#husbandandwife #husband #wife #divorce https://www.instagram.com/p/CJS4xvIB2tf/?igshid=1qaxvis7h28hr
ojovivo
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ

@theartofmadeline
taylor price
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH
The Stonewall Inn

Product Placement
Not today Justin

shark vs the universe

pixel skylines

tannertan36

PR's Tumblrdome
No title available
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
EXPECTATIONS
wallacepolsom
No title available
Today's Document
will byers stan first human second

Discoholic 🪩

seen from United States

seen from Germany
seen from United States

seen from United Kingdom

seen from New Zealand

seen from Malaysia

seen from Tunisia

seen from Malaysia
seen from Ecuador

seen from Russia
seen from Malaysia
seen from France
seen from New Zealand

seen from France
seen from Germany

seen from Malaysia

seen from Singapore

seen from Malaysia
seen from United States

seen from United States
@wazifacenterpakistan
#husbandandwife #husband #wife #divorce https://www.instagram.com/p/CJS4xvIB2tf/?igshid=1qaxvis7h28hr
#husbandandwife #husband #wife #divorce https://www.instagram.com/p/CJS4xvIB2tf/?igshid=1qaxvis7h28hr
#Agree ? https://www.instagram.com/p/CJOO4HIB2kU/?igshid=cud0xryc7x18
. #تاریخ_کی_طاقت_ور_ترین_معذرت: جب حضرتِ ابوذرؓ نے بلالؓ کو کہا . . . "اے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے! اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا . . ؟ بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اٹھے خدا کی قسم! میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا!! یہ سن کر اللہ کے رسول کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا: ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی؟؟؟ تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی!! اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے، اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے ۔۔ باہر آکر اپنا رخسار مٹی پر رکھ دیا اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: "بلال! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پاؤں سے نہ روند دو گے، میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا، یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار!! یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا اور بے ساختہ گویا ہوے: خدائے پاک کی قسم! میں اس رخسار کو کیسے روند سکتا ہوں، جس نے ایک بار بھی خدا کو سجدہ کیا ہو پھر دونوں کھڑے ہو کر گلے ملے اور بہت روئے!! ( صحیح بخاری :31 ) اور آج ہم ایک دوسرے کی ہزاروں بار دل آزاری کرتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ ۔ ۔ "بھائی! معاف کریں _________ بہن! معذرت قبول کریں"۔ یہ سچ ہے کہ ہم آئے دن لوگوں کے جذبات کو چھلنی کر دیتے ہیں؛ مگر ہم معذرت کے الفاظ تک زبان سے ادا نہیں کرتے اور "معاف کر دیجئے" جیسا ایک عدد لفظ کہتے بھی ہمیں شرم آتی ہے۔۔ معافی مانگنا عمدہ ثقافت اور بہترین اخلاق ہے، جب کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ خود کی بے عزتی ہے۔۔۔ ہم سب مسافر ہیں، اور سامانِ سفر نہایت ہی کم ہے، ہم سب دنیا و آخرت میں اللہ سے معافی اور درگزر کا سوال کرتے ہیں ۔ ۔۔۔۔😢🙏🤲 https://www.instagram.com/p/CJJpmm4BAe1/?igshid=86g46098r06b
مکہ پاک خانہ کعبہ کی پرانی تصویر بڑی مشکل سے ترکی میوزیم سے ملی ہے اگر شیطان آپ کو نہ روکے تو ایک بار ماشاء اللّه کہ کر شئر کر دیں۔ #kabbalah #kabbah https://www.instagram.com/p/CJJpElOB0gB/?igshid=ot3nw2vf08eb
یہ قدیم مسلم تاجروں کی روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولنے کے ساتھ ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی اس جگہ سے اٹھاتا اور دکان کے اندر رکھ دیتا تھا.لیکن جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے گی،میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے آغاز نہیں کیا ہے.یہ مسلم تاجروں کا اخلاق اور محبت تھی نتیجتا ان پر برکتوں کا نزول ہوتا تھا. (عربی سے ترجمہ) عربی حکایت https://www.instagram.com/p/CIwBfpEB40t/?igshid=s589shncfu08
