(G)i-dle Lion Color Palettes
seen from United States
seen from United Kingdom
seen from Poland
seen from China
seen from China

seen from United States

seen from Sweden
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United States

seen from Serbia
seen from United States

seen from United States
seen from Serbia

seen from Bulgaria
seen from Serbia
seen from Algeria
seen from United States

seen from China
(G)i-dle Lion Color Palettes
Edgar Allan Poe Award:
Mohammad Omer Farooq
Ms. Zeenat Merchant
Dr. Mayaa SH
Manju Langote
षेक नस्रीन
Shalini Dixit
Dr. Sujoyita Pal
Dr. Yogesh Malshette
Hema Namashivaya
Pratiksha Sharma
Shrodhha Mukherjee
Fauqia Asma Ahmed
Harshitaa Verma
Kumar Shahil
KALIDASA SAMMAN WINNERS:
List Of Winners:
डॉ. पल्लवी सिंह 'अनुमेहा
Anjali Saxena
षेक नस्रीन
Anthony Savio Herminio da Piedade Fernandes
हर्ष नारायण दास
डॉ. विनीत विधार्थी दर्शन शास्त्री
शालिनी बसेड़िया (दीक्षित)
Dr. Mayaa SH
मंजु लंगोटे
Saroj Kumar Ojha
Zeenat Merchant
Dr. Sujoyita Pal
जी.विजया मेरी
C. Swathish
JAHNAVI GADEPALLI
K SHAMA
प्रमोद गौरीशंकर पटले
Poornima Singh
डॉ. अवनीश कुमार यादव
प्रेमलाल किशन
Nikita Kanaiyalal
Sruti Biswas
Dr. Prashant Mundeja
S. Sunder
Meenakshi Thakur
Ankur Yadav
Madhuri Sopan Lole
Awdhesh Agnihotri
NATIONAL HERITAGE HONOR AWARD:
List Of Award Winners -
1. Anmol Jain
2. MANJU PREETHAM KUNTAMUKKALA
3. हर्ष नारायण दास
4. Dr. Mayaa SH
5. Zeenat Merchant
6. डॉ विनीत विधार्थी दर्शन शास्त्री
7. Shobhit Gupta
8. Anthony Savio Herminio da Piedade Fernandes
9. Dr. Sujoyita Pal
10. कविता कोठारी
11. जी.विजया मेरी
12. भानुप्रिया देवी
13. मंजु लंगोटे
14. डॉ. रानी शुक्ला
15. JAHNAVI GADEPALLI
16. षेक नस्रीन
17. टी.आदि लक्ष्मी
18. SHAILESH KASHYAP
19. Ishtiyaq Rashid
20. Dr. Anubhuti Pandey
21. डॉ प्रकाश चंद टेलर
22. NIKHIL KUMAR
23. Ramlath
24. Sonu Singh
25. J. Mathi Vathani
26. K SHAMA
27. Navneet Malik
28. प्रमोद गौरीशंकर पटले
29. शालिनी बसेड़िया (दीक्षित)
30. Dr. Sujit Kumar Chaudhary
31. शाकम्भरी
32. अरुणा सिंह
33. डॉ ०अन्नपूर्णा मालवीय (सुभाषिनी)
34. सुश्री मंजुला कौरव (अंशिवा)
35. DR. YOGESH MALSHETTE
36. Archita Tewari
37. Sidhartha Mishra
38. Ayushi Bharat
39. प्रेमलाल किशन
40. Vandana Purohit
41. Dr. Syeda Saleha Jafri
42. Priyanka Raina
43. Eliyas Johnjoseph
44. Sameer Gudhate
45. HEMA NAMASHIVAYA
46. सुमन वर्मा
47. Krishnapriya PU
48. डा0 गायत्री कोंपल ‘‘चन्नाया’
49. मन्शा शुक्ला
NATIONAL HERITAGE HONOR AWARD:
List Of Award Winners -
1. Anmol Jain
2. MANJU PREETHAM KUNTAMUKKALA
3. हर्ष नारायण दास
4. Dr. Mayaa SH
5. Zeenat Merchant
6. डॉ विनीत विधार्थी दर्शन शास्त्री
7. Shobhit Gupta
8. Anthony Savio Herminio da Piedade Fernandes
9. Dr. Sujoyita Pal
10. कविता कोठारी
11. जी.विजया मेरी
12. भानुप्रिया देवी
13. मंजु लंगोटे
14. डॉ. रानी शुक्ला
15. JAHNAVI GADEPALLI
16. षेक नस्रीन
17. टी.आदि लक्ष्मी
18. SHAILESH KASHYAP
19. Ishtiyaq Rashid
20. Dr. Anubhuti Pandey
21. डॉ प्रकाश चंद टेलर
22. NIKHIL KUMAR
23. Ramlath
24. Sonu Singh
25. J. Mathi Vathani
26. K SHAMA
27. Navneet Malik
28. प्रमोद गौरीशंकर पटले
29. शालिनी बसेड़िया (दीक्षित)
30. Dr. Sujit Kumar Chaudhary
31. शाकम्भरी
32. अरुणा सिंह
33. डॉ ०अन्नपूर्णा मालवीय (सुभाषिनी)
34. सुश्री मंजुला कौरव (अंशिवा)
35. DR. YOGESH MALSHETTE
36. Archita Tewari
37. Sidhartha Mishra
38. Ayushi Bharat
39. प्रेमलाल किशन
40. Vandana Purohit
41. Dr. Syeda Saleha Jafri
42. Priyanka Raina
43. Eliyas Johnjoseph
44. Sameer Gudhate
45. HEMA NAMASHIVAYA
46. सुमन वर्मा
47. Krishnapriya PU
48. डा0 गायत्री कोंपल ‘‘चन्नाया’
49. मन्शा शुक्ला
بھاگ(لیکھ)
سائرہ مبین،سرگودھا پنجاب ، پاکستان
میں محمد حسین عرف سینو سٹور آلا، جس کو لوگ تو بہت عزت دیتے ہیں لیکن والد محترم کو یہ پیشہ بلکل نہیں بھاتا جس کی بنا پہ میری روز رات واپسی پہ کچھ نہ کچھ الگ سننے کو ملتا جیسا کہ
"بیٹا یہ کوئی کام تو نہیں ہے ،دن بھر خود کو باندھ کر رکھنا پڑتا ہے نا کوئی چھٹی نہ کوئی بریک اگر اب تمہاری شادی کر دی جائے تو تم اپنا خرچہ بھی نہیں نکال پاؤ گے اس سے" یا پھر یہ کہ" اگر یہی کرنا تھا تو میرا پتر اتنا پڑھنے لکھنے کی کیا ضرورت تھی، خرچہ کیا تھا کہ کل کلاں کو لوگ کہیں گے (بھائی گامے دا پُتر افسر لگ گیا) لیکن سننے کو تو میرا پتر کچھ اور ہی مل رہا (سینو سٹور آلا)"اور کبھی کبھار تو حد کر دیتے کہ" بچے تمہیں ہیں ہی زنانہ چسکے پورا دن عورتوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے" اور خدا گواہ ہے میں آج تک کسی عورت کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا کیوں کہ میرے لیے یہ صرف ایک کاروبار ہے۔ لیکن ابا جان کے وہم بھی اپنی جگہ بجا تھے شاید اس جگہ میں ہوتا تو میں بھی یہی سوچتا اور اب تو یہ سننا میرا روز کا معمول بن گیا تھا، کبھی برا لگتا تو کبھی مذاق میں اڑا دیا جاتا۔ آج کل انکی سوئی ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے کہ
"بیٹا اگر تمہارا کوئی وسیلہ بنے باہر جانے کا تو نکال دیں گے تمہیں ،پھر تمہارے بھاگ کھل جائیں گے اور مجھے بھی خوشی اور تسلی ہو گی کہ اب میرا بیٹا زندگی میں نہیں ہارے گا" اور میں ان کو دلاسہ دے دیتا کہ جی ابو جی جیسا آپ کہیں میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا ۔
ایک دن میں سٹور سے واپس آیا تو سب مجھے باہر صحن میں بیٹھے ملے جیسے کوئی خاص بات ہو رہی ہو خیر میں نے بھی منہ ہاتھ دھویا اور اس محفل میں شامل ہو گیا جہاں والد محترم ،والدہ محترمہ ، میری دو بہنیں اور میرا چھوٹا بھائی جو اب بارھویں جماعت میں تھا بیٹھے تھے۔
"خیریت! آج سب اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں کوئی خاص بات؟" میرے بیٹھنے پہ سب خاموش ہو گئے تو میں نے پوچھنا مناسب سمجھا ۔
" جی بیٹا جی آج ہم تمہارے چاچا شیدے کے گھر گئے تھے انکا بیٹا میرا(سمیر جس کو باہر جانے سے پہلے میرا اور باہر جانے کے بعد سمیر پکارا جانے لگا)باہر سے آیا تو، انہوں نے تمہاری امی کو اشارہ دیا کہ وہ ہمارے گھر رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں"۔ ابو نے جواب دیا ۔
"یہ تو اچھی بات ہے پھر آپ نے کیا سوچا اس بارے میں ؟"میرے پوچھنے پر ابا نے ساری توپوں کا رخ میری طرف کر دیا ۔
" میرا بچہ اب اس کا سٹور تو ہے نہیں کہ مجھے سوچنے کی ضرورت پڑے ،باہر ہوتا ہے اچھا بھلا کما لیتا ہے تو تمہاری بہن خوش رہے گی اور دعائیں دے گی باہر بھی کوئی پھوڑیوں پہ مکھن نہیں ملتے تو یہ نہایت ہی مناسب رشتہ ہے تمہاری بہن کے لیے-"میں نے وہیں پہ چپ ہو جانا مناسب سمجھا لیکن دل میں ایک کسک ضرور رہ گئ کہ ابا ایسا سوچتے ہیں میرے بارے میں اس رات میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب باہر ضرور جاؤں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔
اگلے کچھ دنوں بعد چاچا شیدا اس کی بیوی اور بچے آئے رشتے کی غرض سے تو ابو جان نے کہا ۔
" میرے بھائی اب آپ آئے ہو تو میں کیسے ناں بول سکتا ہوں خوشی کی بات ہے کہ اگر دونوں بھائی آپس میں ہی گٹھ جوڑ کر لیں تو لیکن ایک دفعہ سمیر پتر سے بھی پوچھ لینا میں بھی شمع سے پوچھ کر بتاتا ہوں۔" ابا نے تھوڑا ماڈرن زمانے کا خیال رکھتے ہوئے بچوں کی مرضی پوچھنا مناسب سمجھا حلانکہ یہ بات تو طے تھی کہ اگر بڑے اس پہ راضی ہیں تو بچوں کی ہاں یا ناں کوئی معنی نہیں رکھتی۔
"میں انتظار کروں گا لیکن خیال رکھنا کہ سمیر کی چھٹی صرف ایک مہینہ ہے تو میرا دل ہے اسی مہینے میں اس کا ڈھول بجا کر بھیجیں کیا کہتے ہو؟ ۔" چاچا کے جواب پہ ابا جی تھوڑے چونکے ۔
"شیدے اتنے کم وقت میں بیٹیاں کہاں رخصت ہوتی ہیں، نہ ہی اتنا جلدی تیاریاں کی جا سکتی ہیں-"
" کونسی مشکل بھائی، ! جہیز ہم نے لینا نہیں آپ نے صرف اپنے گھر کی رونق کو ہمارے حوالے کرنا ہے، اس میں کیا کہ مشکل اگر تیاریوں کی بات کریں تو ماشاءاللہ گبرو جوان بیٹے ہیں سب سنبھال لیں گے کیوں سینو پتر!" چاچا جان نے مجھے بھی شاملِ گفتگو کیا۔
"جی جی چاچا جان آپ سہی کہہ رہے ہیں لیکن ابا بھی اپنی جگہ درست ہیں سب کچھ دھیان میں رکھنا پڑتا ہے بیٹی کا معاملہ ہے، اور خاندان والے کیا کہیں گے کہ پہلی بیٹی ہے اور ایسے شادی کی تو کوئی بات ہو گی اب وہ کیا جانیں کہ لڑکا مجبور ہے خامیاں تو لڑکیوں میں ہی ڈھونڈی جاتی ہیں نہ کہ مردوں میں!" میرے کہنے پہ چاچا جان تو بھڑک اٹھے
"کیوں اتنی ہمت ہے کسی میں کہ میری بیٹیوں کے اوپر بات کرے زبان نہ کھینچ لوں ان کی۔۔۔۔"
"کیوں بحث میں پڑ گئے ہو تم لوگ ایسی کوئی بات نہیں ہے لیکن ریتی رواج کو دیکھنا بھی ضروری ہے، اور جو بن پایا جہیز بھی ہم نے اپنی بیٹی کو دینا ہے اور پورے خاندان کو دعوت بھی دینی ہے اگر اتنے وقت میں سب کر سکتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں "۔ابا نے جواباً کہا
" تو پھر فائنل ہو گیا ،آپ لوگ تیاریاں کریں ہمارا بھی گھر تو تیار ہو گیا ہے بس رنگ روغن رہتا ہے، تو ساتھ میں باقی تیاریاں بھی چلتی رہیں گیں ۔"
"ہم شادی اس مہینے کی پچیس تاریخ کو کریں گے سمیر پانچ دن کی چھٹی بڑھا لے گا تاکہ وہ دعوتیں شاوتیں کھا لیں۔" چاچا نے تو فوراً سارا مسئلہ ہی حل کر دیا اور فیصلہ سنا کے منہ میٹھا بھی کروا دیا اور ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے خیر خوشی کی بات تھی تو ہم بھی خوش ہو گئے بس بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اخراجات کی لسٹ میرے دماغ میں بننا شروع ہو گئی۔ سٹور پر بیٹھ بیٹھ کر حساب کتاب کرنے میں بہت ماہر جو ہو گیا تھا تو بس یہ حساب بھی فوراً دماغ میں گھومنا شروع ہو گیا۔ رات جب جہیز اور پیسوں کی بات ہونے لگی تو پیسنے کے لیے ابا کو میں ہی ملا ۔
"دیکھو ان کا لڑکا باہر ہے تو اتنا تو کما لایا نا کہ انہیں سوچنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور ہم یہاں سوچوں میں گم ہیں ۔ میں بات کروں گا شیدے سے کہ وہ سمیر سے بات کر کہ تمہیں بھی ساتھ لے جائے کم سے کم ہمارے بھی کوئی دن بدلیں یا ہم نے صرف یہی سیلن زدہ دیواریں دیکھتے ہوئے مرنا ہے" ابا نے ایک نظر گھر پر ڈالنے کے بعد کہا جو بہت حد تک پرانا ہو چکا تھا رنگ بارشوں کا پانی بہا لے گیا اور سیمنٹ نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اینٹوں کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ۔ مُجھے برا بہت لگا لیکن ابا کو کیا کہا جا سکتا تھا۔
شادی کی ساری تیاریاں بخیر و عافیت ہو گئیں۔ سارا جہیز بن گیا پورے خاندان کو دعوت بھی دے دی گئی۔
شادی والے دن سارے رشتہ دار آئے اور سب نے بھائیوں کی تعریفیں کی کہ بہت اچھا کیا ہے جو دونوں بھائیوں نے گھر ہی گھر میں سب کچھ طے کر لیا اللّہ ایسے ہی ان دونوں بھائیوں کے پیار کو قائم و دائم رکھے جبکہ کچھ نے دل کی بھڑاس نکالی کہ
دیکھو گاما (غلام رسول) تو چاہتا ہی یہی تھا کہ باہر کے لڑکے سے بیٹی کا بیاہ ہو جائے، اس کا تو جیک لگ گیا گھر بیٹھے بٹھائے بیٹی کو ایسا شوہر مل گیا ۔
لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ جتنے منہ اتنی باتیں اس سب کے درمیان ہمارے گھر کی رونق شمع قرآن مجید کے سائے میں اس گھر سے رخصت ہو کر پیا سدھار گئی ۔ رخصتی کے ٹھیک پانچ دنوں بعد اس کے شوہر کی رخصتی تھی۔ اور درمیان کے دن جو میاں بیوی کو ایک ساتھ گزارنے چاہیے تھے وہ انہوں نے دعوتیں کھانے میں گزار دیے۔
خیر شادی کے بعد مجھے ایک خبر ملی کہ میرا ویزہ اپروو ہو گیا ہے جس کے لیے میں نے اپلائے کیا تھا میرا وہاں سب کچھ کلئیر ہو گیا خدا کے فضل سے اور میری ٹکٹ بھی ہو گئی ، میرے والد محترم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا انہوں نے بہت سی دعاؤں کے سنگ مجھے رخصت کیا اور خود میرے سٹور پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
ٹھیک دو سال بعد میں چھٹی آیا تو ماں کے آنسو مجھے دیکھتے ہوئے رواں دواں ہو گئے اور ان کے پورے چہرے کو بھگو گئے وہ زارو قطار رو رہیں تھیں اور مجھے دیکھ کر محسوس کر رہیں تھیں اور کہہ رہیں تھیں" ایسے تو نہ بھیجا تھا تمہیں نہ چہرے پہ تازگی رہی نہ جسم پہ ماس اگر مجھے پتا ہوتا اتنا مشکل ہے وہاں رہنا تو کبھی اپنےلال کو نہ جانے دیتی"۔
جبکہ باقی سب نے اس چہرے کے ماند پڑنے اور جسم کے کمزور ہونے کو ہینڈسم کا لقب دیا۔
اور بابا خوش تھے کہ میرا بیٹا وہاں جا کہ لاکھوں بھیجتا ہے اور سب سے خوشی کی بات باہر ہوتا ہے جو بات ان کے لیے قابل فخر تھی۔ میرے بھیجے گئے پیسوں سے ایک نیا گھر بنایا گیا سٹور نہ چلنے کی وجہ سے اس کو بیچ دیا گیا اور زمینوں پہ کام نہ کروا پانے کے باعث انہیں ٹھیکہ پہ دے دیا گیا۔
ابو اب صرف گھر تک رہ گئے تھے کوئی کام نہ ہونے کے باعث وہ زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتے اور اگر زیادہ بوریت محسوس ہوتی تو تھوڑا وقت گاؤں کے مرد حضرات کے ساتھ گزار آتے جبکہ چھوٹے بھائی سے وقت کی قلت کی وجہ سے پڑھائی ہونا ممکن نہ رہا تو اس نے پڑھائی چھوڑ دی جس کا مجھے بہت افسوس ہوا کیونکہ میری چاہت اسے پڑھا لکھا کر افسر بنانا تھا لیکن میرے پوچھنے پر اس نے کہا
بھائی آپ نہیں جانتے کبھی کوئی بیمار ہے ،تو کبھی کسی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ، کبھی کسی کے ہاں بچہ ہوا تو کبھی کسی کی برسی ہے، کبھی شوپنگ پہ جانا تو کبھی دعوت پر اس کے بیچ میں امی کو دعوتیں کھلاتا یا پڑھائی پہ دھیان دیتا۔ اوپر سے باجی کے سارے کام بھی میں نے کرنے ہوتے سمیر بھائی نے باجی سے کہا کہ وہ مُجھے مہینے کے کچھ پیسے دے دیا کریں ان کے خیال رکھنے کے عوض تو میں نے کہا " کہ باجی بھائی کو کہیں کہ اس تنخواہ پہ کوئی اور نوکر رکھ لیں" میں باجی کے کام کسی طلب کی وجہ سے نہیں کرتا نہ ہی ہمیں پیسے کی کمی ہے کہ اب ہم پیسے لینا شروع کر دیں۔
