Sniper shield World War One
seen from South Korea

seen from Netherlands

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Malaysia

seen from Maldives

seen from United States
seen from Japan
seen from United States
seen from China
seen from United States
seen from Türkiye

seen from Belgium
seen from South Korea
seen from China

seen from Sweden

seen from United Kingdom
seen from China

seen from Italy
seen from Singapore
Sniper shield World War One
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
پہلے ہم سوویت یونین اور امریکا کی سرد جنگ کی ایک کہانی سنائیں گے۔ پھر ہم دوسری سرد جنگ کی کہانی سنائیں گے۔ پہلی سرد جنگ کے عروج میں جوہری ہتھیاروں سے لیس بارہ سے چوبیس امریکی B52 بمبار دنیا کے تمام کونوں تک رسائی کے لیے مختلف راستوں پر چوبیس گھنٹے محوِ پرواز رہتے تاکہ کسی لمحے سوویت یونین جوہری حملے میں پہل کرے تو بروقت موثر ابتدائی جواب دیا جا سکے۔ سترہ جنوری انیس سو چھیاسٹھ کو ایسا ہی ایک B52 طیارہ امریکی ساحلی ریاست شمالی کیرولائنا سے بحیرہ روم تک کے گشتی دائرے میں پرواز کر رہا تھا کہ اسے ری فیولنگ کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ امریکی فضائیہ کا ایک کے سی 135 آئیل ٹینکر جنوبی اسپین سے اڑا اور بی باون کو ری فیول کرنے کی کوشش میں ٹکرا گیا۔ دونوں طیارے آگ کا گولہ بن گئے۔ ری فیولنگ ٹینکر کا چار رکنی کریو کباب ہو گیا اور بی باون کے سات رکنی عملے میں سے چار پیرا شوٹنگ کر گئے۔
دونوں طیاروں کا ملبہ جنوبی اسپین کے ساحلی قصبے پلوماریز کے اردگرد بکھر گیا ۔ طیاروں کے حادثات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مگرمسئلہ یہ تھا کہ اس بی باون طیارے پر ایک ہائیڈروجن بم اور تین ایٹم بم لدے ہوئے تھے۔ تینوں ایٹم بم خشکی پر گرے۔ ایک سالم مل گیا۔ باقی دو کے چونکہ پیراشوٹ نہیں کھل سکے لہٰذا وہ بتدریج اترنے کے بجائے گرتے ہی زمین میں دھنس گئے۔ ان کا خول ٹوٹنے سے لگ بھگ سو ایکٹر کے رقبے میں سات سے دس کلو گرام پلوٹونیم بکھر گیا۔ چنانچہ اس علاقے کو خالی کرا کے ناکہ بندی کر دی گئی اور چوبیس گھنٹے کے اندر سات سو امریکی فوجیوں اور دفاعی ماہرین نے تینوں بم دریافت کر لیے۔ مسئلہ چوتھے بم کا تھا اور یہ ہائیڈروجن بم تھا جو سمندر میں جا گرا تھا اور دو ہزار آٹھ سو پچاس فٹ کی گہرائی میں بیٹھ گیا تھا۔ خدشہ تھا کہ آس پاس منڈلانے والے سوویت سراغ رساں جہاز کہیں اسے قبضے میں لینے کی کوشش نہ کریں۔ بیس سے زائد امریکی جنگی جہازوں اور آبدوزوں کو طلب کر لیا گیا اور چار ماہ کی تلاش کے بعد یہ بم بھی مل گیا۔
