بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
شفیق سلیمی
The Bowery Presents
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH
Hole
let's talk about Bridgerton tea, my ask is open
Show & Tell
ojovivo
★
d e v o n

roma★

bliss lane
No title available
𓃗
taylor price
NASA
KIROKAZE
No title available
One Nice Bug Per Day

Kiana Khansmith

gracie abrams
Noah Kahan
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from Indonesia

seen from Türkiye
seen from United Kingdom
seen from Philippines
seen from Bangladesh
seen from Bangladesh

seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from Colombia
seen from United States
seen from United States

seen from Türkiye

seen from Russia

seen from Italy

seen from Türkiye
seen from Türkiye
@urdu-poetry-lover
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
شفیق سلیمی
سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا
آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا
یوں نہ رینگتی رہتیں کاغذوں پہ تصویریں
وقت جو ملا ہوتا بال و پر بنانے کا
یوں کہاں بھٹکتے ہم خواہشوں کے صحرا میں
فن اگر ہمیں آتا مال و زر بنانے کا
چل دیے اکیلے ہی جستجوئے منزل میں
کام خاصا مشکل تھا ہم سفر بنانے کا
یہ ہنر بھی آخر کو اس نے سیکھ کر چھوڑا
ہم سے ہوش مندوں کو بے خبر بنانے کا
ایک شوق ایسا بھی ہم نے پال رکھا ہے
بے وقار لوگوں کو معتبر بنانے کا
شفیق سلیمی
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا
برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے
دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے
سایا سا مرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے
ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا
آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ہے
آنگن میں لگایا تھا شجر چاؤ سے میں نے
پھلنے پہ جو آیا تو ثمر کیسا لگا ہے
شفیق سلیمی
بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے
کچھ درد تھے چن لائے، کچھ اشک تھے رو آئے
کچھ پاس نہ تھا اپنے، بس آس لیے گھوم آے عمر کی پونجی تھی، سو اس کو بھی کھو آئے
توہینِ انا بھی کی، تحسینِ ریا بھی کی
یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا،یہ بوجھ بھی ڈھو آئے
پہچان کا ہر منظر انجان ہوا آخر
لگتا ہے کئی صدیاں اک غار میں سو آئے
شفیق سلیمی
کہا تھا سانس کی ہر پائی خرچ ہوتی ہے
یہ زندگی ہے مرے بھائی ، خرچ ہوتی ہے
ہم اس لیے نہیں کرتے ہیں ایسی سوداگری
خریدیں خواب تو بینائی خرچ ہوتی ہے
سنبھل کے آئیے بازارِ ہجر میں کہ یہاں
یہ رنگ روپ یہ رعنائی خرچ ہوتی ہے
میں دوستوں سے گریزاں ہوں اس لئے ، ان پر
تمام عمر کی تنہائی خرچ ہوتی ہے
کسے خبر ہے بہت خوش دکھائی دینے میں
ہماری کتنی توانائی خرچ ہوتی ہے
کومل جوئیہ
گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر
قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر
مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال
ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر
کون سا بھولا بسرا غم تھا جو آیا ہے یاد
رہ رہ کر پھر دل میں اٹھے درد کی میٹھی لہر
میرا جیتے رہنا بھی تو بن گیا ایک عذاب
لیکن میرا مرنا بھی تو ہو جائے گا قہر
لگتا ہے کچھ انہونی سی ہونے والی ہے
درہم برہم ہونے کو ہے جیسے نظام دہر
شفیق سلیمی
اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے
روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں
میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا
یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں
اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے
ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے
ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں
پرسش حال کو تم آؤ گے اس وقت مجھے
