کے تین ارکان بھی ایسا کر چکے ہیں۔ لبنان میں چار اگست کو بیروت میں ہونے والے بڑے دھماکے کے بعد حکومت مخالف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ بستور جاری ہے، جو حکومت پر دباؤ کی بڑی وجہ تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت کو مظاہرین اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اور مظاہرین ملک میں موروثی سیاست، فرقہ واریت اور اشرافیہ کے سیاسی نظام کے خاتمے کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔ دھماکے کے چھ دن بعد بھی رضا کار گلیوں میں موجود ملبے کو صاف کر رہے ہیں جبکہ بین الااقوامی امدادی ٹیمیں بھی سراغ رساں کتوں کی مدد سے زندہ بچ جانے والوں اور ہلاک شدگان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں . لبنانی Read the full article