It's my 9 year anniversary on Tumblr 🥳
noise dept.
wallacepolsom

#extradirty
RMH
🪼

roma★
Mike Driver
i don't do bad sauce passes
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
Alisa U Zemlji Chuda
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
Show & Tell

izzy's playlists!
I'd rather be in outer space 🛸
Jules of Nature

❣ Chile in a Photography ❣
Cosimo Galluzzi
Sweet Seals For You, Always

pixel skylines

祝日 / Permanent Vacation
seen from United States

seen from United States

seen from Türkiye

seen from United States
seen from United States

seen from United Kingdom

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from Argentina

seen from Türkiye

seen from United States

seen from Türkiye
seen from Spain
@ypeerzada
It's my 9 year anniversary on Tumblr 🥳
From Dust To Sea 🌊
Palestine Will Be Free
میری طرف سے تمام اہل وطن اور عالم اسلام کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔ عید کے اس پر مسرت موقع پر اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کا ضرور خیال رکھیں۔
#عیدمبارک
#عید_الفطر_مبارک
#عیدمبارک⚘_سب⚘_دوستوں⚘_کو⚘
#islam #pageforyou #pleasesupport #pfypシ #LaysEverywhere #shorts #graphicdesignersoftiktok #pleasemakethisviral #viraltiktok #islamicposts #islamic_media #eidmubarak #eid2023❤
#Eid #eid2023🕌🤲
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
😇⚘😇
Warm felicitations to leadership and people of 🇹🇷 on 97th Republic Day. Our forefathers stood by Turkish people in their glorious struggle against forces of imperialism. In contemporary times, our two countries🇵🇰🇹🇷 remain indispensable partners. Long live Pakistan-Turkey brotherhood!
در دلِ مسلم مقامِ مصطفیﷺ است
آبروئے ما زنامِ مصطفیﷺ است
خاتم الانبیاء، سرورِعالم، محسنِ انسانیت، سرکارِ دوجہاں حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت تاریخِ انسانی کاسب سےبڑا واقعہ ہے۔ حضورﷺ کی سیرت ایک کھلی کتاب، شفاف آئینہ، بلندکردار واخلاق حسنہ کا شہ پارہ ہے۔
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
Ramadan Kareem
حضرت الیاس علیہ السلام
یہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔ بیشتر مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور ان کا نسب نامہ یہ ہے۔ الیاس بن یاسین بن فخاس بن عیزار بن ہارون علیہ السلام۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی بعثت کے متعلق مفسرین و مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ شام کے باشندوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے اور ''بعلبک'' کا مشہور شہر ان کی رسالت و ہدایت کا مرکز تھا۔
ان دنوں ''بعلبک'' شہر پر ''ارجب'' نامی بادشاہ کی حکومت تھی جو ساری قوم کو بت پرستی پر مجبور کئے ہوئے تھا اور ان لوگوں کا سب سے بڑا بت ''بعل'' تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا اور بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار چہرے بنے ہوئے تھے اور چار سو خدام اس بت کی خدمت کرتے تھے جن کو ساری قوم بیٹوں کی طرح مانتی تھی اور اس بت میں سے شیطان کی آواز آتی تھی جو لوگوں کو بت پرستی اور شرک کا حکم سنایا کرتا تھا۔ اس ماحول میں حضرت الیاس علیہ السلام ان لوگوں کو توحید اور خدا پرستی کی دعوت دینے لگے مگر قوم ان پر ایمان نہیں لائی۔ بلکہ شہر کا بادشاہ ''ارجب'' ان کا دشمن جاں بن گیا اور اس نے حضرت الیاس علیہ السلام کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا۔ چنانچہ آپ شہر سے ہجرت فرما کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں روپوش ہو گئے اور پورے سات برس تک خوف و ہراس کے عالم میں رہے اور جنگلی گھاسوں اور جنگل کے پھولوں اور پھلوں پر زندگی بسر فرماتے رہے۔
