https://youtu.be/RvCmamM5OWU
قائداعظم اور رفقاء کی پاکستان سے والہانہ محبت۔
اپنا سب کچھ ملک پر لٹانے والے قائداعظم کے ساتھی۔
آج کے جاگیردار، وڈیروں لٹیروں کی داستان۔
تفصیلی تجزیہ ویلاگ میں۔

seen from Ukraine
seen from Uzbekistan

seen from Malaysia

seen from Czechia
seen from Russia
seen from Italy
seen from Spain
seen from Georgia

seen from Czechia

seen from Malaysia
seen from Mexico

seen from Malaysia
seen from Brazil
seen from Malaysia

seen from Uzbekistan
seen from Germany
seen from Bolivia
seen from Mexico
seen from Philippines

seen from United States
https://youtu.be/RvCmamM5OWU
قائداعظم اور رفقاء کی پاکستان سے والہانہ محبت۔
اپنا سب کچھ ملک پر لٹانے والے قائداعظم کے ساتھی۔
آج کے جاگیردار، وڈیروں لٹیروں کی داستان۔
تفصیلی تجزیہ ویلاگ میں۔
ایک ملک اب بھی ایسا جس کے اخبارات میں آج بھی قائداعظم پر تنقید کی جاتی ہے
اسلام آباد (جی سی این رپورٹ) اسرائیلی اخبارات میں آج بھی قائداعظم پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمائت کی تھی، متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا، پہلی مرتبہ فلسطین پر قبضے کے نتیجے میں وجود میں آنے والے اسرائیل اور کسی خلیجی ملک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی کے تعاون سے طے پائے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ اسرائیل اور کسی خلیجی اسلامی ملک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کے علاوہ 2 اسلامی مملک اردن اور مصر نے بھی اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات کے حکمراں محمد بن زاید کی جانب سے کی گئی خصوصی ٹوئٹ میں اسرائیل کیساتھ طے پائے امن معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ''اسرائیلی اخبارات میں آج بھی قائداعظم پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمائت کی تھی کچھ عرب ممالک بھلے اسرائیل کو تسلیم کر لیں پاکستان اسوقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسلئہ فلسطین حل نہ ہو'' Read the full article
" جناح کے تین پر مزاح جملے جو تاریخ نے درست ثابت کر دیئے"
دھان پان کے جسم اور آہنی اعصاب والے محمد علی جناح کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے. خاص کر حکمران طبقے کے آگے جھکنے یا معذرت خواہانہ عاجزی کے شدید خلاف تھے. زیرِ نظر تین مختصر واقعات انکے مزاح کی شگفتگی کے ساتھ ساتھ مذکورہ تین شخصیات کے متعلق جامع آگاہی بھی فراہم کرتے ہیں. جناح کبھی بھی نہرو کے سیاسی نظریات سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے. نہرو کے سوشلزم کے متعلق انہوں نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ " نہرو ایک پینڈولم کی طرح بنارس اور ماسکو کے درمیان لٹکتے رہتے ہیں.". پارٹیشن کے بعد نہرو کی بھارت پر 17 برس کی اقتصادی اور سماجی طور پر پر بدترین حکمرانی نے یہ جملہ درست ثابت کر دیا. دوسری جنگ عظیم میں ایک برطانوی شخص ولیم جوائس نے جرمنی کی شہریت لیکر برطانیہ کے خلاف خوب فاشسٹ پراپیگنڈا کیا. ریڈیو برلن سے اسکے پروگراموں نے انگلینڈ میں آگ لگا دی. اسے اپنی شعلہ بیانی، مبالغہ آرائی اور کذب بیانی کی وجہ " لارڈ ھا ھا" Lord Haw Haw کا خطاب دیا گیا. جنگ کے خاتمے کے بعد غداری کے الزام میں اسے انگلینڈ نے پھانسی دیدی. غداری کے جرم میں سزا پانے والا وہ برٹن کا آخری شخص تھا. انہی دنوں میں سیکرٹری اسٹیٹ برائے بھارت، لارڈ پیتھک لارنس نے جناح سے ملاقات کی. لارڈ لارنس جو جناح کو تقسیم سے روکنا چاہتے تھے، دوران گفتگو بولے " دیکھیں مولانا ابوالکلام آزاد جیسا مسلمان رہنما بھی تقسیم کا مخالف ہے." جناح فوراً بولے " ہر قوم کا ایک لارڈ ھا ھا ہوتا ہے." ایک رات دوران پوجا گاندھی جی کے گرد سانپ گردش کرتا رہا مگر اس نے انہیں کاٹنے گریز کیا. پریس نے گاندھی جی کی کرامت کو خوب اچھالا اور انہیں بار بار مہاتما قرار دیا. جناح کو بھی اکسایا گیا کہ آپ بھی گاندھی کو مہاتما کہیں کہ انہیں سانپ بھی نہیں ڈنگ مار سکتا. جناح نے انہیں مہاتما تسلیم کرنے سے انکار کیا. جب صحافیوں نے اس غیر معمولی واقعہ پر محمد علی جناح کا رد عمل جاننا چاہا تو ان کا جواب تھا " سانپ کے گاندھی کو نہ کاٹنے میں کوئی بھی غیر معمولی بات نہیں. آخر کو پروفیشنل آداب بھی تو کچھ معنی رکھتے ہیں" Read the full article
Leaving My Remarks in the Visitors Book 📙 at #PAFMeusem Karachi ❤️ Was Really feeling Proud & in this Pic you can see behind me the Aircraft of our National Hero #Quaid_E_Azam #Pakistan 🇵🇰 #NationalHero 😍 #quaidazam #paf #museum https://www.instagram.com/p/BulxD2YgCTV/?utm_source=ig_tumblr_share&igshid=bz58ykv3zhcq