I have Nude video of This Hot Desi Dady Reblog if you want
Us ka miner mil sakata hain ?

No title available
tumblr dot com

祝日 / Permanent Vacation
Claire Keane
RMH

Origami Around
No title available
styofa doing anything
Stranger Things
we're not kids anymore.
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ
Misplaced Lens Cap
TVSTRANGERTHINGS
DEAR READER

pixel skylines

❣ Chile in a Photography ❣
Peter Solarz
I'd rather be in outer space 🛸
Cosmic Funnies
Sweet Seals For You, Always

seen from Singapore

seen from Greece

seen from United States

seen from France
seen from Malaysia
seen from China

seen from United Kingdom
seen from Australia
seen from United States
seen from T1

seen from United States

seen from United States

seen from United States

seen from Germany

seen from Greece

seen from T1
seen from Spain

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Russia
@ahsanfriend22
I have Nude video of This Hot Desi Dady Reblog if you want
Us ka miner mil sakata hain ?
Kesa Hai Mera Yarrr
This men from plz
Handsome cute sexy American in Pakistan love to get fucked pay for sex call him any time
0342 5508972
0346 7840174
Nice
Bottom rawlpnddi.. num do num lo
Us tarah ko koi Lahore say hain
اکرم…… The End
مری والے واقعے کے بعد تقریباً 3 ہفتے تک اکرم، یعقوب اور میرے درمیان کوئی رابطہ نہ ہو سکا، 3 ہفتے بعد میں حسبِ معمول اکرم کو ڈھونڈنے نکل پڑا، ہمارا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ میں پچھلے ٹائم تقریبا 5 بجے اسکے ڈیرے کے باہر روڈ پر جاتا جیسے ہی وہ مجھے نظر آتا میں ہارن بجاتا اور وہ مجھے دیکھ لیتا پھر موقع ملتے ہی وہ میری طرف آتا اور ہم ٹائم فکس کر لیتے، مگر اس دن اکرم مجھے نظر نہیں آیا، اگلے دن بھی نہیں پھر اس سے اگلے دن بھی نہیں، میں پریشان واپس آ جاتا.
اسکا پتہ کرنے کے لیے میں اکیلا ہی ملنگ کے ڈیرے پر گیا، ملنگ اپنے حقے کے لیے آگ جلا رہا تھا، میں وہاں بیٹھ گیا اور اس سے ادھر اُدھر کی باتی کرنے لگ گیا اس نے بتایا کہ اکرم کو مہینہ ہو گیا ہے وہ نہیں آیا، پھر باتوں ہی باتوں میں ملنگ نے مجھے سے شکوہ بھرے انداز میں کہا کہ مجھے پتہ ہے تم دونوں یہاں کیا کرنے آتے ہو، جب تم مجھے دودھ لینے کے بہانے بھیجتے تھے تو کئی بار میں نے جلدی واپس آ کر چھپ کر دیکھا تم گندی حرکتیں کر رہے ہوتے ہو، مجھے پسند نہیں کہ تم دونوں میرے ڈیرے پر آؤ، میں نے باتوں باتوں میں اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میری عمر 80 سال ہے اور مجھے یہ سب پسند نہیں. تم دونوں یہاں نہ آیا کرو.
