A sculpture, possibly of a priest Found in Mohenjo-daro National Museum, Karachi, Pakistan



#mcr#frank iero#gerard way#mikey way#long live the black parade



seen from Belgium

seen from Malaysia
seen from Canada

seen from Germany
seen from Belgium
seen from United States

seen from China

seen from United States
seen from United Kingdom
seen from United Kingdom
seen from China
seen from Germany

seen from United States
seen from China

seen from Malaysia
seen from Malaysia
seen from Canada

seen from Malaysia

seen from Germany

seen from United States
A sculpture, possibly of a priest Found in Mohenjo-daro National Museum, Karachi, Pakistan
Nestled in the fertile plains of the Indus Valley, the Harappa Civilization—also known as the Indus Valley Civilization—stands as one of t
Indus Valley Civilization / Harappan Civiilization | National Museum ...
हडप्पा संस्कृती चे वर्षानुवर्षे जपलेले एक रहस्य – रक्तधारेचा अभिशाप राग, लोभ, इर्ष्या, मत्सर हे मानवी स्वभावाचे महत्वाचे पैलू आहेत. प्रत्येक
हडप्पा संस्कृती चे वर्षानुवर्षे जपलेले एक रहस्य - रक्तधारेचा अभिशाप
हडप्पा संस्कृती चे वर्षानुवर्षे जपलेले एक रहस्य – रक्तधारेचा अभिशाप
राग, लोभ, इर्ष्या, मत्सर हे मानवी स्वभावाचे महत्वाचे पैलू आहेत. प्रत्येक मनुष्यामध्ये कमी-अधिक प्रमाणात हे गुण असतातच. पण चांगल्या गुणांपेक्षा ज्यावेळी अवगुण हे जास्त प्रभावी होऊ लागतात त्यावेळी कोणताही मनुष्य सारासार विचार करण्याची शक्ती गमावून बसतो आणि मग त्याचे आणि त्या समाजाचे अध:पतन निश्चित असते. ई.स पूर्व १७००च्या सुमारास त्याकाळी भारतातील (आणि कदाचित जगातील काही मोजक्या संस्कृतींपैकी एक)…
View On WordPress
River Valley Civilization_ Introduction_ History_ Class 6_ ICSE Board _ _ Learn in English & Bengali
* This video will help you to understand the chapter properly * You will learn the meaning of each word of the chapter * Share this video with your classmates
موہن جودڑو اور ہڑپہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے ؟
امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں قدیم تہذیب سندھ کے زوال کی اہم وجہ ہیں اور ان ہی کے باعث موہن جودڑو اور ہڑپہ تہذیب دھیرے دھیرے تباہی سے دوچار ہو کر فنا ہو گئیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سندھ کی قدیم تہذیب کے دو بڑے مراکز ہڑپہ اور موہن جودڑو ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی اس کے مختلف آثار ملے ہیں۔ امریکا میں واقع وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ایک نئے تجزیے کے مطابق عمدہ شہر، گودام، نکاسی کے نظام اور بہترین شہری سہولیات ہونے کے باوجود چار ہزار سال پرانی یہ تہذیب آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے روبہ زوال ہو کر فنا ہو گئی تھی۔ 1800 قبل مسیح میں قدیم تہذیب کے باشندوں نے اس شہر کو خیرباد کہنا شروع کیا اور ہمالیہ کے دامن میں جا کر چھوٹے چھوٹے گاؤں میں رہنا شروع کر دیا۔
ووڈ ہولز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے یہ خطہ ناقابلِ رہائش ہونے لگا تھا۔ 2500 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب کا موسم بدلنا شروع ہوا اور موسمِ گرما کا مون سون نظام دھیرے دھیرے کمزور پڑا۔ زراعت مشکل ہو گئی اور غلہ بانی بھی کم ہوتی گئی اور یوں یہ عظیم تہذیب اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ اس ضمن میں وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ارضیات داں ڈاکٹر لائی ویو گایوسِن اور ان کے ساتھیوں نے اس پر تحقیق کر کے مقالہ شائع کیا ہے جو 13 نومبر 2018ء کے ’کلائمٹ آف دی پاسٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مون سون کے بگاڑ نے پوری وادی میں کھیتی باڑی کو ناممکن بنا دیا تھا۔
لیکن اس دوران بحیرہ روم کے طوفان ہمالیائی سلسلے سے ٹکراتے تھے اور پاکستانی علاقوں میں تھوڑی بہت بارش کی وجہ ضرور بنتے تھے لیکن مون سون نہ ہونے کی وجہ سے دریاؤں کا بہاؤ شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے وادی سندھ کے لوگوں نے دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کی اور یوں دھیرے دھیرے پوری بستی ہی خالی ہو گئی۔ اگرچہ اس کے آثار آج کی مٹی میں نہیں ملتے لیکن ماہرین نے پاکستانی ساحلوں اور سمندر کے کئی مقامات پر مٹی کے نمونے جمع کیے اور ان کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ان نمونوں میں یک خلوی (سنگل سیل) پلانکٹن کا جائزہ لیا جنہیں ’فورا مینی فیرا‘ یا مختصراً فورمز کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کونسا پلانکٹن سرد موسم اور کونسا موسمِ گرما میں پروان چڑھا۔
اس طرح انہوں نے خطے کے قدیم جینیاتی مادے کا بغور مطالعہ کیا ۔ اس دوران دریا اور سمندر کے کنارے کے علاقے میں موجود قدیم مٹی اور خود اس میں موجود قدیم پلانکٹن سے ہزاروں سال قدیم موسم کا ایک نقشہ مرتب کیا جس سے معلوم ہوا کہ کس طرح گرمیوں کا مون سون کمزور اور سردیوں کا مون سون توانا ہوا اور اس سے زراعت ناممکن ہو گئی۔ اگلے مرحلے میں لوگوں نے ماضی کے ان عظیم شہروں کو چھوڑنا شروع کیا اور یوں وہ کئی صدیوں میں تتربتر ہو کر علاقے کے دیگر مقامات پر منتقل ہو گئے اور یوں یہ موئن جودڑو اور ہڑپہ ویران ہوتے چلے گئے۔
Indian travel ideas- visit Kunal, the oldest city in India
Indian travel ideas- visit Kunal, the oldest city in India
Do you know that archaeologists have recently discovered a settlement that is perhaps the oldest city in India?
You will agree with me that with each passing year, India becomes an even more attractive travel destination for international travelers.
This excavation site in Kumal is perhaps the oldest city in India. Credits- Indian Express
We are talking about Kunal, a small village in the…
View On WordPress