WORLD ORDER- MISSING BEAUTY
seen from Russia

seen from Malaysia
seen from United States
seen from Belgium
seen from China

seen from Germany
seen from United States
seen from Switzerland

seen from Italy
seen from Germany
seen from United States

seen from Indonesia

seen from Malaysia
seen from United States
seen from Indonesia

seen from Italy

seen from United States

seen from Zimbabwe
seen from Macao SAR China
seen from Malaysia
WORLD ORDER- MISSING BEAUTY
WORLD ORDER (2009-present)
How does the world see America in 2026? 🇺🇸 From Trump’s Beijing summit to tariffs, wars and withdrawals, China, Australia and Israel are all recalibrating their futures around a more unpredictable U.S. 🌏 Read the full analysis: https://hyperlocalnews.website/interen/how-the-world-sees-america-today-china-australia.html
آپ جس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ ایک دلچسپ سماجی اور معلوماتی تبدیلی ہے۔ ماضی میں بڑے عالمی بحرانوں کے آثار اکثر محدود حلقوں میں سمجھے جاتے تھے—حکومتیں، خفیہ ادارے، یا چند ماہرین۔ عام لوگوں تک معلومات یا تو دیر سے پہنچتی تھی یا ادھوری پہنچتی تھی۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔
1. معلوماتی نظام کی تبدیلی
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات کی رفتار کو انتہائی تیز کر دیا ہے۔
پلیٹ فارمز جیسے X (Twitter)، YouTube، اور Reddit پر:
ماہرین براہِ راست تجزیہ دیتے ہیں
حکومتی بیانات فوراً پھیل جاتے ہیں
لیکس یا اندرونی معلومات بھی چند منٹوں میں عالمی سطح پر پہنچ جاتی ہیں
نتیجہ یہ ہے کہ علم کا دائرہ صرف طاقتور حلقوں تک محدود نہیں رہا۔
2. عالمی نظام کا آپس میں جڑ جانا
آج دنیا ایک بڑے نیٹ ورک کی طرح ہے۔
معیشت، توانائی، خوراک، اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔
مثال کے طور پر:
COVID-19 Pandemic نے دکھایا کہ ایک وائرس پوری دنیا کی سپلائی چین روک سکتا ہے۔
Russia–Ukraine War نے توانائی اور خوراک کی عالمی قیمتوں کو متاثر کیا۔
جب نظام اتنا جڑا ہو تو ایک جگہ کا مسئلہ عالمی بحران بن سکتا ہے۔
3. ڈیٹا اور پیش گوئی کے ماڈلز
آج معاشیات، ماحولیات اور جیوپولیٹکس میں بڑے ڈیٹا سیٹس استعمال ہوتے ہیں۔
ادارے جیسے International Monetary Fund اور World Bank باقاعدہ رپورٹیں دیتے ہیں جن میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے:
معاشی سست روی
ماحولیاتی تبدیلی
جغرافیائی سیاسی کشیدگی
اس لیے بحران اچانک راز کی طرح ظاہر نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے بحث میں آ جاتے ہیں۔
4. ایک نفسیاتی پہلو
یہاں ایک اور زاویہ بھی ہے۔
انسانی دماغ خطرے کی خبریں زیادہ تیزی سے پھیلاتا ہے۔ اس کو negativity bias کہتے ہیں۔ اس لیے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ:
> دنیا مسلسل کسی بڑے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔
حقیقت میں کچھ خطرات حقیقی ہوتے ہیں، اور کچھ معلوماتی شور (information noise) کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
---
ایک دلچسپ بات تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تقریباً ہر دور میں لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ سب سے بڑے بحران کے زمانے میں جی رہے ہیں۔
لیکن اسی دوران سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی، اور نئے نظام بھی بنتے رہے۔
کچھ حد تک یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ایک منتقلی کے دور میں ہوں—جہاں عالمی نظام بدل رہا ہے، پرانی طاقتیں کمزور ہو رہی ہیں اور نئے ڈھانچے بن رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسے لمحات پہلے بھی آئے ہیں، مثلاً Cold War کے اختتام کے وقت۔
دنیا عجیب جگہ ہے: ایک ہی وقت میں خطرہ بھی بڑھتا ہے اور علم بھی۔
علم بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اب انسان پہلی بار اجتماعی طور پر خطرات کو دیکھ اور سمجھ سکتا ہے—یہ خود ایک نئی تاریخی صورتحال ہے۔
WORLD ORDERが再始動!須藤元気が率いる伝説のダンスユニットが、新曲『NEO SAMURAI』で侍の精神と近未来を融合。
ダンス&音楽ユニット「WORLD ORDER」(リーダー:須藤元気)が、待望の再始動を発表しました。新曲『NEO SAMURAI』では、日本の伝統文化に根ざす「侍の精神」と、近未来的な世界観を大胆に融合。礼節や誇りといった日本古来の精神を、現代社会に生きる“ネオ侍”として再定義し、力強いビートと映像演出で表現しています。
■プレスリリース配信元-株式会社アイデアリズム https://companydata.tsujigawa.com/company/6010401077515/
Author of Cassandra's Shadow
My favorite books in Jan'23 #8
All Measures Short of War: The Contest for the 21 Century and the Future of American Power by Thomas J. Wright. A groundbreaking look at the future of great power competition in an age of globalization and what the United States can do in response.
Follow us on Twitter @BookOfEsaBiEl #freedom #slavery #worldorder #morality #tobewise https://www.instagram.com/p/CnerXo6IKgf/?igshid=NGJjMDIxMWI=