ملنگ سے بھی اکرم کی کوئی اطلاع نہ ملنے پر میں پریشان واپس لوٹا، اگلے دن میں نے اپنی جرات اکٹھی کی اور اکرم کے گھر پہنچ گیا، اسکی بوڑھی بیوی نے دروازہ کھولا، میں نے اس سے پوچھا کہ اکرم کہاں ہے؟ تو اس نے بتایا کہ وہ شیخوپورہ گیا ہوا ہے وہاں انکی زمینوں میں فصل کی کٹائی چل رہی ہے، اس کی بیوی نے پوچھا کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو کیا کام ہے؟ تو میں نے پہلے ہی کہانی سوچ رکھی تھی میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے ابو کا دوست ہے اور ہمارا ڈیرا یہ ساتھ والے گاؤں میں ہے کافی دن ہو گئے ہیں وہ ابو سے ملے نہیں تو ابو نے کہا کہ جاؤ اس کا پتہ کر کے آؤ، میں نے اسے کہا کہ اگر وہ پوچھے تو اس سے کہنا کہ فیصل آیا تھا… فیصل میرا فرضی نام تھا جو میں Gay sex کے لئے استعمال کرتا تھا، اسکی بیوی نے کہا کہ چلو ٹھیک ہے وہ فون کرے گا تو ہم اسے بتا دیں گے. اسی رات اکرم نے مجھے کال کر دی اور کہا کہ شیخوپورہ میں وہ اکیلا سوتا ہے ڈیرے پر تم بھی آ جاؤ یہیں. میں نے کہ کہ اتنی دور ممکن نہیں، اس نے بتایا کہ ایک ہفتے بعد واپس آ کر رابطہ کروں گا.
ٹھیک 1 ہفتے بعد اکرم واپس آ گیا اس نے مجھے کال کی کہ کام والا ایک ہفتے کے لیے اپنے آبائی شہر لیّہ چلا گیا ہے، اب ایک ہفتہ روز وہ اکیلا ہو گا ڈیرے پر. اس ہفتے میں 5 رات میں اکرم کے پاس گیا ان میں اکرم نے صرف ایک دن میری لی.. جبکہ میں 5 دن تک روز 2 پھیرے کھینچتا رہا، روز 2 پھیرے لگانے سے میری سیکس ٹائمنگ اتنی بڑھ چکی تھی کہ اکرم کی دہکتی ہؤی بھٹی کی طرح گانڈ میں بھی میں آدھے گھنٹے تک فارغ نہ ہوتا اور وہ نیچے تنگ ہو جاتا کہ بس کرو اب. اس ہفتے کے بعد اکرم نے کہا کہ میرے دونوں بیٹے سعودی عرب سے واپس آ رہے ہیں ان میں سے ایک کی شادی ہے 10 دن بعد اب وہ بھی اکثر ڈیرے پر ہوا کریں گے اور مجھے بھی اگلے 15، 20 دب فرصت نہیں تو تم اب اگلے 15، 20 دن تک ادھر نہ آنا. لیکن شادی پہ ولیمے پر ضرور آنا. خیر میں… اسکی بیٹے کی شادی پر تو نہ گیا. میں نے اسکے شیخوپورہ سے واپس ملنے کے پہلے ہی دن اسے منلگ کے بارے بتایا کہ اسے سب پتہ ہے ہم جو کرتے ہیں وہاں، تو اکرم نے کہا کہ تم ٹینشن نہ لو میں سنبھال لوں گا، پھر تقریبا 1 مہینہ گزر گیا، اکرم نے مجھے کال کر کہ ملنگ کے ڈیرے کا ٹائم فکس کیا.
ملنگ کے ڈیرے پر پہنچتے ہی میں نے موٹر سائیکل پیچھلی جھونپڑی میں کھڑی کی اور اس پر ایک پرانی سی چادر ڈال دی. اکرم نے جاتے ہی سلام دعا کے بعد جیب سے 500 روپے کا نوٹ نکال کے ملنگ کو تھما دیا، ملنگ نے چپ چاپ جیب میں رکھ لیا، اسکی جھونپڑی کے اندر ایک صاف کپڑا ہم نے رکھا ہوا تھا جس سے ہم کام کرنے کے بعد اپنی اپنی گانڈ اور لن صاف کرتے تھے. جیسے ہی ملنگ جانے لگا اس نے ایک اور صاف کپڑا اکرم کو پکڑایا کہ یہ لے لو تمہارا جو پہلے والا کپڑا تھا وہ میں نے پھینک دیا تھا. میں حیران اور پریشان تھا کہ ابھی کچھ دن پہلے تک یہ اس کام پر اتنا غصے میں تھا اور آج 500 روپیہ ملنے کے بعد خود ہمیں کپڑا لا کر دے رہا ہے. خیر… ہم نے کام شروع کیا، اکرم نے حسبِ معمول میری ٹانگیں اٹھا کر کوئی آدھا گھنٹہ کیا ہو گا. پھر میں نے 5 منٹ کا پہلا پھیرا اور 15 منٹ میں دوسرا پھیرا لگایا. پھر ہم نے اپنے آگے پیچھے صاف کیے اور گھر واپسی کے لیے نکل گئے.
راستے میں اکرم نے مجھے بتایا کہ شیخوپورہ اسکا آبائی شہر ہے اسکا سارا خاندان وہاں رہتا ہے، وہاں کچھ مسئلہ ہو گیا ہے اور وہ 1 مہینہ کے لیے وہاں جا رہا ہے شاید 1 مہینے سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے، جب واپس آؤں گا تو تمہیں کال کر لوں گا. میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا، ہم نے الوداعی جپھی لگائی اور میں نے اسکے ہونٹوں پر اور گردن پر kiss کی.