صوفی اور عام مسلمان میں کیا فرق ہے؟ ایک عام مسلمان اور صوفی میں فرق ایمان و معرفت کا ہے جس طرح ایمان فقط مان لینے کا نام ہے وہ چاہے اللہ کی ذات و صفات ہوں یا دیگر حقائق مگر ایک صوفی و عارف جس بات کو مانتا ہے اسے قلب کی نگاہ سے دیکھتا ہے پھر اسے مشاہدہ سے اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور اس کا ایمان معرفت میں بدل جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے پرندوں کو زندہ کر کے دکھایا اور دیگر عجائبات قدرت دکھا کر فرمایا کہ ابراہیم اللہ کو ایک جانتا تو ہے مگر اس کی معرفت بھی حاصل کر تاکہ تیری زندگی ایمان و ایقان کی آئینہ دار بن جائے۔ پس ارشاد باری تعالیٰ ہے : فَاعْلَمْ اَنَّهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲ. ’’پس خوب جان لو کہ بیشک وہ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ پس صوفی اور عام مسلمان میں فرق ایمان و معرفت کا ہے۔ محمد، 47 : 19 صوفی. کائنات ہر چیز سے پیار کرتا ہے https://www.instagram.com/p/CIv8qFOBFF4/?igshid=1sptdtpakbir6
تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ تعلیم سے انسان کی جہالت نہیں جاتی https://www.instagram.com/p/CIv8NU3BVlF/?igshid=12tqum2wikwv7
WhatsApp at 03145199145 https://www.instagram.com/p/CHwgeyhBfWq/?igshid=163vu4nnvrrgh
Share kren agar ittefaq krtay hain!! https://www.instagram.com/p/CHpyIaFBKtL/?igshid=1kuxfzxxnt80h
آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی کی ایک طالبہ، وجیہہ عروج، نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ کیس کیا۔ انہیں ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ اس دن پرچہ دے کر آئیں تھیں۔ یہ صاف صاف ایک کلرک کی غلطی تھی۔ وجیہہ اپنے والد کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ پہنچیں تاکہ معاملہ حل کر سکیں۔ وہاں موجود ایک کلرک نے ان کے والد سے کہا’آپ کو کیا پتہ آپ کی بیٹی پیپر کے بہانے کہاں جاتی ہے۔‘ یہ جملہ وجیہہ پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ کبھی کلرک کی شکل دیکھتیں تو کبھی اپنے والد کی۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔ وہ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے چور بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئیں تھیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلرک صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔ وجیہہ کے بارے میں اپنی رائے دینے کی بجائے وہ حاضری رجسٹر چیک کرتا یا اس دن کے پرچوں میں ان کا پرچہ ڈھونڈتا۔ لیکن اس نے اپنے کام کی بجائے وجیہہ کے بارے میں رائے دینا زیادہ ضروری سمجھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کا یہ جملہ وجیہہ کی زندگی کس قدر متاثر کر سکتا ہے۔ وجیہہ نے یونیورسٹی پر کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں ان کا ساتھ ان کے والد نے دیا۔ کیس درج ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں ان کا حل شدہ پرچہ پیش کر دیا لیکن معاملہ اب ایک ڈگری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ وجیہہ نے یونیورسٹی سے اپنے کردار پر لگے دھبے کا جواب مانگا۔ یہ قانونی جنگ 17 سال چلتی رہی۔ گذشتہ سال عدالت نے وجیہہ کے حق میں فیصلہ سنایا اور یونیورسٹی کو آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ وجیہہ نے اس ایک جملے کا بھار17 سال تک اٹھایا۔ وہ تو جی دار تھیں، معاملہ عدالت تک لے گئیں۔ ہر لڑکی ایسا نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت ان کے بڑھتے قدم تھام لیتی ہے ورنہ یقین مانیں ہم میں سے ہر کوئی عدالت کے چکر کاٹتا پھرے اور اپنے منہ سے کسی لڑکی کے بارے میں نکلے ایک ایک جملے کی وضاحت دیتا پھرے۔ وجیہہ کے والدین نے ان کی ڈگری مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کر دی۔ انہیں ڈر تھا کہ بات مزید پھیلی تو کہیں وجیہہ کے رشتے آنا ہی بند نہ ہو جائیں۔ وجیہہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن اس ایک جملے کی وجہ سے انہیں وہ سب نہیں کرنے دیا گیا۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں لیکن ان کے دل میں کچھ نہ کر پانے کی کسک بھی موجود ہے۔ https://www.instagram.com/p/CHpyEfchb87/?igshid=ebr872brzeqg
WhatsApp at 03145199145 https://www.instagram.com/p/CHpx4WkB3Kv/?igshid=1m5c1e8nf5f6v