چودھری برادران کی نیب میں طلبی،ق لیگ کے رہنما وزیراعظم عمران پر برس پڑے
اسلام آباد(جی سی این رپورٹ)وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے کوئی قرضہ معاف نہیں کرایا، حکومت اور تما م ادارے کورونا سے بچائو کیلئے کام کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے نیب واحد ادارہ ہے جس نے ان حالات میں بھی مقدمات میں ملزموں کو بلانے کو ترجیح دی، اگر ہماری قیادت کی عزت اچھالنے کی کوشش کی گئی تو ہم ایک نہیں 10 حکومتیں چھوڑ دیں گے۔ وزیر اعظم کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ہم افادیت کھو چکے ہیں؟۔پاکستان اس نہج پر پہنچا ہے تو کہیں گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے،کہیں تو بدمعاشی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے ایک انٹرویو میں کہا اس وقت تما م سیاسی جماعتیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، نیب کا ایسے وقت میں بلانا سمجھ سے بالا تر ہے، آپ عصر حاضر کے تما م سیاستدانوں کو تاحیات نااہل کردیں اور جہاں سے ملتے ہیں فرشتے ڈھونڈ کر لے آئیں ، ہم نے کسی چیز کو چیلنج نہیں کیا،ہمارے صرف تین بنیادی نکات ہیں، چودھری برادران کیخلاف جو انکوائریز چل رہی ہیں ان میں سے ملازمتوں کا کیس 35 سال پرانا ہے، اس وقت جاوید قریشی سیکرٹری بلدیات تھے وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ،اس کے بعد آنیوالے سیکرٹری بھی گزرگئے،اب جن 11ملازموں کا پوچھا جارہا ہے پتا نہیں وہ بھی زندہ ہیں یا وفات پاگئے۔مشرف دور میں چودھری برادران کے گھر پر چھاپے پڑے،واش روم تک چیک کیے گئے،سارا ریکارڈ دیا گیا،اب تک وہ ریکارڈ نیب کے پاس ہے،ایک پروگرام میں ڈی جی نیب لاہور سے پوچھا گیا تھا کہ چودھری برادران کے کیسز کا فیصلہ کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ 18 سال پرانے کیس ہیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ ان کیسز میں کچھ نہیں ، نیب نے خود لکھا تھا کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں ہے، لیکن اب پھر تیاری ہورہی ہے کہ کوئی ریفرنس دائر کیا جائے ،اگریہ باہر کے اثاثہ جات کے انتظار میں ہیں تو ان نیب آفیسر ز کی قابلیت ،افادیت پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ 20 سال میں تحقیقات نہیں کرسکے۔ طارق بشیر چیمہ نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر جو کیس بن رہے ہیں وہ حالیہ وقت کے ہی ہیں، تاہم میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ٹھیک ہیں، لیکن پھر بھی ان دونوں جماعتوں کے مقابلے میں ہمارے کیس تو 1999 کے ہیں۔ 2007 کے بعد چیف جسٹس افتخار چودھری کے بنائے گئے کمیشن نے بھی سفارش کی تھی کہ اس کیس میں کچھ نہیں اسے مزید جاری رکھنے کی ضرورت نہیں۔نیب نیشنل بینک تک بھی پہنچا اوربینک کے سیکرٹری نے کنسورشیم میں لکھا کہ چودھری برادران نے کوئی قرضہ معاف نہیں کرایا،کسی بینک نے آج تک قرضے معاف کرانے کا کلیم نہیں کیا ، اس حوالے سے کوئی اشتہار ہو تو دکھا دیں۔ انہوں نے انٹرویو میں کہا چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے قرضے لئے ہی نہیں تو معاف کیسے ہوگئے،سب کچھ سامنے ہے لیکن نیب کیس بند نہیں کررہا ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ نیب ان کیسز کو نہ دیکھے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اتنے سالوں سے یہ کیس کیوں نہیں دیکھے گئے ۔ وزیر اعظم کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیکھیں اس وقت مقدمات کیوں کھل رہے ہیں ہم ان کے اتحادی ہیں ،اگر سیاسی انجینئرنگ ہورہی ہے تو کون کررہا ہے،جن لوگوں نے پیسے اور جائیدادیں بنائیں انہیں تو فکر ہوگی لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں ۔ایک وزیر کہہ رہے ہیں کہ عید کے بعد نیب ڈبل ٹارزن بننے جارہا ہے،ہم اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے کہ توازن (بیلنسنگ فیکٹر )لانے کیلئے شرفا کی پگڑیاں اچھالی جائیں۔وزیر اعظم صاحب کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ہم ان کیلئے اہمیت رکھتے ہیں یا نہیں۔دریں اثنا مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغا نے بھی ایک انٹرویو میں کہا وزیراعظم کو نیب کے معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور خود پر سوالیہ نشان کا واضح جواب دینا چاِہیے،نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہوتاہے، 20 سال قبل نامعلوم شخص کے کہنے پر ہماری انکوائری کی گئی،سمجھ نہیں آتی یہ ادارہ ہماری جان کیوں نہیں چھوڑتا۔ Read the full article















