آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
seen from United States

seen from United States

seen from Canada

seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from Türkiye
seen from United States
seen from United States
seen from Canada
seen from United States
seen from United States
seen from Mexico
seen from T1
seen from United States
seen from Japan
seen from United States
seen from Netherlands

seen from United States
seen from Poland
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
وہ وقت جب امریکی وفد کو پاکستان نے آمد کیلئے این او سی بھی نہ دیا
28 مئی 1998ء ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن، ایٹی قوت بننے کے لیے پاکستان کو کس حدتک امریکی دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کس طرح اپنے عزم پر ڈٹے رہے اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، اس پر سینئر کالم نویس ’رؤوف طاہر‘ نے روزنامہ دنیا میں لکھے گئے ایک کالم میں روشنی ڈالی ہے ۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’یہ وہ مرحلہ تھا جب قومی خودمختاری اور عزت و وقار کیلئے کوئی بھی قیمت مہنگی نہیں ہوتی۔
امریکن سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل زینی اپنی کتاب ''Battle Ready‘‘ میں تفصیل سے یہ دلچسپ کہانی بیان کر چکے کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے صدر کلنٹن کی ہدایت پر وزیر دفاع ولیم کوہن کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا بوئنگ707 ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار کھڑا تھا۔امریکیوں کے بار بار رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی طرف سے این او سی نہیں مل رہا تھا۔ بالآخر جنرل جہانگیر کرامت سے امریکی جرنیلوں کے تعلقات کام آئے اور اپنے آرمی چیف کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وفد کو آنے کی اجازت دے دی۔ جنرل زینی کے بقول امریکی وفد نے پاکستانی وزیراعظم سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن وہ وزیراعظم پاکستان سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے۔ امریکیوں کی کوئی ترغیب ، کوئی تنبیہ ،پرعزم وزیراعظم کو ایٹمی دھماکوں سے باز نہ رکھ سکی۔
گیارہ مئی کو نواز شریف سربراہ اجلاس کے سلسلے میں قازقستان میں تھے۔بھارتی دھماکوں کی اطلاع آئی تو ایک رائے یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان کو فوراً وطن واپسی کی راہ لینی چاہیے لیکن وزیراعظم کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے ہندوستان اور باقی دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ ہندوستانی دھماکوں سے پاکستان دبائو میں آ گیا ہے ۔ وہ دنیا کو پاکستان کے مضبوط اعصاب کا تاثر دینا چاہتے تھے۔ وہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو واپس آ ئے۔ ایٹمی سائنسدانوں سے استفسار کیا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کیلئے کتنا وقت درکار ہو گا ؟ دس گیارہ دن سے زیادہ نہیں۔ 10 مئی کو Go Ahead مل گیا اور سائنسدانوں کی ٹیم چاغی روانہ ہو گئی۔
اس دوران نواز شریف دوست ممالک کی قیادت کے علاوہ اندرون ملک بھی صلاح مشورے میں مصروف رہے ۔ وہ اپنے طور پر قازقستان ہی میں یکسو تھے لیکن اسکے لیے مسلح افواج کی قیادت کے علاوہ اپنے سیاسی رفقا اور دیگر ارباب فہم و دانش سے مشاورت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ انہیں ملک کے حال اور مستقبل کیلئے گہرے اثرات کے حامل فیصلے میں شرکت کا احساس دلانا ضروری تھا۔ سنگین ترین معاملہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا تھا۔ اس حوالے سے سعودی عرب ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یارِ وفا دار کے طور پر سامنے آیا۔ امریکہ سمیت ساری دنیا کے دبائو کی پروا کیے بغیر سعودی قیادت نے پاکستانی قیادت کو تیل (Deffered Payment) سپلائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کردی تھی۔ یہ ''دیفرڈ پیمنٹ ‘‘بھی فائلوں کی حد تک تھی مگر یہ'' حساب دوستان دردل‘‘ والا معاملہ تھا‘۔
اٹھائیس 28 مئی یوم تکبیر : قومی تاریخ کا یادگار دن جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا
ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ 19 سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7 ویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکوں کے دن کو 'یوم تکبیر' کا نام دیا گیا۔ دھماکوں کے بعد 1999 میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی کارگل جنگ جاری تھی، جس کی وجہ سے یوم تکبیر بہت زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا، مگر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ گئی تھی، جس کے بعد یوم تکبیر اس جوش و جذبے سے نہیں منایا جا سکا۔
