seen from China
seen from United Kingdom
seen from Egypt
seen from Serbia
seen from United States

seen from United States
seen from Netherlands
seen from United States

seen from Bulgaria
seen from Australia
seen from United States

seen from United Kingdom
seen from Australia

seen from Bulgaria
seen from Australia
seen from Canada
seen from Netherlands
seen from China
seen from India
seen from Netherlands
اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے
اس دنیا کی سفاکیوں اور خود غرضیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اقوامِ متحدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ دنیا نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ڈر کر اکیاسی برس پہلے بڑے ارمانوں سے جو ادارہ بنایا اسے رفتہ رفتہ اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اب یہ نوبت ہے کہ سب سے بڑی عالمی تنظیم شاہراہِ عالم پر کشکول لیے کھڑی ہے۔ کوئی اس کشکول میں چند سکے ڈال دیتا ہے اور بہت سے منہ پھیر کے گزر جاتے ہیں اور کچھ تو حقارت سے تھوکتے ہوئے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ایک ہڈ حرام سفید ہاتھی ہے۔ یہ ادارہ دنیا سے جنگیں ، بے گھری ، ماحولیاتی ابتری اور بھوک مٹانے کی بنیادی ذمے داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہے۔ اسے ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ ہم کہاں تک اس بڑھیا کو گود میں اٹھائے اٹھائے گھومتے پھریں۔ مگر اس منافقانہ پروپیگنڈے کا پول دو برس پہلے ہی کھل گیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے سال دو ہزار پچیس کے لیے اپنے ارکان سے چورانوے ارب ڈالر کی اصل ضرورت کو کم کر کے صرف سینتالیس ارب ڈالر انسانی امداد کی مد میں طلب کیے۔ پھر بھی بارہ ارب ڈالر ہی میسر آ سکے۔ یہ رقم ایک چوتھائی عالمی انسانی ضروریات کے لیے بھی ناکافی تھی۔
اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے رواں برس کے لیے اقوامِ متحدہ نے صرف تئیس ارب ڈالر چندے کی درخواست کی ہے تاکہ دنیا کے سب سے زیادہ ابتر خطوں کے لوگ کم ازکم جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ باقی مصیبت زدگان اوپر والے کے حوالے۔ اقوامِ متحدہ کو بیشتر امداد یورپ اور امریکا سے ملتی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ان مغربی مخیر ممالک نے مختلف حیلوں بہانوں سے خاصی حد تک ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے سربراہ ٹام فلیچر کے بقول ’’ ہمیں پیسہ نہیں مل رہا اور ہمارے بازوعالمی انسانی ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے شل ہو چکے ہیں۔ ہمارے امدادی اہلکار دنیا بھر میں مسلح حملے بڑھنے کے سبب خود کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ پھر بھی ہم انسانیت کو آگ سے نکالنے کے لیے ایمبولینس سروس چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ آگ بجھانا بھی ہماری ہی ذمے داری ہے۔ مگر ہم کریں تو کیا کریں ؟ آگ بجھانے کے لیے ہمیں مطلوبہ پانی بھی نہیں مل رہا اور گولیاں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ‘‘۔
ٹام فلیچر کے مطابق اس وقت دنیا میں ستاسی ملین وہ لوگ ہیں جن کی زندگی براہِ راست خطرے میں ہے۔ حالانکہ ہم چاہتے ہیں کہ موت و زندگی کے درمیان معلق ایک سو پینتیس ملین دیگر لوگوں کی مدد بھی کر سکیں مگر اس کے لیے درکار تینتیس ارب ڈالر کون دے گا۔ اس لمحے اگر اقوامِ متحدہ تمام انسانی سرگرمیاں ترک بھی کر دے تب بھی غزہ اور مغربی کنارے کے تیس لاکھ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اسے دو ہزار چھبیس میں کم ازکم چار ارب ڈالر درکار ہیں۔ دوسرے نمبر پر سوڈان کی خانہ جنگی کے ڈسے لگ بھگ دو کروڑ دربدر لوگ ہیں۔ ان کے فوری بچاؤ کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کی اشد ضرورت ہے۔ تیسرے نمبر پر شام کے اندر اور باہر موجود چھیاسی لاکھ پناہ گزینوں کے لیے دو اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر چاہئیں۔ عالمی برادری کی امدادی بے حسی کے سبب اقوامِ متحدہ فی الحال باقی دو سو چالیس ملین لوگوں کے لیے ہنگامی امداد مانگنے سے ڈر رہی ہے جنھیں موسمیاتی تبدیلیوں ، قدرتی آفات اور وباؤں نے کہیں کا نہ رکھا۔ ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اب تو نوبت یہ آ گئی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رکن امیر ممالک کا رویہ دیکھ کر ہم سول سوسائٹی ، کارپوریٹ دنیا اور عام مخیر حضرات کے آگے بھی کشکول پھیلانے کا سوچ رہے ہیں۔ ایسا پچھلے اسی برس میں کبھی نہیں ہوا۔
اقوامِ متحدہ کی عالمی امن اور فلاح کی سرگرمیاں ارکان کے چندے کی مرہونِ منت ہیں۔ ہر رکن ملک پر ایک خاص شرح سے چندہ دینا لازم ہے۔ اس کا تعین رکن ملک کی قومی آمدنی ، آبادی ، قرضوں کے بوجھ ، معیارِ زندگی وغیرہ کو مدِ نظر رکھ کے ایک فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے۔ ایک درجن سے زائد امیر ممالک کی امداد ادارے کے کاموں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تاہم اس وقت اقوامِ متحدہ کو واجب الادا چندے کی مد میں لگ بھگ تین ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے۔ امریکا کے ذمے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بقایا جات ہیں۔ نادہندگان کی فہرست میں چین ، سعودی عرب ، روس ، میکسیکو اور وینزویلا بھی شامل ہیں۔ امریکا گزشتہ برس تک اقوامِ متحدہ کے کل بجٹ کا اکتیس فیصد بھرتا آیا ہے۔ اس کے بعد جرمنی اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں دس فیصد ، برطانیہ سات فیصد اور چین پانچ فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ دیگر ارکان بشمول یورپی یونین و جاپان تنظیم کے بجٹ کا بقیہ سینتالیس فیصد پورا کرتے ہیں۔ مگر اب ان کلیدی چندہ دھندگان نے بھی ٹال مٹول شروع کر دی ہے۔
چنانچہ اقوامِ متحدہ اپنی بڑھتی ہوئی عالمی ذمے داریوں مگر کمزور مالی حالات کے سبب بری طرح ہانپ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیموں مثلاً عالمی ادارہِ خوراک ( ایف ڈبلیو او ) ، عالمی ادارہِ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) ، ادارہ برائے پناہ گزیناں ( یو این ایچ سی آر ) ، ادارہ برائے اطفال ( یونیسف ) ، ادارہ برائے تعلیم و ثقافت ( یونیسکو ) ، انسانی حقوق کونسل ، عالمی عدالتِ انصاف و جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت اور امن فوج کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر اور اچانک پالیسیوں کے سبب اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی امداد اکتیس فیصد سے گھٹ کر دو ہزار چھبیس کے لیے پندرہ اعشاریہ چھ فیصد تک آ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلی اہلکار ٹم فلیچر مزید کہتے ہیں کہ ایک جانب تو ادارے کی مالی حالت گھمبیر ہے اور دوسری جانب مغربی ممالک میں دائیں بازو کی قوتیں عام آدمی کو یہ تاثر دینے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں کہ تمہارے ٹیکسوں کو امداد کے نام پر لٹایا اور ضایع کیا جا رہا ہے۔ ٹم فلیچر نے طنز کیا کہ جو دنیا اسلحے کی خریداری پر سالانہ دو اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر خرچ کر رہی ہے وہی دنیا اس خرچے کا محض ایک فیصد بھی اقوامِ متحدہ کو فراہم نہیں کر پا رہی۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ ایکسپریس نیوز
Following months of lying and luring the world to justify starving 2 million Palestinians in Gaza, and just days after a U.S. report confirmed Hamas does not control humanitarian aid, an Israeli military official now admits to The New York Times:
Now the zionists, who were so adamant that the Reuters article specified the fraudulent GHF and not the UN, should be satisfied that their zionist paper of record and voice for genocide confirms that Hamas doesn't control or steal UN aid, either.