بادشاہ نے آپ کی گرفتاری کے لئے بہت سے جاسوس مقرر کردیئے تھے۔ آپ نے مشکلات سے تنگ آکر یہ دعا مانگی کہ الٰہی! مجھے ان ظالموں سے نجات اور راحت عطا فرما تو آپ پر وحی آئی کہ تم فلاں دن فلاں جگہ پر جاؤ اور وہاں جو سواری ملے بلاخوف اس پر سوار ہو جاؤ۔ چنانچہ اس دن اس مقام پر آپ پہنچے تو ایک سرخ رنگ کا گھوڑا کھڑا تھا۔ آپ اس پر سوار ہو گئے اور گھوڑا چل پڑا تو آپ کے چچا زاد بھائی حضرت ''الیسع'' علیہ السلام نے آپ کو پکارا اور عرض کیا کہ اب میں کیا کروں؟ تو آپ نے اپنا کمبل ان پر ڈال دیا۔ یہ نشانی تھی کہ میں نے تم کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے اپنا خلیفہ بنا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل فرما دیا اور آپ کو کھانے اور پینے سے بے نیاز کردیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت میں شامل فرمالیا اور حضرت الیسع علیہ السلام نہایت عزم و ہمت کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کرنے لگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہر دم ہر قدم پر ان کی مدد فرمائی اور بنی اسرائیل آپ پر ایمان لائے اور آپ کی وفات تک ایمان پر قائم رہے۔
حضرت الیاس علیہ السلام کے معجزات:۔ اللہ تعالیٰ نے تمام پہاڑوں اور حیوانات کو آپ کے لئے مسخر فرما دیا اور آپ کو ستر انبیاء کی طاقت بخشی ۔ غضب و جلال اور قوت و طاقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہم پلہ بنا دیا ۔ اور روایات میں آیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام ہر سال کے روزے بیت المقدس میں ادا کرتے ہیں اور ہر سال حج کے لئے مکہ مکرمہ جایا کرتے ہیں اور سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور حضرت خضر علیہ السلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے رہتے ہیں اور یہ دونوں حضرات آخری زمانے میں وفات پائیں گے جب کہ قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ ہم لوگ ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو راستہ میں ایک آواز آئی کہ یا اللہ! تو مجھ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بناد ے جو امت مرحومہ اور مستجاب الدعوات ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اے انس! تم اس آواز کا پتا لگاؤ تو میں پہاڑ میں داخل ہوا، تو اچانک یہ نظر آیا کہ ایک آدمی نہایت سفید کپڑوں میں ملبوس لمبی داڑھی والا نظر آیا جب اس نے مجھے دیکھا تو پوچھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو؟ تو میں نے عرض کیا کہ جی ہاں تو انہوں نے فرمایا کہ تم جا کر حضور سے میرا سلام عرض کرو اور یہ کہہ دو کہ آپ کے بھائی الیاس (علیہ السلام)آپ سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے واپس آ کر حضور سے سارا معاملہ عرض کیا تو آپ مجھ کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے اور جب آپ ان کے قریب پہنچ گئے تو میں پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دونوں صاحبان دیر تک گفتگو فرماتے رہے اور آسمان سے ایک دستر خوان اتر پڑا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے بلا بھیجا اور میں نے دونوں حضرات کے ساتھ میں کھانا کھایا۔ جب ہم لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تو آسمان سے ایک بدلی آئی اور وہ حضرت الیاس علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان کی طرف لے گئی اور میں ان کے سفید کپڑوں کو دیکھتا رہ گیا۔
(تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۷۴۹،پ۲۳، الصّافات:۱۲۴ )
حضرت الیاس اور قرآن:۔قرآن مجید میں حضرت الیاس علیہ السلام کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے سورہ انعام میں اور سورہ الصّٰفٰت میں۔ سورہ انعام میں تو صرف ان کو انبیاء علیہم السلام کی فہرست میں شمار کیا ہے اور سورہ الصّٰفٰت میں آپ کی بعثت اور قوم کی ہدایت کے متعلق مختصر طور پر بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ سورہ انعام میں ہے:
ترجمہ :۔اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں۔ اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔(پ7،الانعام:84)
اور سورہ الصّٰفٰت میں اس طرح ارشاد فرمایا کہ:
ترجمہ:۔اور بیشک الیاس پیغمبروں سے ہے۔ جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پھر انہوں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی سلام ہو الیاس پر بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے۔(پ23،الصفات:123 تا 132)
(واللہ اعلم)
کتاب عشق میں سارا بیاں وصال کا ہے
میں زندہ ہجر میں ہوں اور گماں وصال کا ہے
ہم ایسے فرق تعلق سے خود بھی حیراں ہیں
زمیں ہے ہجر کی اور آسماں وصال کا ہے
عجب تضاد کے پیش نظر ہوں ہستی میں
ہے دھوپ ہجر کی اور سائباں وصال کا ہے
ہے جاگنے پہ ہی پڑتا تمام چابک ہجر
ہوں آنکھیں بند تو سارا سماں وصال کا ہے