دوسری جانب بولٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نامی ادارہ یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 120 ہے جب کہ ہندوستان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 110 ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں تین تین ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔ 2014ء میں ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کیلئے اقدامات کے حوالہ سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ ہندوستان سے بھی بہتر ہے۔
2014 کے این ٹی آئی انڈیکس میں 9 ایٹمی مسلح قوتوں میں سے زیادہ تر کا درجہ وہی ہے، اس میں صرف ایک پوائنٹ کی کمی بیشی ہے جبکہ 2012 کے مقابلہ میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکیورٹی کے حوالہ سے تین درجے بہتری آئی ہے جو کہ کسی بھی ایٹمی ملک کی بہتری میں سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کا ایٹمی مواد کے قابل استعمال ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالہ سے 25 ممالک میں سے 23 واں درجہ رہا ہے جبکہ چین کوانڈیکس میں 20 ویں درجہ پر رکھا گیا پاکستان کا فہرست میں 22 واں نمبر تھا۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام "فیصلہ عوام کا" میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔
وہ وقت جب امریکی وفد کو پاکستان نے آمد کیلئے این او سی بھی نہ دیا
28 مئی 1998ء ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن، ایٹی قوت بننے کے لیے پاکستان کو کس حدتک امریکی دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کس طرح اپنے عزم پر ڈٹے رہے اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، اس پر سینئر کالم نویس ’رؤوف طاہر‘ نے روزنامہ دنیا میں لکھے گئے ایک کالم میں روشنی ڈالی ہے ۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’یہ وہ مرحلہ تھا جب قومی خودمختاری اور عزت و وقار کیلئے کوئی بھی قیمت مہنگی نہیں ہوتی۔
امریکن سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل زینی اپنی کتاب ''Battle Ready‘‘ میں تفصیل سے یہ دلچسپ کہانی بیان کر چکے کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے صدر کلنٹن کی ہدایت پر وزیر دفاع ولیم کوہن کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا بوئنگ707 ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار کھڑا تھا۔امریکیوں کے بار بار رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی طرف سے این او سی نہیں مل رہا تھا۔ بالآخر جنرل جہانگیر کرامت سے امریکی جرنیلوں کے تعلقات کام آئے اور اپنے آرمی چیف کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وفد کو آنے کی اجازت دے دی۔ جنرل زینی کے بقول امریکی وفد نے پاکستانی وزیراعظم سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن وہ وزیراعظم پاکستان سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے۔ امریکیوں کی کوئی ترغیب ، کوئی تنبیہ ،پرعزم وزیراعظم کو ایٹمی دھماکوں سے باز نہ رکھ سکی۔
گیارہ مئی کو نواز شریف سربراہ اجلاس کے سلسلے میں قازقستان میں تھے۔بھارتی دھماکوں کی اطلاع آئی تو ایک رائے یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان کو فوراً وطن واپسی کی راہ لینی چاہیے لیکن وزیراعظم کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے ہندوستان اور باقی دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ ہندوستانی دھماکوں سے پاکستان دبائو میں آ گیا ہے ۔ وہ دنیا کو پاکستان کے مضبوط اعصاب کا تاثر دینا چاہتے تھے۔ وہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو واپس آ ئے۔ ایٹمی سائنسدانوں سے استفسار کیا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کیلئے کتنا وقت درکار ہو گا ؟ دس گیارہ دن سے زیادہ نہیں۔ 10 مئی کو Go Ahead مل گیا اور سائنسدانوں کی ٹیم چاغی روانہ ہو گئی۔