UN warns Gaza fuel shortage will stop aid work by end of day - Times of India
GAZA STRIP: The main UN aid agency in besieged Gaza warned it will have to stop operations by the end of Wednesday because it is running out of fuel as Hamas said the death toll from Israeli strikes had surged by more than 700 in a single day.Alarm has grown about the spiralling humanitarian crisis in the heavily bombarded Gaza Strip where one doctor said he was forced to perform emergency…
View On WordPress
Nearly 132 Million People Will Need Help, U.N. Says in 2019 Appeal
By Nick Cumming-Bruce, NY Times, Dec. 4, 2018
GENEVA--Nearly 132 million people will need aid and protection in 2019, the United Nations said on Tuesday, opening an appeal for about $25 billion as more and more people are displaced by conflicts and protracted conflicts absorb most of the assistance.
Mark Lowcock, the United Nations aid coordinator, said that one out of every 70 people on earth will need assistance next year in seeking an increase in donations of about 10 percent, even though relief agencies are becoming more efficient.
The biggest challenge in 2019 will be the three-year old conflict in Yemen, which has driven millions toward famine and has given the country the status of the world’s worst humanitarian crisis. Next year, nearly 24 million people--three-quarters of the population--will need some form of assistance, Mr. Lowcock said.
The number of people in Yemen receiving food aid from the United Nations each month climbed from three million people in 2017 to eight million this year and will rise to 12 million in the coming year, he added.
The United Nations cited estimates that 57,000 people had died since the conflict started and close to four million people had been forced from their homes, including 600,000 people who fled Hudaydah, which is home to Yemen’s biggest port and the target of an offensive by Saudi-backed forces.
But the $4 billion in relief the United Nations hopes to deliver in 2019 to stave off a catastrophic famine is a fraction of what is needed to enable the government to resume core functions, including paying teachers and civil servants. Such support would need to continue for years to prevent the country from falling back into crisis.
Yemen was the most extreme example of a significant rise in hunger. Between 2015 and 2017 the number of people facing a food crisis rose by more than half, to 124 million in 51 countries, the United Nations reported.
The changing climate means that hunger is likely to remain a major concern in 2019, when an El Niño event, the Pacific climate cycle that typically amplifies heat and is usually associated with record-breaking temperatures, is expected, Mr. Lowcock noted. An assessment by the United Nations found that 25 countries were at high risk of drought, tropical cyclones and floods.
The bigger cause of hunger remained conflict and insecurity, which displaced close to 69 million people in 2017 and drove up levels of poverty, malnutrition and disease, while hampering deliveries of humanitarian aid.
In South Sudan, where the situation is among the most dire, five years of civil war had left five million people, or half the population, in need of food aid heading into 2019, the United Nations said.
The horrific ethnic violence in South Sudan, which is estimated to have cost more than 380,000 lives and devastated its fragile economy, underscores another worrying trend: Increasingly protracted crises that monopolize ever higher shares of available aid.
In the past five years, Sudan, South Sudan, Syria and Somalia have absorbed more than half of all international humanitarian aid, the United Nations reported. Three years ago, conflicts that had lasted more than five years accounted for less than half the available aid; last year they took more than 80 percent.
The trend is deeply worrying, James Munn, Geneva director of the Norwegian Refugee Council said in statement. “Humanitarian assistance will never become anything but a band-aid solution,” he warned, adding that the victims of conflicts need warring parties and countries with influence over them to find political solutions.