Kesineni Shivanath : ఎంపీని మర్యాదపూర్వకంగా కలిసిన పి. ఈశ్వర్
తేదీ : 14/05/2025. యన్ టి ఆర్ జిల్లా: (త్రినేత్రం న్యూస్); ఆంధ్రప్రదేశ
seen from China

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from Sweden
seen from Finland
seen from United States

seen from United States
seen from Malaysia
seen from Yemen
seen from Hong Kong SAR China
seen from United Kingdom
seen from Germany
seen from Japan
seen from France

seen from Malaysia
seen from Germany
seen from France
seen from Türkiye
seen from United States
Kesineni Shivanath : ఎంపీని మర్యాదపూర్వకంగా కలిసిన పి. ఈశ్వర్
తేదీ : 14/05/2025. యన్ టి ఆర్ జిల్లా: (త్రినేత్రం న్యూస్); ఆంధ్రప్రదేశ
पाकिस्तान के पेशावर में दो गुटों के बीच गोलीबारी, 5 लोगों की मौत
पाकिस्तान के पेशावर (Peshawar) में दो पक्षों के बीच गोलीबारी में 5 लोगों की मौत हो गई और 6 अन्य घायल हो गए। वरिष्ठ पुलिस अधीक्षक (एसएसपी) ऑपरेशन काशिफ जुल्फिकार ने घटना को लेकर कहा कि यह घटना दो पक्षों के बीच गोलीबारी के दौरान हुई, जो व्यक्तिगत दुश्मनी का संकेत है। अधिकारी ने आगे घटना को लेकर कहा कि भारी पुलिस दल घटना स्थल पर पहुंचा और भाग रहे संदिग्धों की तलाश की जा रही है। रिपोर्ट के मुताबिक,…
In the southwestern Pakistani city of Quetta, hundreds of people continued a sit-in protest for the third consecutive day. They are protesting the January 3 killing of 11 Shi’ite Hazara coal miners in an attack claimed by the Islamic State (IS) extremist group-RFE/RL
In the southwestern Pakistani city of Quetta, hundreds of people continued a sit-in protest for the third consecutive day. They are protesting the January 3 killing of 11 Shi’ite Hazara coal miners in an attack claimed by the Islamic State (IS) extremist group-RFE/RL
کروشیہ والی مائی کا اللہ پر اعتقاد
ہاتھ سے کروشیہ کا ہنر اگرچہ آج کل کے مشینی دور میں کم کم ہی نظر آتا ہے، لیکن پشاور کی نرگس بی بی آج بھی اس ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور قدامت پسند معاشرے کی پرواہ کیے بغیر سڑک پر بیٹھ کر مزدوری کرتی ہیں۔ خریدار ان کے ساتھ قیمتوں پر تکرار کرتے ہیں اور بلآخر کوئی ایک چیز پسند کرکے لے جاتے ہیں۔ نرگس بی بی نے سوئیوں اور اون پر ہنرمندی کے ساتھ تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے جی سی این اردو کو بتایا کہ وہ تقریباً 12 سال کی تھیں جب انہوں نے یہ ہنر سیکھا۔ ’میں تب سے کروشیہ کر رہی ہوں۔ میں اس سے لباس، جوتے، ٹوپیاں، بیڈ شیٹس، کمبل، سکارف سب کچھ بناتی ہوں۔ اکثر خواتین خود اون کے گولے لا کر اپنی پسند کی کوئی چیز بنانے کا آرڈر دے دیتی ہیں۔‘ نرگس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ہتھ گاڑی خود کھینچتے ہوئے پشاور کے مختلف علاقوں میں جاتی ہیں۔ وہ اپنے گھر کی واحد کفیل ہیں۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں، جن میں ایک کی شادی اور جہیز بھی انہوں نے اسی مزدوری میں پورا کیا۔ نرگس بی بی کے مطابق وہ کروشیہ کے ہنر سے یومیہ 200 سے 500 روپے کما لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا: Read the full article
پشاور بی آر ٹی کا سفر: 'ادھر ڈوبے، ادھر نکلے'
