تیرے بنا زندگی سے کوئی
شکوہ تو نہیں
تیرے بنا زندگی بھی لیکن
زندگی تو نہیں
کاش ایسا ھو
تیرے قدموں سے
چُن کے منزل چلیں
اور کہیں دُور کہیں
تم گر ساتھ ھو تو
منزلوں کی کمی تو نہیں
جی میں آتا ھے
تیرے دامن میں سر چھپا کے
ھم روتے رھیں ، روتے رھیں
تیری بھی آنکھوں میں
آنسوؤں کی نمی تو نہیں
تم جو کہہ دو تو
آج کی رات چاند ڈوبے گا نہیں
رات کو روک لو
رات کی بات ھے
اور زندگی باقی تو نہیں
گلزار












