seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from China
seen from Germany
seen from China
seen from United States

seen from United States
seen from Malaysia
seen from United States
seen from United States

seen from Japan

seen from Canada
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United Kingdom
seen from United States
seen from China
After Love
(Aleem Khan, 2020)
Esta fue la última de 10 películas que vi de la edición de este año del festival D'A y posiblemente la mejor. Después de la muerte del marido, Mary descubre que el hombre tenía una doble vida. Sí, es un argumento muy manido (de hecho uno de mis recuerdos cinematográficos más dulces de la adolescencia es el filme italo-turco “Le fate Ignoranti” de Ferzan Ozpetek, sobre el mismísimo argumento), sin embargo la película de Aleem Khan consigue ser única y especial por varias razones. Destaca la soberbia interpretación de Joanna Scanlan, que personifica con tal realismo la contención del dolor, que al espectador se le encoge el pecho en más de una ocasión. La co-protagonista también convence y se aprecia el hecho de que el director evite controversias fáciles, presentando su personaje no como malo, sino simplemente como humano y antagónico. Una antítesis, esta entre las dos mujeres, que se materializa también en la escenificación de los espacios: pulcra y minimalista la casa de Mary, caótica y desorganizada la de Geneviève. Y no obstante, más allá de las apariencias, los mundos interiores de las dos mujeres divididas por el canal de La Mancha, se tocan. Como en la vida misma: a menudo, si somos capaces de quitar las máscaras sociales, estamos más conectados a los demás de lo que pensamos. Me ha deleitado la delicadeza con la cual se ahonda sin sensacionalismos en el tema de la asimilación cultural y la brecha entre culturas y también sobre el luto y la pérdida. Aunque el tema fundamental aquí en realidad es la aceptación incondicional de la verdad, un proceso largo y doloroso, imposible de llevar a cabo sin una buena dosis de fuerza y de valor. Es una película intimista y delicada pero nunca lenta ni aburrida: Khan consigue conferirle un ritmo narrativo dinámico a través del montaje en el que se suceden a menudo planos breves. La simbología diseminada por todo el filme se te queda en la mente por mucho tiempo más que la duración del metraje: por ejemplo una grieta en el techo de un piso que se viene abajo o unos personajes que permanecen erguidos sobre un acantilado que se ha desprendido. Imperdible.
حکومت سازی میں استعمال ہونے والا جہاز کس کا تھا؟علیم خان نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا
لاہور(جی سی این رپورٹ)پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے الیکشن مہم اور حکومت سازی کے دوران جہاز کے استعمال سے متعلق نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔اپنے ویڈیو بیان میں علیم خان نے کہا کہ انہوں نے اور جہانگیر ترین نے جہاز مشترکہ طور پر لیز پر لیا تھا اور جو بھی پارٹی میں آیا وہ ان کی یا جہانگیر ترین کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی وجہ سے آیا۔چینی بحران کی رپورٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا سبسڈی دینے میں کوئی عمل دخل نہیں تھا، اس سلسلے میں صرف جہانگیر ترین کی ملز کا فرانزک آڈٹ نہیں ہو رہا۔ انکوائری جاری ہے سب سامنے آجائے گا۔واضح رہےکہ چینی بحران کی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو فائدہ پہنچنے کا انکشاف کیا گیا جس کی جہانگیر ترین نے تردید کی ہے اور رپورٹ کے بعد سے ان کے وزیراعظم عمران خان سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جس کا اعتراف جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی کے شو میں بھی کیا۔ Read the full article
علیم خان کوکس وزارت کا قلمدان ملا؟
لاہور(جی سی این رپورٹ)پی ٹی آئی رہنما علیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان سونپ دیا گیا۔پنجاب حکومت نے علیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، وہ صوبے میں سینئر وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں آٹا بحران کی انکوائری رپورٹ کے بعد پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد یہ قلمدان خالی تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں علیم خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے عثمان بزدار کے تحفظات کو دور کیا تھا۔پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد علیم خان کابینہ میں سینیئر وزیر کی حیثیت سے شامل تھے تاہم 6 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدن سے زائد اثاثے اور دیگر کیسز میں انہیں گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ Read the full article
علیم خان کوکس وزارت کا قلمدان ملا؟
لاہور(جی سی این رپورٹ)پی ٹی آئی رہنما علیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان سونپ دیا گیا۔پنجاب حکومت نے علیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، وہ صوبے میں سینئر وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں آٹا بحران کی انکوائری رپورٹ کے بعد پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد یہ قلمدان خالی تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں علیم خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے عثمان بزدار کے تحفظات کو دور کیا تھا۔پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد علیم خان کابینہ میں سینیئر وزیر کی حیثیت سے شامل تھے تاہم 6 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدن سے زائد اثاثے اور دیگر کیسز میں انہیں گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ Read the full article
