ہمیں ان پر بڑا ترس آتا ہے جو بچپن میں کبھی ننگے پیر نہیں پھرے اور نہ بارش میں نہاۓ۔ انہوں نے اپنا بچپن ضائع کیا۔ وہ کیا جانیں کہ جب بادلوں کے جھما جھم بان، گرمی دانے سے بھرے بدن کو باڑھ پر رکھ لیتے ہیں تو کیسی گدگدی ہوتی ہے اور زمین کا ہر قدم پر بدلتا ہوا سبھاؤ اور کورا پنڈا، اس کی نرمی، گرمی اور کٹیلا پن کیا چیز ہوتی ہے۔ دھرتی اپنا آپا اور بھید بھاؤ جوتے کے تلے کو نہیں دکھایا کرتی۔
(اقتباس: مشتاق احمد یوسفی کی کتاب "زر گزشت" سے)