سمندر سے نکالے جانے والے اس بم کی تصاویر بھی مغربی اخبارات میں شایع کرائی گئیں تاکہ سوویت یونین ٹیکنالوجی میں امریکی سبقت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو اور اسے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کی امریکی صلاحیت کے بارے میں پروپیگنڈے کا تازہ ہتھیار میسر نہ آ جائے۔ اس آپریشن پر انیس سو چھیاسٹھ میں دس ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ آج بھی پلوماریز قصبے کا سو ایکڑ کا ٹکڑا تابکاری کے سبب علاقہِ ممنوعہ ہے اور امریکا نے اس کی مکمل صفائی کے لیے کوئی خاص تعاون نہیں کیا۔ البتہ دیگر ممکنہ متاثرہ علاقے کی تین تین انچ زمین کھود کر اس کی خاک کو ضرور ٹھکانے لگا دیا گیا۔ اسپین اور امریکا نے دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ علاقہ تابکاری سے پاک ہے اور اسپین میں امریکی سفیر بڈل ڈیوک کی پلوماریز کے ساحل پر نہانے کی تصاویر بھی شایع ہوئیں۔ مگر آج چھپن برس بعد بھی سیاح اس قصبے کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں اور یہاں کے کسانوں کو زرعی پیداوار کی فروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔
انیس سو چوہتر میں امریکی ریاست ہوائی کے نزدیک ایک سوویت آبدوز حادثاتی طور پر ڈوب گئی۔ امریکی سی آئی اے نے اسے سرتوڑ کوششوں کے بعد سمندر کی تہہ سے نکال لیا تاکہ سوویت ٹیکنالوجی کا مطالعہ اور اس کا توڑ ہو سکے۔ پہلی سرد جنگ کا خاتمہ تو انیس سو نوے میں سوویت زوال کے ساتھ ہی ہو گیا۔ اب اکیسویں صدی کی سرد جنگ میں امریکا کا مدِ مقابل چین ہے۔ گزشتہ ہفتے (چوبیس جنوری) ایک ایف پینتیس طیارہ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی طیارہ بردار جہاز کارل ونسنٹ کے عرشے سے اڑان بھرتے بھرتے سمندر میں جا گرا اور آٹھ ہزار فٹ گہرائی میں تہہ سے لگ گیا۔ یہ حادثہ اگرچہ بین الاقوامی سمندری حدود میں ہوا مگر مشکل یہ ہے کہ چین بحیرہ جنوبی کے پورے سمندر پر علاقائی دعویدار ہے۔ اس حادثے کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ ایف تھرٹی فائیو اس وقت امریکا فضائیہ اور بحریہ کا فخر ہے۔
ایک سو ملین ڈالر کی قیمت والا یہ لڑاکا طیارہ انیس سو کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دشمن کے ریڈار کی زد میں آئے بغیر پرواز کر سکتا ہے۔ ایف تھرٹی فائیو کو امریکی پیار سے اڑتا سپر کمپیوٹر کہتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کم از کم دو ہزار پچاس تک امریکی فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی بنا رہے گا۔ چینی وزیرِ خارجہ ڑاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ انھیں اس حادثے سے کوئی دلچسپی نہیں مگر امریکیوں کو فکر ہے کہ تلاش کے آلات سے لیس امریکی بحریہ کے خصوصی جہازوں کو اس علاقے میں پہنچنے میں دس سے پندرہ دن لگ سکتے ہیں اور یہ مدت کسی بھی ’’ رسہ گیری ‘‘ کے لیے بہت ہے۔ حالانکہ امریکی بحریہ مئی دو ہزار انیس میں فلپینز کی بحری حدود میں ساڑھے اٹھارہ ہزار فٹ کی گہرائی سے ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کا ڈھانچے نکال کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ امریکیوں کو بظاہر یہ اطمینان بھی ہے کہ چین کے پاس اتنی سمندری گہرائی سے کوئی ڈھانچہ نکلنے کی مہارت یا ٹیکنالوجی نہیں ہے۔