پنجاب حکومت میں ہلچل، ایک نئے چہرے کوکابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ
لاہور(جی سی این رپورٹ)عبد العلیم خان کو پنجاب کابینہ میں پھر شامل کرنے کا فیصلہ تحریک انصاف پنجاب کے رہنما علیم خان خان کو پنجاب کابینہ میں دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وہ آج دوبارہ وزارت کا حلف اٹھائیں گے۔ تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس لاہور میں ہوگی۔ذرائع کے مطابق علیم خان خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی، جس میں عبدالعلیم خان نے عثمان بزدار کے تحفظات کو دور کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات سے پہلے علیم خان خان وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ علیم خان خان نے نیب کیس میں گرفتاری کی وجہ سے وزارت سے استعفا دیا تھا۔ Read the full article
پنجاب حکومت میں ہلچل، ایک نئے چہرے کوکابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ
لاہور(جی سی این رپورٹ)عبد العلیم خان کو پنجاب کابینہ میں پھر شامل کرنے کا فیصلہ تحریک انصاف پنجاب کے رہنما علیم خان خان کو پنجاب کابینہ میں دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وہ آج دوبارہ وزارت کا حلف اٹھائیں گے۔ تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس لاہور میں ہوگی۔ذرائع کے مطابق علیم خان خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی، جس میں عبدالعلیم خان نے عثمان بزدار کے تحفظات کو دور کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات سے پہلے علیم خان خان وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ علیم خان خان نے نیب کیس میں گرفتاری کی وجہ سے وزارت سے استعفا دیا تھا۔ Read the full article
جہانگیر ترین، علیم خان ،عون چودھری اور پرویز خٹک کوسائیڈ لائن کرنے میں بشریٰ بی بی کا کیا کردار؟
اسلام آباد(جی سی این رپورٹ)حال ہی میں طاقت کے ایوانوں کی خوب خبر رکھنے والے معروف صحافی سہیل وڑائچ ملکی سیاست میں خاتون اول بشریٰ بی بی کے کردار کےحوالے سے رقم طراز ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے لئے لکھے گئے اپنے کالم میں سہیل ورائچ نے حالیہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں۔ جب سے وزیر اعظم عمران خان کی شادی بشریٰ بی بی سے ہوئی ہے عمران خان کو سیاست میں وہ اہداف حاصل ہوئے ہیں جس کے لئے وہ دھائیوں سے زور آزمائی کر رہے تھے۔ چونکہ ہمارے معاشرتی و ثقافتی نظریات میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک عورت جب شادی کر کے ایک گھر میں آتی ہے تو اپنی قسمت ساتھ لاتی ہے۔ اسی تناظر میں عمران خان کی کامیابیوں کا سہرا بشرا بی بی کے سر باندھا جاتا ہے۔ تاہم طاقت کے ایوانوں کے مکینوں کی باتیں اتنی سادہ اور معاملات اتنے سیدھے نہیں ہوتے جتنا کہ دکھائی دیتے ہیں۔ اور شاید یہ بات بشریٰ بی بی اور عمران خان کے حوالے سے بھی صادق آتی ہے۔ بشریٰ بی بی کی عمران خان سے شادی ہمارے معاشرے کے مروجہ کئی اصولوں کو روندتے ہوئے پراسرار انداز میں ہوئی۔ لیکن اس کے بعد سے وزیر اعظم عمران خان کے ارد گرد کھڑے ہوئے سیاسی برج جس طریقے سے تتر بتر ہوئے وہ اس سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار داستان ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے حلقہ احباب میں اس سیاسی قطع و برید کا موجب ایک ہی کردار ہے اور وہ ہے پاکستان کی خاتون اول بشریٰ بی بی۔ اور یہی ہیں وہ شخصیت جس کے بارے میں سہیل وڑائچ نے چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ اپنے مخصوص نپے تلے انداز میں سہیل وڑائچ نے کسی زمانے عمران خان کے ارد گرد موجود گروپ آف تھری کا ذکر کیا ہے جو کہ تحریک انصاف کی طاقتور ترین شخصیات سمجھی جاتی تھیں اور جنہیں پارٹی میں ہی ایک اور طاقتور شخصیت کی آشیرواد حاصل تھی۔ یہ شخصیات اور کوئی نہیں سب کے جانے پہچانے عون چوہدری، علیم خان اور پرویز خٹک ہیں جن کا اپنا اپنا حلقہ اثر تھا اور تینوں بقول سہیل وڑائچ جہانگیر ترین کی مٹھی میں تھے۔ کہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے تک بنی گالہ عون چودھری، پنجاب علیم خان اور پختونخواہ پرویز خٹک کے مکمل قبضے میں تھے اور تینوں جہانگیر ترین کی مُٹھی میں تھے مگر پھر سب کچھ بدلنا شروع ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘اقتدار ملنے سے پہلے عمران کی بشریٰ وٹو سے شادی ہو گئی اور اقتدار ملتے ہی عون چودھری بنی گالہ سے چھٹی ہو گئی۔ علیم خان اپنے چارٹر جہاز پر عمران اور ان کی بیگم کو عمرے کے لیے لے گئے مگر وہاں کیا ہوا کہ علیم خان بیگم صاحبہ کی نظروں میں سما نہ سکے اور پھر رفتہ رفتہ وہ بھی دور ہوتے گئے.پرویز خٹک دوبارہ وزیر اعلیٰ پختونخواہ نہ بن سکے، وفاقی وزیر بن گئے مگر اب بھی ناپسندیدہ لوگوں میں شامل ہیں۔ اقتدار کے چند ہی ماہ میں جہانگیر ترین کا قریبی حلقہ اثر عمران سے دور ہوتا گیا یا دور کر دیا گیا۔’ کالم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس دوران عمران کی نئی کچن کابینہ بن گئی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ، فرسٹ لیڈی بشریٰ بی بی اور زلفی بخاری اس کابینہ کے اہم ترین رکن بن گئے۔ یوں جہانگیر ترین کا رہتا سہتا اثرو رسوخ اور بھی کم ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر بشریٰ بیگم کا ملکی سیاست اور معاملات حکومت میں کردار سامنے آرہا ہے اور اگر جہانگیر ترین کی حالیہ سیاسی مات انکے مرہون منت ہے تو سیاست کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ Read the full article