اپنا مرے تو بے قصور ......!
اپنا مرے تو بے قصور جو غیر مرے تو ہے جہادنیا نہیں ہے کچھ بھی یہ یہ تو صدیوں کا ہے فساد – پہلے کبھی ایک دن انسانیت تھی یہاں کہیںکسی نے ننگا کیا پھر اُسکو دِکھی نہیں وہ اُس کے بعد – پہلے یہاں ضمیر بکا اور پھر زباں کٹیممبر پہ بندر بیٹھ گئے کرے اب کس پہ اعتماد – بکا نہیں تھا کچھ اگر وہ قلم تھا مگرپھر بھلا لکھتا ہی کیا بنا ضمیر کے نا مراد – اسی چمن میں کبھی آباد تھے اہل دین بھیڈھونڈ لیا دین میں…