مگر اس مفروضے پر مکمل تکیہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بھلا کون حریف نہ چاہے گا کہ امریکا جس طیارے پر اس قدر اترا رہا ہے اس کے کل پرزے اور اعصابی نظام کے پوسٹ مارٹم کا کوئی بھی امکان ضایع ہو۔ انیس سو بہتر میں چین شمالی ساحلی علاقے میں ڈوبنے والی ایک برطانوی آبدوز پوسیڈون کا ڈھانچہ نکال چکا ہے، حالانکہ اس وقت چین اتنا ترقی یافتہ بھی نہیں تھا۔ اپریل دو ہزار ایک میں ایک امریکی EP3 جاسوس طیارہ چینی حدود میں دورانِ پرواز چینی فضائیہ کے ایک طیارے سے ٹکرا کر ہنگامی طور پر صوبہ ہنان میں اتر گیا۔ اس حادثے میں چینی پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ چین نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پائلٹ کی موت پر شدید احتجاج کیا اور گیارہ دن بعد کی جانے والی تحریری امریکی معذرت کے بعد ہی جاسوس طیارے کے چوبیس رکنی عملے کو جانے کی اجازت دی۔ البتہ جاسوس طیارہ اگلے تین ماہ چینیوں کی تحویل میں رہا۔ امریکیوں کو کامل یقین ہے کہ مئی دو ہزار گیارہ میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے دوران ریڈار پر دکھائی نہ دینے والا جو امریکی ہیلی کاپٹر بن لادن کے کمپاؤنڈ میں اترتے ہوئے تباہ ہوا اس کے ڈھانچے پر چینی تحقیقی ہاتھ صاف کر چکے ہیں۔ چنانچہ جب تک امریکی دفاعی نگینہ ایف تھرٹی فائیو سمندر سے نکال نہیں لیا جاتا۔ محکمہ دفاع کی نیند اڑی رہے گی۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ ایکسپریس نیوز
The border control industry is thriving, both in the United States and Europe. In both cases, Israel is serving the task of the successful role model and the technology supplier. While Europe, in p...
World History
World War I
(source)
전쟁과 디자인
"퓰러 디자인의 합리성이 군사용에 적합했던 것과 같이, 레이먼드 로위나 게데스의 시각적 표시 시스템 역시 군사적으로 매우 유효하였다. [...] 게데스의 경우에도 뉴욕박람회의 퓨처라마에서 미래의 생활이미지를 묘사하는데 사용된 기술이 전쟁 중에는 시물레이션 기술로 활용되었다. 흥미로운 것은 게데스가 고안한 병기 이미지 가운데 몇가지가 실제로 만들어졌다는 점이다. 게데스는 1차대전 중에 체스와 유사한 전쟁게임을 발명한 바 있다. 병사, 차량, 전투장치 등의 모형이 게임을 위해 만들어졌고, 이 중 일부가 2차대전 중에 실제 병기로 제작되었다. 이는 마치 1980년대 미국에서 출현한 최종병기계획 SDI가 <스타워즈>와 완전히 일치하는 것을 상기시킨다. 한편 이 게임은 모형사진을 사용해 해군과 육군의 전투를 기록하는 기술을 낳았다. 게데스는 각국의 전함, 항공기, 전차, 기타 전투장치를 다양한 스케일의 모형으로 제작했는데, 이는 퓨처라마에서의 모형제작과 동일한 것이었다. 이 모형과 실감나는 퓨처라마를 사용해 게데스의 사무실은 육해군용의 사진에 의한 인식 훈련 프로그램을 개바랫다. 한편 1944년 상륙부대에 정보를 전달하기 위해 튀니스 부근 해안선의 시뮬레이션을 한 것이다. 결국 게데스가 뉴욕박람회에서 보여 준 미래를 묘사하는 기술이 무력전쟁에서는 아직 현실화되지 않은 사태를 묘사하고 시뮬레이션 하는 기술로 전용된 것이다. [...]
타자가 묘사한 미래를 파괴하면서도 자신의 미래이미지를 현실화하는 것이 전쟁의 한 요인이다. [...] 현대의 전쟁은 시간과 공간의 일체적인 합리성을 요구하였고, 그리하여 미국 제 1세대 디자이너들이 제시한 합리성도 결국 전쟁에 총 동원되고 만 것이다. [...] 곧 일상생활의 이상을 지지하는 논리와 순수전쟁의 논리가 상호유사하다는 사실이 양차대전 사이에 명확해졌다"
―p.118, 디자인과 유토피아, 카시와기 히로시