1 مہینہ گزر گیا، 2 مہینے گزر گئے، 3 مہینے گزر گئے، 6 مہینے گزر گئے، 1 سال گزر گیا لیکن نہ تو اکرم نے مجھے کال کی نہ وہ مجھے ڈیرے پر نظر آیا. میں ہر دوسرے تیسرے دن اسی ٹائم پہ اسکے ڈیرے کے ارد گرد چکر لگاتا… اسکا ڈیرہ، اسکی بھینسیں، اسکا نوکر، اسکی بیوی اسکے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں سب…. سب… وہیں پر تھے بس ایک اکرم نہیں تھا… زندگی رواں دواں تھی، میں اسکے ڈیرے کے باہر روڈ پر کھڑا تھا، سائیکل، موٹر سائیکل، ٹریکٹر گزر رہے تھے مگر میری آنکھیں صرف ایک چہرہ تلاش کر رہیں تھیں، وہ….. سفیدی مائل گندمی سا رنگ، چاندی جیسی خط والی چھوٹی چھوٹی داڑھی، اونچی ناک، پتلے ہونٹ، فربہ سا جسم، وہ سفید تہمند اور قمیض….. میں حسرت سے ایک آخری نگاہ اسکے ڈیرے پر ڈالی اور افسردہ سا گھر واپس آ گیا کیونکہ اسی رات میری دُبئ کی فلائٹ تھی.
دبئی 2 سال کے دوران پاکستان کو جو سب سے زیادہ یاد آئ وہ اکرم تھا…2 سال بعد میں واپس آیا اور اگلے ہی دن اسکے ڈیرے پر گیا، 3 مہینے تک ہر روز جاتا حتیٰ کہ اب تو وہاں سے گزرنے والوں کو میری پہچان ہو گئی تھی، اسکا ڈیرہ تو وہیں تھا مگر اسکی بیوی بھی مجھے کہیں نظر نہ آئی جس سے میں پوچھ لیتا، اسکی گلی کے بچوں سے پوچھا کہ وہ جن سے کوئی جواب نہ مل سکا. میں پھر مایوس واپس دبئی آ گیا.
اب اس سے آخری ملاقات کو 6 سال گزر گئے ہیں، وہ تو اب شاید ساری زندگی مجھے نہ مل سکے لیکن اکرم ہمیشہ میری یادوں میں رہے گا. اللہ کرے وہ جہاں ہو خوش ہو.
App Kay pass Akram Ka number thaa
To phar call Khu nahi kartay theeey ?
لاہور میں ایک نیا یار بنایا ہے کیسا ہے دوستو بتاؤ
Ma lahore say ho mujay koi nahi milta
Me 30 year will educated
Top oral
I like old around 50 year
Koi hain to come inbox
Plz
لن دیکھ کے جو منہ کا اسٹائل بناتا ہے بس وہی اچھا لگتا ہے مجھے تو۔۔ بقایا پسند اپنی اپنی بھائیو۔ لاہور سے ہیں یہ ۔۔ نمبر انباکس میں ریبلاگ ے بعد ۔ شکریہ
Number plz
کوئی آدمی ہے جو لاہور سرگودھا میانوالی کےساڈ کے اولڈ بوٹم کے نمبر لین دین کرنا چاہے تو ویلکم 50 60 70میرے پاس لاہور کے بہت سارے نمبر ہیں اور
Old bottom like karta hoin
جی میں لاہور سے ھوں مجھے نمبر دیں
Koi hai jo old bottom number exchange kari mere sath peshawar wali ??
Agar teri pas ho hamko bi exchange karo
Maray saat Kar lo
کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
I want share some thing with u
کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
In box me message
I want share some thing with u plz
کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
Me from Lhr
کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
U from plz
This men from?
ملتان مظفر گڑھ ڈی جی خان کوٹ ادو لیہ کے دیسی اولڈ کس کے پاس ھیں آ جائے تبادلے کیلئے
Yes I want to exchange mujay Multan kay chaya
he is pure bottom… hahahah I know him
Please is ka number inbox kar dain
Mere pas no hai kisi ne lena hai
NUMBER SEND KARO YAAR
03008485970, is ka name tahir he, lahore ka rahne wala he pure bottom he.
U from plz inbox me
Number?
U from ?