یوں نہ یک دم سے مجھے نیچے گرا تیری آنکھوں کا ستارا رہا ہوں میں
یوں نہ یک دم سے مجھے نیچے گرا تیری آنکھوں کا ستارا رہا ہوں میں
یوں نہ یک دم سے مجھے نیچے گرا
تیری آنکھوں کا ستارا رہا ہوں میں
ہاتھ نہ چھوڑ، میری ہمت بڑھا
خزاں سے دنوں میں تیرا سہارا رہا ہوں میں
تیری وجہ سے تو نہ میری آنکھ میں آنسو آئے
اک دور میں تیرے قرارقلب کا گہوارہ رہا ہوں میں
آج میں ہوں اداس اور وجہ تو ہے
ترس کھا! تیری خوشیوں کا پٹارا رہا ہوں میں
کیا ہوا کہ آج تیری موجوں میں طلاطم ہے
شائق کبھی تیرا کنارا رہا ہوں میں
View On WordPress











