
Janaina Medeiros
Peter Solarz

❣ Chile in a Photography ❣
Today's Document
YOU ARE THE REASON

Product Placement
Cosimo Galluzzi

★

No title available
One Nice Bug Per Day

shark vs the universe
noise dept.
tumblr dot com
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ
styofa doing anything
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
No title available
Lint Roller? I Barely Know Her
occasionally subtle

roma★
seen from China

seen from United States

seen from Belgium

seen from Germany

seen from Malaysia
seen from Azerbaijan

seen from Türkiye

seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States
seen from France

seen from Germany

seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from United States
@seydaalimabibi
Asslm alikum waramatullahi wabara kato quran prna swb hn ussy ziyda swb tb hn jb ap behana ho kr prho
حضرت آمنہ، حضرت محمد اور سور 🐷
حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کو پیدائش کے فوراً بعد حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیا تھا۔ کبھی سوچا اس کی وجہ کیا ہے؟ اسلامیات کی کتابوں میں یہی پڑھا ہو گا آپ سب نے کہ یہ رواج تھا عربوں میں۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟
نہیں۔ یہ سچ نہیں ہے۔ اگر یہ رواج تھا تو پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے کسی اور بچے کو ان دائیوں کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟ کوئی ایک بھی مثال موجود نہیں ایسی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی چاچا تایا یا کزن کو ایسے کسی اور کے حوالے کیا گیا ہو۔ اسکی وجہ کچھ اور ہے۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا کردار مشکوک تھا اور حضرت عبداللہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ہر گز نہیں۔ یاد رہے اس وقت تک اسلام نہیں آیا تھا اور یہ وہ دور تھا جسے آجکل ہم دور جاہلیت کہتے ہیں۔ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے جب شہر مکہ میں ایسی باتیں مشہور ہوئیں کہ ان کا کردار ٹھیک نہیں اور بعض لوگوں نے ان پر انگلیاں اٹھائیں کہ یہ تو طوائف ہیں تو چونکہ ان کا تعلق قریش سے تھا جو کہ ایک معزز قبیلہ ہے۔ اس قبیلے کے بڑے سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا بچے کی تربیت نہیں کر سکتیں احسن طریقے سے اور بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر مردوں کی متواتر آمد بھی بچے پر برا اثر ڈالے گی۔ یاد رہے بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا نے ایک عدد سور بھی پال رکھا تھا جس سے آپ اپنی جسمانی ضروریات پوری کیا کرتی تھیں۔ ایسے میں جب کہ آپ پیسوں کے عوض اپنا جسم فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سور جیسے موذی جانور سے بھی مباشرت کر رہی ہوں تو خود سوچئے بچے پر کیا اثر ہو گا اس کا۔
خیر، ہوا یہ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا اعلان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ ماجدہ کے تمام کرتوت معلوم ہو چکے تھے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں پر سور کو حرام قرار دے دیا۔ واللہ اعلم باالصواب۔
ماشاءاللہ معتبر حدیث
یہ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کی سؤر سے مسلسل مباشرت کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوڑا مبارک ماں، بہن، بیٹی ، بہو اور کوئ بھی عورت یہاں تک کہ جانور تک کو دیکھ کر اکڑ جاتا تھا۔
حضرت شائلہ رضی اللّٰہ عنہ اس دور کی نیک صحابیہ جو حضور پاکﷺ کے دور کی یادیں تازہ کر رہیں ۔ صحابیات رضی اللّٰہ عنہ جب نماز پڑھتی کافر انکو دیکھ کے اپنے لن مبارک کھڑا کرلیتے آگے حضور نماز پڑھاتے پیچھے صحابیات رضی اللّٰہ عنہ نماز چدائی ادا کرتیں۔ نماز میں ہی اپنی نورانی چوت مبارک اب زم زم سے بھروا لیتی ۔ اکثر صحابیات رضی اللّٰہ عنہ حرام کا بچہ جنم دیتی زناکاری سے بے حد خوش تھیں ۔ سبحان اللّٰہHazrat shaila
Asslm alikum seyda fatima.zara alima Umar 26 sal Mazabi unlimited