Our Lady of Alice Bhatti
By Mohammed Hanif.
seen from United States
seen from United States
seen from China
seen from China
seen from China
seen from Chile

seen from United States
seen from China

seen from United States
seen from Russia

seen from United States
seen from United Kingdom
seen from China

seen from China

seen from China
seen from United States

seen from China

seen from United States
seen from United States

seen from United States
Our Lady of Alice Bhatti
By Mohammed Hanif.
Novelist Mohammed Hanif on the Re-release of Sahar Khalifeh's Classic 'Wild Thorns'
On the first day of 2023’s Women in Translation Month, Saqi Books is releasing a new edition of Palestinian novelist Sahar Khalifeh’s classic Wild Thorns, originally published in 1976, translated by Trevor LeGassick and Elizabeth Fernea. They have shared the book’s new introduction by novelist Mohammed Hanif. By Mohammed Hanif Wild Thorns opens with Usama, who is returning to Palestine after…
View On WordPress
One of the men arrested for being part of a pro-Palestine convoy filmed blaring “rape Jewish daughters” as it passed through North London has claimed he was mistreated by a “Jewish” policeman after the incident. Another complained officers had forced them to stand in the rain and cold despite his asthma after they were stopped following the protest in which shouts of “F*** the Jews. F*** all of them. F*** their mothers, F*** their daughters” could also clearly be heard. Another of those arrested protested his dog phobia was ignored after the police used the animals during his detention. “I was mistreated by a policeman. I think he was of Jewish background,” said Asif Ali, 26, one of those arrested in a car identified by a police investigation into the incident. “He was so against me that he didn’t want to take me into his car. He put me in handcuffs, threw me around, looked at me with hate. Treated me as a terrorist or a killer,” he added.
عمر شریف کو کس کا ڈر تھا؟
لندن کی ایک سرد اور حسین شام تھی۔ ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کے ولیمے کی تقریب تھی اور کراچی سے آئے ہوئے عمر شریف کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔ ان کے خوف سے پسینے چھوٹ رہے تھے اور وہ میرا ہاتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ الطاف بھائی سے ذاتی تعلق کبھی نہیں رہا، کراچی میں تھے تو صحافت ان کی دھمکیوں کی زد میں رہتی تھی۔ ان کی پریس کانفرنس میں بھی سرجھکا کر بیٹھتے تھے کہ کہیں نظر میں نہ آ جائیں۔ افطار کی دعوت پر بہانہ کر دیتے تھے اور جب ان کے لڑکے فون پر گالی دے کر کہتے تھے تمھارے دفتر کا پتہ ہے تو دفتر کو تالا لگا کر گھر چلے جاتے تھے۔ لیکن لندن میں جب ان کے ولیمے کا کارڈ ملا تو ساتھیوں نے کہا صحافت اور سیاست گئی بھاڑ میں، ہم کراچی والے ولیمہ تو دشمن کا بھی نہیں چھوڑتے۔ سب نے اپنے ریشمی پاجامے نکالے اور بچوں سمیت بدھائی دینے پہنچ گئے۔ محل نما شادی ہال میں سیکیورٹی بہت زیادہ تھی۔
