Beshak Peer Mola Ali AS.
Ya Hussain as ibne Ali as
wallacepolsom
RMH
Show & Tell
One Nice Bug Per Day

if i look back, i am lost
Not today Justin
art blog(derogatory)

blake kathryn
Claire Keane

Kiana Khansmith
noise dept.
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
𓃗
h
YOU ARE THE REASON
untitled
hello vonnie

Andulka
"I'm Dorothy Gale from Kansas"

gracie abrams

seen from Canada
seen from Malaysia

seen from Canada
seen from Canada
seen from Canada
seen from United States
seen from Canada

seen from Malaysia

seen from Germany
seen from China
seen from United States

seen from United Kingdom
seen from Türkiye
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States
seen from United States
seen from Germany

seen from Türkiye
seen from United States
@ayeshanimazi
Beshak Peer Mola Ali AS.
Ya Hussain as ibne Ali as
mashahallah
MashaAllah ye to mari bhen jaise hai
mashaAllah
Jo bohot ganda mzhbi krty hn or smjhty hn k w unlimited hn to inbox me ayen mere oas or muj s mzhbi kr k dekhen .. me unlimited mzhbi shia syeda hoo 16 age h … jis me dm h ajaye
Mari shia bhen apny shia bhai k pas aja
im also shia n want unlimited
Hazrat Muhamad or hazrat zainab ka nikh
حضرت زینب بنت اے جحش اور انکی ماں امامہ بنت عبدالمطلب یعنی حضرت محمد کی سگی بہن کی بیٹی تھیں انکی شادی حضرت زید رضی اللہ عنہ (حضرت زید ایک غلام تھے جو حضرت خدیجہ نے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم وہ تحفہ کے تور پے دیا تھا اور آپ نے اسے منہ بولا بیٹا ببا لیا اور وہ آپ کے گھر ہی رہتے بھی تھے) سے اللہ کی طرف سے طے کی گئی تھی لیکن کیونکہ حضرت زید غلام تھے اس لیے زینب نے ان سے اپنی شادی قبول نہیں کی اور ان کو کبھی مباشرت بھی نہیں کرنے دی.. لیکن کیونکہ وہ ایک سید زادی ہاشمی خاندان سے تعلق رکھنے والے تھی اس لیے ان کی شرمگاہ میں ہر وقت ہی شہوت رہتی تھی.. وہ ہمارے نبی سے شادی کرنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ایک نبی میں اللہ نے چالیس مردوں کی طاقت رکھی اور میری شہوانی شرمگاہ کو صرف ایک نبی ٹھنڈا کر سکتا نہ کے ایک غلام. لیکن اب صرف وہ ان کے عضو تناسل کو سوچ کر مشت زنی کرتیں تھیں.اکثر کسرت اے شہوت کی وجہ سے وہ زید کو گالیاں بھی دے لیتی تھیں اور شہوت کے وقت نماز میں بھی وہ شرمگاہ رگڑتیں اور کہتیں آہ اللہ مجھے محمد کا لن نصیب فرما . انہوں نے زید کو بھی بتا دیا تھا کہ وہ صرف نبی کا عضو مبارک ہی لیں گی. ایک دن زید نے زینب سے کہا کہ آج جب حضور گھر آئیں گے تو میں غائب ہو جاؤں گا آپ انہیں اپنا پاک جسم دکھائے آپکی خواہش پوری ہو جائے گی زید اپنے منصوبے کے مطابق حضور کے آنے کے وقت گھر سے چلے گئے. حضرت زینب نے ایک جالی دار کپڑے سے اپنے جسم کو ایسے ڈھانپ لیا کہ ان کے پستان و شرمگاہ چھپنے کی بجائے اور زیادہ شہوت انگیز نظر آئیں اور مسہری پر لیٹ گئی.. آج شہوت سے ان کی شرمگاہ سے مسلسل