شمع کی طرح پگھلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
اشک بن بن کے نکلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
تو نے دیکھے ہی نہیں گرمئ رخسار حیات
میں نے اس آگ میں جلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
TVSTRANGERTHINGS

#extradirty
Cosimo Galluzzi

JBB: An Artblog!

Kiana Khansmith
he wasn't even looking at me and he found me
No title available
wallacepolsom
sheepfilms
Misplaced Lens Cap
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
Jules of Nature

No title available
styofa doing anything

shark vs the universe
Acquired Stardust

blake kathryn
🪼
ojovivo
One Nice Bug Per Day
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from Malaysia

seen from United States
seen from Malaysia
seen from Vietnam

seen from United States

seen from United States
seen from Canada
seen from United States

seen from Australia

seen from Romania
seen from United States

seen from Italy
seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Saudi Arabia
seen from United States
@fmbrothers
شمع کی طرح پگھلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
اشک بن بن کے نکلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
تو نے دیکھے ہی نہیں گرمئ رخسار حیات
میں نے اس آگ میں جلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
میں نے اپنا ہی بھگویا ہے ابھی تو دامن
تیرا دامن بھی تو اے دوست بھگونا ہے مجھے
داغ غم تو نے جو سینے میں چھپا رکھا ہے
اپنے اشکوں سے اسی داغ کو دھونا ہے مجھے
یک بیک کیوں چمک اٹھی ہیں نگاہیں تیری
اک کرنؔ پھوٹ رہی ہے تری پیشانی سے
اور بھی تیز ہوئی جاتی ہے رخسار کی آگ
جذبۂ شوق و محبت کی فراوانی سے
میں تو بھولا نہیں تم بھول گئی ہو مجھ کو
خیر گر تم بھی نہیں ہو مرے غم خواروں میں
تم نہ آؤگی تو کیا اب نہیں آئے گی بہار
پھول کیا اب نہ کھلیں گے مرے گلزاروں میں
جذبۂ شوق کی تکمیل نہیں ہو سکتی
زندگی موت ہے احساس مسرت کے بغیر
فقط اعصاب کی تسکین ہے توہین حیات
صرف حیوان ہے انسان محبت کے بغیر
یہ حکومت کے پجاری ہیں یہ دولت کے غلام
جو جہنم کی مصیبت سے ڈراتے ہیں مجھے
خود تو دنیا میں بنا لیتے ہیں جنت اپنی
خواب کھوئی ہوئی جنت کے دکھاتے ہیں مجھے
میری دنیا میں محبت نہیں کہتے ہیں اسے
یوں تو ہر سنگ کے سینے میں شرر ملتا ہے
سیکڑوں اشک جب آنکھوں سے برس جاتے ہیں
تب کہیں ایک محبت کا گہر ملتا ہے
شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے
نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے
لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا
ھم نے دیکھی ھے ، اُن آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ھاتھ سے چُھو کے اِسے ، رشتوں کا الزام نہ دو
صرف احساس ھے یہ ، رُوح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ھی رھنے دو ، کوئی نام نہ دو
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ
بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دم بہ دم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ
تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے
اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے
جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں
چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں