توہین عدالت کیس،مطیع اللہ جان نے سپریم کورٹ میں کیا جواب جمع کرایا؟
اسلام آباد(جی سی این رپورٹ) صحافی مطیع اللہ جان نے سپریم کورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ جس ٹوئٹ پر انہیں توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا ہے اس کا مقصد صرف اس ایک (عدالتی) حکم پر اپنی مایوسی کا اظہار کرنا تھا جس پر معاشرے کے ایک بڑے حصے کی جانب سے تنقید کی جارہی تھی۔اپنے وکیل بابر ستار کے توسط سے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں انہوں نے کہا کہ 'اگر اسے نامناسب الفاظ سمجھا گیا اور معزز ججز کی پریشانی کا سبب بنا تو (انہیں) اس پر افسوس ہے'۔تاہم انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ایک سنائے گئے فیصلے پر کسی کی دیانت دارانہ رائے/ردعمل کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور عدلیہ کی جانب سے توہین عدالت کی سزا دینے کے بجائے اس کی تعریف کی جانی چاہیے۔عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں مطیع اللہ جان نے عدالت سے اپنے خلاف 15 جولائی کا توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کی۔مزید یہ کہ انہوں نے توہین عدالت آرڈیننس 2003 کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے آئینی تحفظ کے حامل اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 19 کی خلاف ورزی کی ہے۔جواب میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کو توہین عدالت کا نوٹس ختم کردینا چاہیے کیوں کہ یہ پہلے تاثر پر اٹھایا جانے والا اقدام تھا جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔جواب میں یہ بھی لکھا گیا کہ کیبل نیوز چینل پر رائے کی تشکیل میں 'ریاستی اداروں کے اثر' کے باعث فریق سمیت متعدد صحافی اپنا مواد یوٹیوب اور ٹوئٹر پر لے گئے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ 'آن لائن اظہار رائے کو محدود کرنے کا یہ غیر معمولی اقدام صحافیوں اور شہریوں سے آن لائن مارکیٹ پلیس میں بامعنی شراکت کا موقع چھین لے گا'۔صحافی کا کہنا تھا کہ بڑھتی Read the full article