اس دوران نواز شریف دوست ممالک کی قیادت کے علاوہ اندرون ملک بھی صلاح مشورے میں مصروف رہے ۔ وہ اپنے طور پر قازقستان ہی میں یکسو تھے لیکن اسکے لیے مسلح افواج کی قیادت کے علاوہ اپنے سیاسی رفقا اور دیگر ارباب فہم و دانش سے مشاورت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ انہیں ملک کے حال اور مستقبل کیلئے گہرے اثرات کے حامل فیصلے میں شرکت کا احساس دلانا ضروری تھا۔ سنگین ترین معاملہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا تھا۔ اس حوالے سے سعودی عرب ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یارِ وفا دار کے طور پر سامنے آیا۔ امریکہ سمیت ساری دنیا کے دبائو کی پروا کیے بغیر سعودی قیادت نے پاکستانی قیادت کو تیل (Deffered Payment) سپلائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کردی تھی۔ یہ ''دیفرڈ پیمنٹ ‘‘بھی فائلوں کی حد تک تھی مگر یہ'' حساب دوستان دردل‘‘ والا معاملہ تھا‘۔
اٹھائیس 28 مئی یوم تکبیر : قومی تاریخ کا یادگار دن جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا
ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ 19 سال قبل ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی 7 ویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکوں کے دن کو 'یوم تکبیر' کا نام دیا گیا۔ دھماکوں کے بعد 1999 میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی کارگل جنگ جاری تھی، جس کی وجہ سے یوم تکبیر بہت زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا، مگر اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ گئی تھی، جس کے بعد یوم تکبیر اس جوش و جذبے سے نہیں منایا جا سکا۔
دوسری جانب بولٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نامی ادارہ یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 120 ہے جب کہ ہندوستان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 110 ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ہی پہلی مرتبہ 1998 میں تین تین ہفتوں کے وقفے سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے۔ 2014ء میں ایٹمی مواد کو لاحق خطرات کی سیکیورٹی کیلئے اقدامات کے حوالہ سے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ ہندوستان سے بھی بہتر ہے۔
2014 کے این ٹی آئی انڈیکس میں 9 ایٹمی مسلح قوتوں میں سے زیادہ تر کا درجہ وہی ہے، اس میں صرف ایک پوائنٹ کی کمی بیشی ہے جبکہ 2012 کے مقابلہ میں پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکیورٹی کے حوالہ سے تین درجے بہتری آئی ہے جو کہ کسی بھی ایٹمی ملک کی بہتری میں سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کا ایٹمی مواد کے قابل استعمال ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالہ سے 25 ممالک میں سے 23 واں درجہ رہا ہے جبکہ چین کوانڈیکس میں 20 ویں درجہ پر رکھا گیا پاکستان کا فہرست میں 22 واں نمبر تھا۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کا جوہری پروگرام امریکا اور برطانیہ سے زیادہ محفوظ ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام "فیصلہ عوام کا" میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف اور اس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز دھماکوں کے حق میں نہیں تھے اور ملکی مفاد میں انہیں ایسا کرنے کے لیے دونوں کو راضی کیا گیا۔
یوم تکبیر : 28 مئی 1998ء کی روداد
یوم تکبیر : 28 مئی 1998ء کی روداد
پاکستان ایٹمی قوت بننے کے بعد
مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں تین قسم کے ایٹمی ہتھیاروں کو کامیابی سے چلایا گیا۔ اس کے بعد 30 مئی 1998ء کو مزید تین قسم کے ایٹمی ہتھیار چلائے گئے۔ 30 مئی کو آخری یعنی چھٹی ایٹمی ٹیسٹ کا دھماکہ پلوٹونیم ساخت کے ایٹم بم کا تھا۔ اس سے چھوٹے ہتھیار یعنی ٹیکٹیکل ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں جس کے بعد انڈیا میں سراسیمگی پھیل گئی اور انڈیا کی سرکار گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوئی۔ پاکستان ان چار ایٹمی قوت ممالک امریکہ، فرانس، روس اور چین کی صف میں شامل ہوا جن کے پاس چھوٹے پلوٹونیم ساخت کے ٹیکٹیکل ایٹم بم ہیں۔
پاکستان نے نہایت محفوظ نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام وضع کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کو دشمن پر گرانے کیلئے موثر ہتھیار بنا لئے۔ یہ ہتھیار زمین سے زمین پر، فضا سے لڑاکا طیاروں کے ذریعے زمین پر، بحریہ/ آبدوزوں سے زمین پر گرائے جا سکتے ہیں۔ ملٹی سٹیج راکٹ ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرنے کے باعث پاکستان دنیا کے کسی بھی کونے پر دشمن پر ایٹم بم گرانے کیلئے دورمار میزائل تیار کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس کا مظاہرہ شاہین تھری میزائل کو رینج پر ٹیسٹ کر کے کیا گیا ہے۔ موبائل لانچر سے نصر میزائل چلا کر حملہ آور دشمن فوجوں پر بیک وقت مختلف اہداف پر کئی ٹیکٹیکل ایٹمی بم گرا کر انہیں نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ یوں انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (یعنی برق رفتار اچانک حملہ کر کے علاقہ پر قبضہ کرنا) کو ناکام کر دیا ہے۔
سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس راڈار پر نظر نہ آنے والے اور سطح زمین کے ساتھ کم بلندی پر پرواز کرکے 700 کلومیٹر فاصلے تک ایٹم بم گرانے کی صلاحیت کے حامل بابر کروز میزائل نے انڈیا کی میزائل دفاعی نظام کو بے اثر کر کے رکھ دیا ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی کشمیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑتی ہے تو انڈیا کی فوجیں پاکستان پر حملہ کر دیتی ہیں۔ یوں پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کشمیر میں دبائو کو کم کیا جاتا ہے۔
ستمبر 1965ء کی جنگ اس کی واضح مثال ہے۔ 2001ء میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک نے افغانستان پر قبضہ کیا تو کشمیر میں ممکنہ گوریلا جنگ کے خوف سے انڈیا دسمبر 2001ء میں اپنی تمام فوجیں پاکستان کی سرحد پر جمع کر کے جنگ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔
نومبر 2002ء میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نیویارک میں انڈیا کو متنبہ کیا کہ انڈیا کی طرف سے حملہ کی صورت میں پاکستان ایٹمی حملہ میں پہل کرے گا اور یہ ہی پاکستان کی نیوکلیئر ڈاکٹرائن ہے۔ خوفزدہ ہو کر انڈیا نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ آجکل کشمیر میں آزادی کی تحریک زور پکڑ چکی ہے۔ پاکستان انتہائی ترقی یافتہ ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی قوت اور میزائل نظام سے مسلح ملک ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں دبائو کو کم کرنے یا ختم کرنے کیلئے انڈیا پاکستان پر حملہ ضرور کرنا چاہتا ہے، کشمیر کی سرحد پر سرحدی خلاف ورزیاں اور چھیڑ چھاڑ اس سلسلہ کی کڑی ہے مگر انہیں پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں انڈیا نے پاکستان کے اندر پراکسی جنگ شروع کی ہوئی ہے۔
انڈیا نے 2004ء سے افغانستان میں ’’را‘‘ جاسوس ادارہ کا ایک مضبوط نیٹ ورک نظام قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اندر امریکی سی آئی اے، برطانوی ایم آئی 6 اور اسرائیل کے جاسوس ادارہ موساد کی معاونت سے اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں اپنا خفیہ بیس اور پورے پاکستان کے اندر نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے۔ اس نیٹ ورک اور غیرملکی جاسوس اداروں کی معاونت سے انڈیا نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کئی وارداتیں کی ہیں جن میں پشاور میں سکول پر حملہ بچوں اور استانیوں کو بیدردی سے قتل کرنا، کراچی میں اسماعیلی فرقہ کے بے گناہ شہریوں کا قتل عام اور مستونگ (کوئٹہ کے نزدیک) میں شہریوں کا قتل عام قابل ذکر وارداتیں ہیں جن میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ’’را‘‘ کے آفیسر پکڑے گئے اور جنرل پرویز مشرف امریکہ کو انڈیا کے ’’را‘‘ کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شکایت لگاتا رہا مگر عملی طور پر اس کا سدباب نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ کانفرنس میں انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ’’را‘‘ کی دہشت گردی کے ثبوت پیش کئے مگر دہلی حکومت نے اس کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی اور ’’را‘‘ کی کارستانیاں جوں کی توں جاری رہیں۔ ابھی بھی پاکستان کے اندر انڈیا کے جاسوس ادارہ ’’را‘‘ نے کئی دہشت گردی کے واقعات کئے جن کے واضح ثبوت ملے ہیں۔
انڈیا کے وزیر دفاع نے کھلے عام کہا ہے کہ انڈیا پاکستان کے اندر پراکسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انڈیا کے خفیہ ادارہ ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کے معاملہ میں میڈیا پر شور مچانے یا اقوام عالم کو شکایت لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور انڈیا کے ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کا کھوج لگائیں اور اسے ختم کریں۔ پاکستان کی بقا اور ملک میں امن کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ غیرملکی جاسوس اداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کو بے اثر کرنے کا بندوبست کریں۔ حکومت پاکستان ڈپلومیسی کے ذریعے اور افواج پاکستان اور ایجنسیاں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دینے میں انشاء اللہ کامیاب ہونگے۔
لیفٹینٹ کرنل (ر) عبدالرزاق بگتی