مجھے یہ جان کہ بہت دکھ ہوا کہ شادی مرد کے ساتھ پُرسکون زندگی گزارنے کے لیے کی تھی یا پھر پیچھے اس کے گھر کو سنبھالنے کے لیے، خاص کر اس وقت جب لوگ شمع کو خوش قسمت کہتے ہیں مُجھے بڑی حیرت ہوتی کہ کیا یار وہ اصل خوشی صرف پیسے کو مانتے ہیں لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ پیسے کے بغیر بھی حال نہیں لیکن میرے خیال سے تو تھوڑا ہو لیکن سکون ضرور ہونا چاہیے وہ کہاوت ہے ناں کہ " تھوڑا لاد سویلے آ"۔
خیر ایک مہینہ چھٹی بہت اچھے سے گزری ،ابا مجھے سب رشتہ داروں سے ملوا لایا اور سب نے ابا کی بہت تعریفیں کیں کہ
بھائی تیرے تو وارے نیارے ہو گئے اب تمہیں کس چیز کی کمی ہے اللّہ کا دیا سب کچھ تو ہے تمہارے پاس ۔
بہت سوں نے ابا سے اشاروں کنایوں میں رشتے کی بات بھی کی
کہ اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے تو شادی کا کیا سوچا ہے" یہ سن کر ابا ہنس دیتے اور کہہ دیتے اللہ خیر کرے گا۔ تب میں سوچ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے سب کی سوچ کو کہ اگر لڑکا باہر ہے تو لڑکی خوش قسمت ہے مجھے تو یہ لاجک نہ سمجھ میں آئی۔
میری واپسی سے کچھ دن پہلے چھوٹے نے کہا "بھائی مجھے بھی بلوا لیجیے مجھ سے یہاں نہیں رہا جا سکتا مجھے باہر جانا ہے۔"
اور میں نے اسے ڈپٹا کہ میں گیا ہوں باہر یہی کافی ہے۔
لیکن اس کے الفاظ نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا وہ کہنے لگا
"واہ بھائی! کیا بات ہے مطلب خود تم وہاں عیاشی کرو اور میں یہاں سڑتا رہوں ، تم ایک بابو بلائے جاؤ اور میں کسان؟" اس کی بات سن کے مجھے دکھ ہوا اور اپنے دو سال آنکھوں کے سامنے گھوم گئے جو بقول اس کے عیاشی کے سال تھے۔
"تو تم نہ بنو کسان دوبارہ سے پڑھائی شروع کرو میں گھر کے لیے کسی نوکر کا بندوست کروا دیتا ہوں اور مشکل آسانی سے ایک چھوٹی گاڑی لے لیتے ہیں تو تمہارے لیے آسانی ہو جائے گی "۔
" تو کیا مطلب ہے میں ساری زندگی بھائی کے ٹکڑوں پہ پلوں گا؟"
اور میرا دکھ اور صدمے سے برا حال تھا میں لاجواب ہوگیا پیسے میں خون سے زیادہ کشش تھی جو مجھے چھوٹے کی باتوں میں دکھی اور میں بس یہی کہہ پایا ۔
بیٹا دور کے ڈھول بڑے سہانے ہوتے ہیں بناؤ تم اپنا پاسپورٹ میں پیسوں کا بندوست کر لوں گا ۔
VEER SHIVAJI ART AWARD:
1. Premlal Kishan
2. Manju Langote
3. Shobhit Gupta
4. Karan Mehra
5. ANJALI SAXENA
6. Rekha Agarwal
7. Zeenat Merchant
8. T. Adilakshmi
9. Shalini Dixit
10. Dr. Prashant Mundeja
11. Preeti Saraswat
VEER SHIVAJI ART AWARD:
List Of Winners:
Anjali Saxena
K. MANJU PREETHAM
Dr. Mayaa SH
Dr. Zubaida Anwar
Dr. Shahir Bajowala
डॉ. विनीत विघार्थी दर्शन शास्त्री
Dr. Sujit Kumar Choudhary
Dr. Sujoyita Pal
Ankit Soni 'Nishant'
Harsh Narayan Das