ہال کے اندر داخل ہو کر باہر جانے کی ممانعت تھی۔ سگریٹ پینے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ایک بزرگ کے مشورے اور معاونت سے ایک بازو والا دروازہ ڈھونڈا اور اس میں پیر پھنسا کر آدھے اندر اور آدھے باہر ہو اپنی علتیں پوری کرنے لگے۔ ایک گاڑی آ کر رکی اور اس میں سے عمر شریف برآمد ہوئے۔ میرے اندر ایک دم وہ احترام جاگا جو کسی بڑے سیلبرٹی یا خاندانی بزرگ کو دیکھ کر جاگ جاتا ہے۔ میں نے سگریٹ بجھائی، آگے بڑھا اور جھک کر پھر نجانے کیوں عمر بھائی کہہ کر سلام کیا۔ ویلکم ٹو لندن عمر بھائی۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا، ادھر ادھر دیکھا، ان کے ہاتھ پسینے سے شرابور تھے۔ انھوں نے کہا مجھے بھائی کے پاس لے چلو اور دیکھو میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔ میں نے بتانے کی کوشش کی کہ میں الطاف بھائی کا لڑکا نہیں، میں خود ایک مہمان ہوں۔ انھوں نے کہا جو کوئی بھی ہو سٹیج تک میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔
میں نے کراچی میں میڈیا کے سیٹھوں سے لے کر ایم کیو ایم کے منحرفین میں سب کو الطاف حسین سے خوفزدہ ہوتے دیکھا تھا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سٹیج پر کھڑے ہو کر ہر طاقتور کی کراچی کی زبان میں پتلون اتارنے والا عمر شریف بھی کسی سے اتنا خوفزدہ ہو سکتا ہے۔ پھر ایک ساتھی نے سمجھایا کہ عمر شریف کراچی کا جم پل تھا اس کی زبان، اس کا فن اس کے لطیفے، اس کی جگتیں کراچی کے غریب محلوں کی گلیوں میں گندھی ہوئی تھیں۔ پھر وہ اپنی شہرت کے عروج پر کراچی چھوڑنے کو کیوں مجبور ہوا۔ ایک زمانے میں کراچی سے باہر رہنے والے شاید شہر کو دو لوگوں کی وجہ سےجانتے تھے ایک الطاف حسین اور دوسرا عمر شریف۔ ایک اپنے ایک حکم سے شہر بند کروا دیتا تھا اور دوسرا ایک ایسا ڈرامہ لکھتا کہ مہینوں کھڑکی توڑ رش لیتا تھا۔ ہر بڑے کامیڈین کی طرح عمر شریف کا مزاح بھی کراچی کے حالات کی پیداوار تھا۔
اب شہر کا سب سے مشہور فنکار شہر کے سب سے بڑے سیاسی فنکار کا مذاق نہیں اڑا سکتا تو کیا کرتا۔ کچھ امن عامہ کے مسائل بھی تھے لیکن اگر آپ کراچی کے سٹیج پر چڑھ کر ایم کیو ایم کا مذاق نہیں اڑا سکتے، الطاف حسین کی نقل نہیں کر سکتے، تو پھر اس شہر کو چھوڑنا اچھا۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت کم فنکار ہوں گے جنھوں نے ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں اپنا مقام بنایا ہو۔ لاہور میں لالو کھیت کے مزاح کو کون سمجھتا۔ اس لیے انھوں نے پنجابی سیکھی، پنجابی کامیڈی کی کئی صنفوں کو اپنے ڈراموں میں لیا اور خود اپنا تھیٹر کھول کر کئی سال تک جلاوطنی میں رہ کر خود اپنے آپ پر ہی ہنستے رہے اور پنجابیوں کو ہنساتے رہے۔ یہ کام انھوں نے قومی یکجہتی کا درس دینے والی حکومت کی سرپرستی میں نہیں کیا اور نہ ان کے پیچھے کوک سٹوڈیو جیسا محب وطن کاروباری ادارہ تھا۔
اپنے فن کے بل بوتے پر اور اسی عوام کے ساتھ جو سو دو سو روپے کا ٹکٹ خرید کر دو گھنٹے کے لیے اپنے دکھڑے بھلانا چاہتے تھے۔ الطاف بھائی کا ولیمہ عمر شریف کے لیے دشمنوں کے درمیان ایک شام کا منظر تھا۔ پاکستان کا ہر بڑا فنکار موجود تھا اور الطاف بھائی کی نظر پڑنے سے پہلے یہ بتانا ضروری تھا کہ وہ خود اپنے پلے سے ٹکٹ لے کر بھائی کی خوشیوں میں شریک ہونے آیا ہے۔ (الطاف بھائی شاید پہلے سیاستدان تھے جن کی غائبانہ تقریب ولیمہ چوبیس ملکوں میں منائی گئی)۔ عمر شریف نے الطاف بھائی کو شادی کی مبارکباد دی، پھر شادی کے بارے میں کچھ گھسے پٹے لطیفے سنائے اور کسی اور کا ہاتھ پکڑ کھسک لیے۔ کراچی کا سب سے بڑا فنکار عمر شریف چلا گیا۔ کراچی کا دوسرا بڑا فنکار خود ایسا گھسا پٹا لطیفہ بن چکا ہے کہ اس کا غائبانہ ولیمہ کھانے والے بھی نہیں ہنستے۔
محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو
مرتضیٰ وہاب، بڑے ہو کر کیا بنو گے؟
ساری زندگی صحافت میں گزارنے کے باوجود سیاستدانوں سے کبھی ذاتی دوستی یا دشمنی نہیں رہی۔ کسی پریس کانفرنس میں سن لیا یا کبھی انٹرویو کرتے ہوئے حال احوال ہو گیا، شاید ہی کبھی کسی نے کوئی آف دی ریکارڈ بات کی ہو۔ ایک دفعہ الطاف بھائی نے ٹیپ ریکارڈر بند کروا کر علامہ اقبال کی شان میں گستاخی کی تھی اور ایک بار بے نظیر بھٹو نے کسی ٹی وی سٹوڈیو جاتے ہوئے اپنا پرس تھما دیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں جھانکنے کی کوشش مت کرنا۔ میرا خیال ہے وہ مردوں کی گھٹیا عادتوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب جب ابھی کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے نوجوان دوستوں سے ملاقات ہوتی تھی۔ تمام انکلوں کی طرح مجھے نوجوانوں سے بات کرنے کا ایک ہی طریقہ آتا تھا کہ بیٹا بڑے ہو کر کیا بنو گے۔ آج کل میں یہ بھی نہیں پوچھتا کیونکہ بعض دفعہ نوجوان یہ بھی پوچھ لیتے ہیں کہ مجھے چھوڑیں آپ بتائیں بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔
مرتضیٰ وہاب کا جواب مجھے اچھی طرح یاد ہے کیونکہ میں نے کبھی اتنا سیدھا اور مختصر جواب نہیں سنا۔ اس نے کہا کراچی کا میئر۔ ایک اچھے انکل کی طرح مجھے اس کے جواب پر خوشگوار حیرت بھی ہوئی اور تھوڑی سی فکر بھی۔ میری عمر کے اور کلاس کے جو نوجوان سیاست میں جانا چاہتے تھے، وہ زیادہ سے زیادہ ایم پی اے یا ایم این اے بننا چاہتے تھے۔ ایک سندھی صحافی دوست تھا اس کا خواب سندھ کا وزیر اعلیٰ بننا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ وزیراعظم کیوں نہیں بننا چاہتا۔ شاید اسے بھی سمجھ نہیں آتی تھی، بس سندھ کے وزیر اعلیٰ کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اگر یہ بن سکتا ہے تو میں کیوں نہیں۔ مجھے نوجوان مرتضیٰ وہاب کے جواب سے اس لیے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اگر سیاست واقعی طاقت اور خدمت کا امتزاج بنے تو کراچی کے مئیر سے زیادہ اہم رتبہ پاکستان میں تو نہیں ہو سکتا۔
گلی محلے کی سطح پر لوگوں کے مسئلے حل کرو اور دعائیں اور ووٹ سمیٹو لیکن ایک دانشور انکل کے طور پر میں نے نوجوان مرتضیٰ کو سمجھایا کہ کراچی ایم کیو ایم کا شہر ہے۔ تم اپنی والدہ کے حوالے سے پی پی پی میں جاؤ گے نہ کبھی پی پی پی کراچی کے بلدیاتی انتخاب جیتے گی نہ تم میئر بنو گے۔ اب شنید ہے کہ مرتضی وہاب کراچی کے ایڈمنسٹریٹر بننے جا رہے ہیں جو ہمارے ہاں تقریباً میئر ہی ہوتا ہے۔ تو اپنے پیارے نوجوانوں جب زندگی میں کچھ کرنے کا سوچو تو دانشور انکلوں کی باتوں پر کبھی یقین نہ کرنا۔ کراچی کے شہری کے طور پر میں نے فاروق ستار جیسے نرم خو مئیر نہیں دیکھے جنھیں اب مشاعرے کی صدارت کے لیے بھی کوئی نہیں بلاتا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی ایک نوجوان ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان کو لائی تھی جو اب کبھی کبھی شاندار تحقیقاتی صحافت کرتے ہیں، کبھی بھنا کے پولیس والوں سے پوچھتے ہیں کہ تم جانتے نہیں میں کون ہوں۔
ایک دفعہ کراچی میں وہ دن بھی تھا کہ شہری اٹھے تو ہر سڑک، ہر چوک پر بینر لگے تھے کہ مصطفیٰ کمال پوری دنیا میں میئروں کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے ہیں۔ کراچی والوں نے کہا کہ ہمیں تو پہلے ہی پتا تھا کہ یہ دو نمبر میئر ہے۔ وہ پہلے الطاف بھائی کو ووٹ لیتے تھے پھر انھوں نے الطاف بھائی کو شرابی اور غدار کہہ کر ووٹ لینے کی کوشش کی۔ کراچی والوں نے کہا جس دنیا نے تمھیں دو نمبر میئر چنا تھا اب وہیں جا کر ووٹ مانگو۔ کراچی کے زوال کا سفر فہیم زمان یا فاروق ستار کے میئر بننے سے شروع نہیں ہوا بلکہ شاید یہ پہلے سے جاری تھا لیکن میں نے ہر میئر کے آنے اور جانے کے بعد سوچا کہ ایک کتاب لکھی جائے کہ میں نے کراچی ڈوبتے دیکھا۔
اگر لکھ دی ہوتی تو اب تک اس کا پانچواں ایڈیشن آ چکا ہوتا لیکن زیادہ تر وقت اس انتظار میں گزر گیا کہ پانی کا ٹینکر کب آئے گا اور کتنے کا آئے گا کیونکہ جس شہر کے ایڈمنسٹریٹر بن کر مرتضیٰ وہاب اپنا پچپن کا خواب پورا کرنے جا رہے ہیں وہاں شہریوں کے حصے کا پانی چرا کر ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن جیسے علاقوں کو دیا جاتا ہے اور پھر وہاں سے کچھ چرا کر ہمیں بیچا جاتا ہے۔ یہاں شہر کے ایک طرف سمندر میں کچرا ڈال کر اپنی جھونپڑیاں بنا لیتے ہیں اور اسے تجاوزات کہا جاتا ہے، کلفٹن میں سمندر میں مٹی ڈال کر فلیٹ بنائے جاتے ہیں جو آٹھ دس کروڑ کے بکتے ہیں اور اسے ڈویلپمینٹ کہا جاتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کو ان کے خواب کی تعبیر مبارک لیکن انھیں ووٹ اور دعائیں تب ہی ملیں گی جب ہمارے نلکوں سے روٹھا ہوا پانی واپس آئے گا۔
محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو
فواد چوہدری پاکستان کو کورونا سے بچا سکتے ہیں
چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں گھر میں گھس کر کچھ نامعلوم افراد نے ایک صحافی پر تشدد کیا۔ جب اس واقعے پر خبر بنانے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک صحافی نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا ردِعمل حاصل کرنا چاہا تو انھوں نے فرمایا کہ پہلے پاکستانی حکومت کی کورونا کے خلاف کامیابی پر ایک پروگرام کرو، پھر صحافیوں کے رونے دھونے پر بھی ردِ عمل دوں گا۔ نہ اسلام آباد کبھی رہا ہوں نہ ہی وہاں پر میرے کوئی ذرائع ہیں، لیکن ہزار میل دور سے بیٹھا بھی بتا سکتا ہوں کہ صحافیوں پر تشدد کروانے میں فواد چوہدری کا کم از کم کوئی ہاتھ نہیں ہو سکتا۔ جب انھیں کسی صحافی کو سبق سکھانا ہوتا ہے تو وہ بھری محفل میں اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں، رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد نہیں بھیجتے۔ کچھ صحافی، جنھیں چوہدری صاحب صحافی نہیں مانتے، یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ چوہدری صاحب نے انھیں نوکری سے نکلوایا ہے، شاید نکلوایا ہو لیکن میرے صحافی بھائیوں کو اپنے چہیتے سیٹھوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اتنی آسانی سے چوہدری صاحب کی بات کیوں مان لیتے ہیں۔
معلوم نہیں کہ برطانوی نشریاتی ادارے نے فواد چوہدری کی فرمائش پر پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی پر کوئی پروگرام کیا کہ نہیں لیکن ایک صحافی کے طور پر میرا فرض بنتا ہے کہ اس کامیابی کی بابت کچھ عرض کرتا چلوں۔ ملک میں سیاسی تقسیم اتنی شدید اور گالم گلوچ سے بھری ہے کہ ہم زمینی حقائق بھی نہیں مانتے۔ کورونا کی وبا نے ایک پرانا مغالطہ دور کر دیا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں نظام ہی کوئی نہیں۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کروائے اور زیادہ تر عوام کے شکوے شکایتوں کے باوجود کامیاب کروائے۔ کبھی سمارٹ اور کبھی بدھو لاک ڈاؤن، لیکن ان سے وبا کے پھیلاؤ میں کافی کمی آئی۔ حکومت نے طالب علموں کی بد دعائیں لیں، تاجروں کی دھمکیاں سنیں، کچھ جیب خرچ غریبوں کی جیب میں ڈالا، کچھ سیٹھوں کی تجوریاں بھریں لیکن بیماری اور معاشی بدحالی کو اس نہج پر نہیں جانے دیا جو ہمسایہ ملک میں نظر آئی۔
فواد چوہدری مانیں یا نہ مانیں ہمارے صحافی یا غیر صحافی بہنوں اور بھائیوں نے بھی وبا کی رپورٹنگ زیادہ تر ذمہ دارانہ انداز میں کی، جھوٹی اور سنسنی خیز خبریں کم سے کم پھیلائیں لیکن حکومت کی اصل کامیابی اس وقت نظر آئی جب پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا۔ یہ عمل تھوڑا تاخیر سے شروع ہوا اور شروع میں تھوڑا کنفیوژن رہا، لیکن اب جس بڑے پیمانے پر اور جس نظم و ضبط سے لوگوں کو وبا کے ٹیکے لگ رہے ہیں میں نے اپنی زندگی میں اس طریقے سے پاکستان میں کوئی کام ہوتے نہیں دیکھا۔ اپنی تاریخ کی وجہ سے ہم حکومت اور اس کے کارندوں پر اعتبار کم ہی کرتے ہیں، چاہے حکومت کو ہم نے خود منتخب کیا ہو۔ ہم نے تو گاڑی کو پنکچر بھی لگوانا ہو تو کوئی واقف ڈھونڈتے ہیں، کسی سرکاری محکمے میں کام پڑ جائے تو سب سے پہلے سفارش ڈھونڈ لیتے ہیں، ہسپتال جانا ہو تو کسی انکل کے دوست ڈاکٹر سے فون کرواؤ، عدالت میں کلرک کے کزن کا دوست ڈھونڈو، تھانے میں تو کوئی واقف مل بھی جائے تو بھی نہ جاؤ۔
میں تقریباً سو سے زیادہ لوگوں سے پوچھ چکا ہوں کہ ویکسین کہاں سے اور کیسے لگوائی۔ کسی کو سفارش کی ضرورت نہیں پڑی، کسی کا چاچا ماما کام نہیں آیا۔ ان لوگوں میں گھریلو ملازم، سینیئر فنکار اور سیٹھ بھی شامل ہیں اور ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو صبح اٹھتے ہی یہ ’حکومت نالائق ہے، اس ملک میں کوئی نظام ہی نہیں ہے‘ کا ورد کرتے رہتے ہیں، لیکن کسی ایک کے منھ سے بھی ویکسین لگوانے کے عمل کے بارے میں شکایت نہیں سُنی۔ میں نے خود بھی کراچی میں ویکسین کی پہلی خوراک لگوائی اور دوسری پنجاب میں اپنے آبائی شہر میں۔ صرف اتنا پوچھا گیا کہ آپ نے پہلی سندھ میں لگوائی تھی؟ میں نے کہا جی ہاں اور انھوں نے بغیر دوسرا سوال پوچھے مجھے دوسری خوراک لگا دی۔ زندگی میں پہلی دفعہ یہ خوشگوار احساس ہوا کہ یہ تو ہماری حکومت ہے اور اس کے کارندے کتنے مہذب لہجے میں ہم سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ویکسین لگائی ہے تو چند لمحوں کے لیے وہ حکومت کے ساتھ ایک پیج پر آ گئے تھے۔
