اے شاعر کفر ہے تیرا کوئی بندہ خدا لکھنا کسی کو سجدہ کر دینا یہ دل مسجد بنا دینا کسی کو کعبہ کہہ دینا کوئی قبلہ بنا لینا کسی کی جستجو میں یوں کسی کو رب بتا دینا نرا یہ شرک ہے ناداں کسی کو یہ جگہ دینا کسی کو مان دینا ہو تو اس کو جان لکھ دینا اسے تم زندگی لکھنا اسے تم ہر خوشی لکھنا مگر سجدے ہوں اللہ کے عبادت صرف اللہ کی اگر کچھ مانگنا ہے تو مخاطب رب کو بس کرنا محبت کو خدا کہنا نمازِ عشق لکھ دینا یا مسجد کو گرا دینا یا مندر سے ملا دینا یہ ہیں بہکی ہوئی باتیں نہ تم لکھنا , نہ تم پڑھنا نرا یہ کفر ہے شاعر اے شاعر کفر سے بچنا محبت ایک جذبہ ہے یہ ہر انسان ہے رکھتا اگر انسان سے یہ ہو تو اتنا یاد بس رکھنا محبت بس محبت ہے عبادت رب کی بس کرنا اے شاعر کفر سے بچنا نہ بندے کو خدا لکھنا