گاؤں سے لوٹتے ہوئے گاڑی جوں ہی موٹر وے سے نیچے اتری تو میرے اندر کا خوابیدہ ایڈونچر پسند نوجوان جاگ اٹھا اور گاڑی کو گھر رخصت کرتے ہوئے پشاور کے مشرقی سرے پر واقع بی آر ٹی سٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ کر ٹکٹ لینے بوتھ پر چلا آیا۔ ٹکٹ بوتھ پر 'قومی شناخت' یعنی جم غفیر اور دھکم پیل دیکھ کر واپس لو ٹنے کو تھا کہ ایک ہینڈسم نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور خود کو بی آر ٹی کا سٹیشن مینیجر اور میری تحریروں کا دلدادہ بتا کر گرم جوشی سے تعارف کروایا اور 'میرے لائق کوئی خدمت ' کا پوچھا تو میں نے فوراً سو روپے کا نوٹ نکال کر اسے ٹکٹ کی خدمت کا موقع فراہم کیا۔ لیکن پیسے لینے کی بجائے وہ بھاگ کر ٹکٹ بوتھ کے اندر گیا اور 50 روپے کا ٹکٹ لاکر میرے ہاتھ پر رکھا اور مجھے جم غفیر اور دھکم پیل سے بچاتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس لا کر گرم جوشی اور شائستگی سے رخصت کیا۔ نیچے اتر کر میں دو قطاروں میں سے ایک قطار میں کھڑا ہو گیا۔ 14 اگست کی تپتی ہوئی حبس زدہ سہ پہر میں میرا خیال تھا کہ روایتی اور تکلیف دہ انتظار کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حیرت انگیز طور پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بی آر ٹی بس ہمارے سامنے آ کر رکی۔ چونکہ اس منصوبے کا صرف ایک دن پہلے ہی افتتاح ہوا تھا، اس لیے عام لوگوں کا جوش و خروش بلکہ ندیدہ پن اور بے ترتیبی پورے جوبن پر تھی۔ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے ہم بس میں داخل ہوئے تو شور و غل اور رش کے باوجود بھی اندر کا ٹھنڈا اور سہولت آمیز ماحول ایک سرشار کر دینے والا احساس دلانے کے لیے کافی تھا۔ چند سیکنڈ رکنے کے بعد بس روانہ ہوئی۔ بہت سے نوجوان بس میں موجود وائی فائی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائیو ویڈیوز بناتے اور اس پر کمنٹری کرتے رہے۔ پرانے شہر کے رش کو محفوظ ٹریک سے چیرتے ہوئے بس چند منٹ Read the full article
بی آرٹی کے لیے سالانہ پانچ ارب روپے کہاں سے آئیں گے؟
بہت سالوں کے انتظار کے بعد تقریباً 70 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے خیبر پختونخوا حکومت کے میگا پراجیکٹ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کردیا ۔بی آرٹی بننے اور چلانے کے بعد اس کے آپریشن اور مینٹی ننس کے لیے سالانہ تقریباً پانچ ارب روپے درکار ہوں گے اور ان اخراجات میں سالانہ تین فیصد اضافہ بھی ہوگا۔ جی سی این اردو کو دستیاب بی آر ٹی کی سرکاری دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے بننے والی بی آرٹی کے آپریٹنگ اخراجات میں بی آر ٹی کو چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور کے خرچے، ڈرائیوروں کے تنخواہیں، گاڑیوں کی مینٹی ننس، کرایوں کے سسٹم یعنی ٹکٹ مشینز وغیرہ کے اخراجات اور سٹیشنز کی صفائی شامل ہے۔ دستاویز کے مطابق آپریٹنگ اخراجات کے علاوہ گاڑی کے تیل کا خرچہ تقریباً 78 روپے فی کلومیٹر ہوگا۔ ڈپو سے لے کر سٹیشن تک ٹکٹنگ عملے سے متعلق اخراجات تقریباً 48 روپے فی کلومیٹر ہوں گے۔ لبریکینٹ، فلٹرز اور ٹائرز کا تخمینہ تین روپے فی کلومیٹر لگایا گیا ہے اور اسی طرح تقریباً تین روپے فی کلومیٹر کا خرچہ دیگر اخراجات میں شامل ہے۔ اسی دستاویزات میں لکھا گیا ہے کہ کُل ملا کر یہ اخراجات سالانہ تقریباً 33 ملین ڈالر یا پانچ ارب روپے سے زائد بنتے ہیں اور اس میں سالانہ کے حساب سے تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔ دستاویز کے مطابق حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ بی آر ٹی سے سالانہ 40 ملین ڈالر یا چھ ارب روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوگی، جس کا بڑا ذریعہ کرایوں کی مد میں ملنے والی رقم ہوگی، جو اوسطاً 25 روپے فی ٹرپ کے حساب سے ہوگا جبکہ اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی کرایوں سے ملنے والی آمدنی کا تین فیصد ہوگی۔ اسی طرح بی آرٹی پیکج میں بننے والے کمرشل پارکنگ پلازوں اور دکانوں Read the full article
پشاور سے فرار ہوا جس کا پلان پہلے ہی بنا لیا تھا: احسان اللہ احسان
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا کے لیے ایک صوتی پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی قید سے اپنے فرار کی روداد بیان کی ہے۔ احسان اللہ احسان نے اس پیغام میں اپنے فرار کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھنے کی بھی بات کی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس خط کا جواب نہیں ملا۔ احسان اللہ احسان کا گیارہ منٹ اور پچاس سیکنڈ دورانیہ کا آڈیو میسج پیر کی رات سات بجے ان کے نام سے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا۔ اور تقریبا اسی وقت اس کا لنک احسان اللہ احسان کے نام سے موجود ٹویٹر ہینڈل پر بھی شیر ہوا۔ انہوں نے خود بھی اسے صحافیوں کے ساتھ شیئر کیا۔ آڈیو پیغام میں سنی جانے والی آواز واقعی احسان اللہ احسان کی ہے یا نہیں اس بارے میں نہ تو حکومت اور نہ کسی اور آزاد ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے احسان اللہ احسان کے اس آڈیو بیان پر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا ردعمل حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم پاکستانی حکام نے فل الحال اس سلسلہ میں خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ احسان اللہ احسان نے، جن کا اصلی نام لیاقت علی اور تعلق سابق قبائلی علاقہ مہمند ایجنسی سے ہے، 2017 میں خود کو ایک معاہدہ کے تحت پاکستانی حکام کے حوالہ کیا تھا۔ اس سال فروری میں انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ اپنے فرار کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 12 جنوری (2020) کو وہ اپنے خاندان سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے بعد میں سرکاری طور پر ان کے فرار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک آپریشن کے دوران بھاگنےمیں کامیاب ہوئے۔ حالیہ پیغام میں احسان اللہ احسان نے پاکستانی حکام کے اس دعویٰ کی تردید کی Read the full article
میں نے کپتان چپل پہننا کیوں چھوڑ دیے؟
کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کپتان چپل کا بڑا شور تھا۔ کپتان نے پہن لیے تو بنانے والوں کے وارے نیارے ہو گئے اور شہر شہر برانچیں کھل گئیں اور کپتان چپل منہ مانگے دام پر فروخت ہونے لگے۔ کپتان چپل کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ وہی چمڑا تھا، وہی تلوے تھے، بنانے والے کب سے بنا رہے تھے، مگر کوئی پوچھتا تک نہیں تھا۔ مگر جب کپتان نے ان چپلوں میں اپنا پاؤں ڈالا تو ان کو ایک نام مل گیا، ’کپتان چپل۔‘ بس پھر کیا تھا یہ چپل ہاتھوں ہاتھ بلکہ پاؤں پاؤں بکنا شروع ہو گئے۔ یہی شہرہ سن کر ہم بھی کپتان چپل خریدنے ایک دکان پر پہنچ گئے۔ پہلے اچھی طرح تسلی کی کہ اصلی کپتان چپل ہیں۔ دکاندار نے یقین دہانیاں کرائیں کہ چارسدہ کی ہیں، کپتان کی تصاویر بھی دکھائیں جو ان کی دکان پر تشریف لے گئے تھے۔ وہ چپل پہن کر ایک عجب سکون محسوس ہوا کہ اسی قسم کے چپل ہمارا کپتان پہنتا ہے۔ وہ کپتان جس نے ورلڈ کپ جتوایا، وہ کپتان جس نے ہسپتال بنوایا وہ کپتان جس نے دو پارٹی سسٹم میں اپنی جگہ بناتے ہوئے چوروں ڈاکوں کو للکارا۔ وہ کپتان جس نے دو عشروں کی محنت ایک امید کے تحت کی اور اپنے چاہنے والوں کو بھی امید کی کرنیں دکھائیں۔ آخرکار دیوانے کا خواب پورا ہوا اور کپتان کی کپتانی کا وقت آیا۔ ہر کسی کو یقین تھا کہ بس اب تو کپتان کسی کو نہیں چھوڑے گا جو بھی دو نمبری کرے گا، یہی چپل ہو گی اور اس کی کمر۔ کپتان تو ویسے بھی بےدید مشہور ہے۔ شور اٹھے گا واہ! یہ ہوتا ہے انصاف، یہ ہوتی ہے حکمرانی اور یہ ہوتی ہے وعدے کی پاسداری۔ ملک میں ہر طرف سکون ہو گا، مہنگائی سے پسی عوام سکون کا سانس لیں گے، برسوں سے پولیس کی ستائی قوم ایک نیا نظام دیکھے گی۔ ہسپتال میں جا کر کوئی خوار نہیں ہو گا، تعلیم کا یکساں نظام ہو گا، اقربا پروری کا تو لفظ Read the full article