لب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں
سیکڑوں در ہیں زمانے میں گدائی کے لئے
آپ ہی کا در دولت ہو ضروری تو نہیں
باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
ظلم کے دور سے اکراہ دلی کافی ہے
ایک خوں ریز بغاوت ہو ضروری تو نہیں
ایک مصرعہ بھی جو زندہ رہے کافی ہے صباؔ
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں
صبا اکبر آبادی
وقتِ رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیں
زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایا نہیں
میری قسمت میں فقط دردِ تہِ ساغر ہی ہے
اوّلِ شب جام میری سمت وہ لایا نہیں
تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا
ذہن نے میرے بھی اب کے دل کو سمجھایا نہیں
کان بھی خالی ہیں میرے اور دونوں ہاتھ بھی
اب کے فصلِ گُل نے مجھ کو پھول پہنایا نہیں
پروین شاکر
اور تو کُچھ نہ ہُوا پی کے بَہک جانے سے
بات مَے خانے کی باہر گئی مَے خانے سے
کوئی پیمانہ لڑا ، جب کِسی پیمانے سے
ہم نے سمجھا کہ پُکارا گیا مَے خانے سے
دو نِگاہوں کا جوانی میں ہے اَیسا مِلنا
جیسے دِیوانے کا مِلنا کِسی دِیوانے سے
دِل کی دُنیا میں سویرا سا نظر آتا ہے
حسرتیں جاگ اُٹھی ہیں تِرے آ جانے سے
دِل کی اُجڑی ہُوئی حالت پہ نہ جائے کوئی
شہر آباد ہُوئے ہیں ، اِسی وِیرانے سے
جلوہ گر ، آج اُنہیں بھی سرِ منبر دیکھا
جن کو دیکھا تھا ، نِکلتے ہُوئے مَے خانے سے
دَر و دِیوار پہ قبضہ ہے اُداسی کا نذیرؔ
گھر مِرا گھر نہ رہا ، اُن کے چلے جانے سے
نذیرؔ بنارسی
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
خود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم
کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے
ملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم
اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی
مجبور ہو کے ملنے لگے ہر کسی سے ہما
شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا
زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم
اچھی بھلی تھی دنیا گزارے کے واسطے
الجھے ہوئے ہیں اپنی ہی خود آگہی سے ہم
جنگل میں دور تک کوئی دشمن نہ کوئی دوست
مانوس ہو چلے ہیں مگر بمبئی سے ہم
ندا فاضلی
دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
کچھ لوگ یوں ہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
دیکھا ہے جسے میں نے کوئی اور تھا شاید
وہ کون تھا جس سے تری صورت نہیں ملتی
ہنستے ہوئے چہروں سے ہے بازار کی زینت
رونے کی یہاں ویسے بھی فرصت نہیں ملتی
نکلا کرو یہ شمع لیے گھر سے بھی باہر
کمرے میں سجانے کو مصیبت نہیں ملتی
ندا فاضلی.
تیرے طریق محبت پہ بارہا سوچا !!
یہ جبر تھا کہ تیرے اختیار کا موسم۔
داغ غم دل سے کسی طرح مٹایا نہ گیا
میں نے چاہا بھی مگر تم کو بھلایا نہ گیا
عمر بھر یوں تو زمانے کے مصائب جھیلے
تیری نظروں کا مگر بار اٹھایا نہ گیا
روٹھنے والوں سے اتنا کوئی جا کر پوچھے
خود ہی روٹھے رہے یا ہم سے منایا نہ گیا
پھول چننا بھی عبث سیر بہاراں بھی فضول
دل کا دامن ہی جو کانٹوں سے بچایا نہ گیا
اس نے اس طرح محبت کی نگاہیں ڈالیں
ہم سے دنیا کا کوئی راز چھپایا نہ گیا
تھی حقیقت میں وہی منزل مقصد جذبیؔ
جس جگہ تجھ سے قدم آگے بڑھایا نہ گیا
معین احسن جذبی
جسم کی قید سے اک روز گزر جاؤ گے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوے مر جاؤ گے
وقت اس طرح بدل دے گا تمہارے خد و خال
اپنی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
کیف عظیم آبادی
جسم کی قید سے اک روز گزر جاؤ گے
خشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے
تم سمندر کی رفاقت پہ بھروسہ نہ کرو
تشنگی لب پہ سجائے ہوے مر جاؤ گے
وقت اس طرح بدل دے گا تمہارے خد و خال
اپنی تصویر جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
کیف عظیم آبادی
دن بدن بڑھتے چلے جاتے ہیں گھر کے جالے
یعنی مکڑی کو بھی محسوس نہیں ہوتا میں
اجمل فرید
اس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
اور سیلاب آگیا مجھ میں
طاہر عظیم