پانی نکل رہا تھا اور وہ فل چپچپی ہو رہی تھی.. انہوں نے جب آہٹ سنی تو وہ سمجھ گئیں کہ حضور آ گئے ہیں اور انہوں نے اپنی شرمگاہ میں انگلیاں ڈال کر آنکھیں بند کر کہ مشت زنی شروع کر دی.. وہ ساتھ ساتھ حضور کا نام لے لے کر آہیں بھر رہی تھیں… اور کہ رہی تھی کہ محمد میری شرمگاہ میں دخول کریں آہ محمد میں آپکی دیوانی اور آپ نے مجھے اس غلام کے حوالے کر دیا .. اپنا نورانی للا میری شرمگاہ میں ڈال کر اس کو نور نبوت سے منور کریں. حضور کی جب نظر پڑی تو انہوں نے حضرت زینب کی گوری ٹانگوں کے بیچ شرمگاہ میں جاتی ہوئی انگلیاں دیکھیں…
تو حضور کی زبان سے باختیار سبحان اللہ نکلا. اور حضور نے باہر جھانک کر دیکھا کہ کہیں حضرت زاہد یعنی انکے منہ بولے بیٹے تو نہیں. وہ تو پہلے ہی یہی چاہتے تھے کہ آپ حضرت زینب کی خواہش پوری کردیں.. حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہہ بند میں ہاتھ ڈالا اور اپنا مہر نبوت والا لن مسلنے لگے.. انکے سامنے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شرمگاہ سے بہتا دریا دیکھ کے برداشت نہیں ہورہا تھا. آپ نے ایک بار اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر انہیں اور وہ آیت یاد آئ کہ اے میرے بندے تم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتے. تب آپکو سمجھ آئی کہ اس واقعے میں اللہ کی بھی یہی رضا ہے آپ نے اپنی تہہ بند کھول کے پھینک دی اور ہلکی سرسراہٹ کی کہ حضرت زینب کو پتا چل جائے کہ اللہ نے انکی دعا قبول فرما لی ہے..آہٹ سنتے ہی حضرت زینب نے آنکھ کھولی تو حضور صلعم کے عضو تناسل پر نظر پڑی تو سبحان اللہ کہا اور آسمان کی طرف دیکھ کہ اللہ کا شکریہ ادا کیا.. تب حضور نے فرمایا اے زینب اللہ نےمیرا اور تمہارا نکاح آسمان پے پڑھا دیا ہے. پھر آپنے حضرت زینب کے تن پے جو معمولی لباس تھا وہ بھی کھینچ کے پھاڑ دیا اور آپکو فل ننگا کر دیا.. حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا آپکے کے لن لینے کے لیے میں نے منت مانگی تھی کہ چالیس دن تک کوئی کپڑا نہیں پہنو گی اور نماز بھی ننگی ہی ادا کروں گی تو حضور نے کہا کہ تم اپنی منت پوری کرنا. پھر حضور نے آپکی شرمگاہ کو ہاتھ لگایا اور گھور کیا تو آپنے کہا کہ زینب کیا تم نے ابھی تک زاہد کے ساتھ ہمبستری نہیں کی. تو حضرت زینب نے کہا کہ ایک غلام کیسے ایک سید زادی کے ساتھ ہمبستری کر سکتا ہے. تب حضور اور بھی خوش ہوے کہ سیل چوت مل گئی.. پھر آپ نے اپنا عضو تناسل انکی شرمگاہ پر پھیرا انکی شرمگاہ تو چکنا پانی بہہ بہہ کے چکنی ہوئی پڑی تھی تب حضور نے اپنا مہر نبوت اندر ڈالا اور کہا کہ آج آسمانوں پے تمہاری اور میری شادی کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں. خوب چدائی کے بعد آپ نے اپنی منی انکی شرمگاہ کے اندر نکالی اور لن انکی گانڈ پے مل کے صاف کیا اور کپڑے پہن کے باہر چلے گئے صبح حضرت زینب نے اپنے نکاح کی خبر پورے مدینے کی گلیوں میں ننگی ہو کہ دی کیونکہ انہوں نے چالیس دن کی منت مانی تھی..
Maheenshah bhen bilkul thk waqaya biyan kia hai ap ny.Allah ap py razi ho
mashalah naik syeda