یہ نظام اس لیے بھی قابل تعریف ہے کہ حکومت نے ابھی تک پرائیویٹ سیکٹر میں ویکسین کی فراہمی کو مؤخر کر کے سیٹھ اور مزدوروں کو چند لمحوں کے لیے سہی مگر ایک صف میں ضرور کھڑا کر دیا۔ چوہدری صاحب جانتے ہوں گے کہ جو حکومت کا قصیدہ پڑھتا ہے وہ اس کے بعد کوئی فرمائش بھی کرتا ہے تو عرض ہے کہ پاکستان میں 30 لاکھ یا اس سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔ وہ آپ کے اور ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ساتھ کام کرتے ہیں، اگر ان کو ویکسین نہیں لگے گی، جو کہ اب تک نہیں لگ رہی، تو کورونا کے بڑھنے کا خدشہ موجود رہے گا۔ چوہدری صاحب کو یہ کام اگر مشکل لگے تو وہ اپنی سائنسی سوچ پر انحصار کریں۔ ابھی ایک سال پہلے تک پوری قوم سمجھتی تھی کہ اگر مفتی منیب اپنی آنکھوں سے چاند نہیں دیکھیں گے تو عید نہیں ہو گی۔ چوہدری صاحب نے مفتی صاحب کو سائنس کی مار مار دی اور اب پوری قوم آرام سے عید مناتی ہے۔
چوہدری صاحب کے ساتھ ساتھ نادرا کے نئے چیئرمین طارق ملک اور مشیر صحت فیصل سلطان صاحب بھی سائنسی سوچ کے لوگ ہیں۔ اگر وہ اپنے رہنما عمران خان کو بھی قائل کر لیں اور وہ بغیر شناختی کارڈ والے شہریوں کے لیے ویکسین کھول لیں تو پوری دنیا میں ہماری غریب پروری اور سائنسی سوچ کے چرچے ہوں گے اور پھر برطانوی کیا ہر غیر ملکی نشریاتی ادارے کو کورونا کے خلاف ہماری کامیابی پر پروگرام کرنے ہوں گے۔
محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو
A Case of Exploding Mangoes by Mohammed Hanif [A Review]
A Case of Exploding Mangoes by Mohammed Hanif [A Review]
A Case of Exploding Mangoes is a dark satire of one of Pakistan’s enduring mysteries – the death of former President General Zia-ul-Haq. Longlisted for the 2008 Booker Prize, it is a funny, provocative and mischievous tale that explores the normally unexplorable.
One morning, Ali Shigri, a Junior Under Officer in the Pakistani Air Force Academy, wakes up to find his roommate, Obaid-ul-llah,…
View On WordPress
قائد اعظم ثانی کے مسائل
قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا۔ جیسا بھی بنایا آج تک قائم دائم ہے۔ بنگلہ دیش والا سانحہ ہو گیا لیکن ہم جیسے محبِ وطن یہ کہہ کر دل کو تسلی دے دیتے ہیں کہ دیکھیں اب مسلمانوں کے ایک نہیں دو ملک بن گئے ہیں۔ عمران خان ایک نیا پاکستان بنانے کے سفر میں ہیں۔ پہلے لگتا تھا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر بازار میں ایک بٹ جیولرز کے نام سے دکان موجود ہے تو کوئی نیا آ کر نیو بٹ جیولرز کے نام سے دکان کھول لیتا ہے۔ لیکن عمران کا نیا پاکستان بنانے کا عزم جاری ہے اسی لیے ان کے چاہنے والے انھیں قائد اعظم ثانی کہتے ہیں۔ ویسے مماثلت بھی کافی ہے۔ دونوں کافی وجیہ ہیں۔ انگریزی ایسے بولتے ہیں کہ انگریز بھی ’واؤ، واؤ‘ کرنے لگتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی تعلیم کے لیے لندن چلے گئے۔ قائداعظم قانون کی تعلیم حاصل کر کے لوٹے۔
عمران خان نے پتا نہیں انگلینڈ میں کیا پڑھا لیکن اب وہ اسلامی تاریخ، ترکی ڈراموں کے عروج و زوال اور کرپشن کے فلسفے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیم بنانے کے تو اتنے ماہر ہیں کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ہی جوڑ کر ٹیم بنائی اور اب بھی اس ٹیم کا بیٹنگ آرڈر آگے پیچھے کرتے ہیں اور اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ وسیم اکرم پلس کو نہ جانے کب کس کا فون آ جائے اور گیم کا پانسہ پلٹ جائے۔ بچپن میں معاشرتی علوم کے استاد قائداعظم کے قول سنایا کرتے تھے جن میں سے ایک یہ تھا کہ قائداعظم نے اپنے ساتھیوں کی نالائقی کے بارے میں کہا تھا کہ میرے جیب میں کھوٹے سکّے ہیں۔
اب یہ کھوٹے سکّے بڑھتے بڑھتے پوری قوم میں تبدیل ہو چکے ہیں اور قائداعظم ثانی کہتے تو نہیں لیکن ان کے لبوں پر اکثر عوام کا گلہ ہی رہتا ہے۔ کوئی سنتا ہی نہیں، کوئی ڈسپلن ہی نہیں۔ حاسدین یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ جس کی طاقت اے ٹی ایم مشینوں سے آئے گی اسے تو عوام کھوٹے سکّے ہی لگیں گے۔ معاشرتی علوم کے استاد اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان مصیبتوں میں اس لیے گھرا ہے کیونکہ قائداعظم پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی انتقال فرما گئے تھے اور بھی کافی بزرگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ کاش اگر قائداعظم زندہ ہوتے تو۔۔۔ ویسے کبھی کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے اگر پرانا پاکستان محمد علی جناح کی بجائے اگر قائداعظم ثانی عمران خان بنا رہے ہوتے تو کیسے سب کے چھکے چھڑا دیتے۔
فرماتے یہ ماؤنٹ بیٹن تو سارا ملک لوٹ کر کھا گیا۔ یہ نہرو، یہ پٹیل یہ سارے کرپشن مافیا کا حصہ ہیں۔ پہلے انھیں نیب کے حوالے کرو نہیں تو میں باؤنڈری کمیشن کی کوئی بات نہیں مانوں گا۔ یہ گاندھی کو ننگا گھومنے کی اجازت کس نے دی ہے۔ اپنے آپ کو مہاتما کہتا ہے اور واسکٹ اس کے پاس ایک نہیں ہے۔ اور کچھ نہیں تو میری طرح کسی سے مانگ کر ہی پہن لے۔ یہ ابوالکلام آزاد ہے یہ تو ہے ہی قوم کا غدار اور گاندھی کا یار۔ مسلمان ہو کر مجھے لیڈر نہیں مانتا۔ پتا کرو کہ ختم نبوت کو بھی مانتا ہے یا نہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے مذاکرات شروع ہوتے تو خان صاحب کو یاد آ جاتا کہ انھوں نے ایک دھرنا دیا ہوا ہے، ادھر بھی جانا ہے۔ کانگریسی لیڈر اور علاقہ مانگتے تو خان صاحب شاید یہ کہہ دیتے کہ چلو یہ اوکاڑہ ان کو دے دو اس میں ہے ہی کیا سوائے ایک ستلج کاٹن مل کے۔
اور مانگے تو کہتے ہاں یہ ٹیکسلا لے لو یہ تو ہے ہی ہندوؤں کا مکہ مدینہ۔ کوئی کہتا کہ نہیں خان صاحب بدھوں کا، تو کہتے ان دونوں میں کیا فرق ہے مجھے تو دونوں نہیں مانتے۔ شاید خان صاحب کی مذاکراتی ٹیم میں سے کوئی نقشہ نکال کر دکھاتا اور کہتا کہ سر یہ تو سرحد سے کافی دور ہیں تو شاید خان صاحب فرماتے کہ بلاؤ اسد عمر کو وہ اینگرو کو چلاتا رہا ہے یہ ملک تو وہ لنچ بریک میں ہی بنا لے گا۔ ویسے بھی میرا ورک آؤٹ کا ٹائم ہو گیا ہے۔ بندے کو فٹ رہنا چاہیے۔ آخر نیا ملک بنانا ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔ اور پھر خان صاحب شاید یہ فرماتے کہ میں نے تو پاکستان کب کا بنا لینا تھا۔ یہ تو جو چیف منسٹر بیٹھے ہوئے ہیں مراد علی شاہ جیسے ڈکٹیٹر یہ مجھے بنانے ہی نہیں دیتے۔
محمد حنیف
بشکریہ بی بی سی اردو