میں آپ کو نہیں رکھ سکتی اپنے ساتھ ، اسکی تلخی بھری آواز ابھری
انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر میں کہاں جاؤنگا بیٹا
کہیں بھی جائیں آپ میری ذمہ داری ہرگز بھی نہیں ہیں، بیزاری عروج پہ تھی
میں کیا مانگتا ہوں تم سے بس تین وقت ایک روٹی اور تھوڑا سا سالن یا دال ۔ انکی آواز کانپی
اتنے اولڈ ایج ہوم ہیں وہاں چلے جائیں ویسے بھی اب آپ کے بیٹے کے بعد آپ کا یہاں کون ہے ؟ وہ سفاک ہوئی
نہیں بیٹا یہ ظلم نہ کرو میں اپنے پوتے کے بغیر کیسے رہوں گا، انہوں نے اپنے دو سالہ گول مٹول پوتے کو حسرت سے دیکھا
آج شام کو میرا بھائی آرہا ہے وہ آپ کو چھوڑ آئے گا اولڈ ایج ہوم ، اسکو ترس بھی نہ آیا
اگر تمہارا بیٹا بھی تمہارے ساتھ ایسا کرے تو، کسی آس پر انہوں نے کہا کہ شائد رحم جائے
آپ میرے ساتھ رہیں گے تو مجھے بددعائیں دیتے رہیں گے، اسکو پھر بھی ترس نہ آیا
میرا بیٹا ہوتا تب بھی کیا تم ایسا کرتی، انکی آنکھوں میں آنسو بھرے سوال تھے
اگر آپ خود چلے جائیں تو بہتر ہوگا ورنہ شام تک بھائی خود آپ کو چھوڑ آئے گا ، وہ بے رحمی سے کہتی اندر چلی گئی
اب اور ذلت نہیں سہنی تھی وہ خاموشی سے اٹھے اور ڈبڈبائی نظروں سے گیٹ پار کرگئے
دوپہر اپنے پر سمیٹ رہی تھی روڈ پہ اکا دکا گاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں تب ہی ایک گاڑی رکی اس گاڑی سے میاں بیوی اترے اور پچھلی طرف کا دروازے کھول کر ایک بوڑھی خاتون کو اتارا ، لڑکے نے چاروں طرف کچھ دیکھا پھر اپنی بیوی اور بوڑھی خاتون کو لیکر ایک بینچ کی طرف بڑھا ، اماں آپ یہاں بیٹھیں ہم ابھی آتے ہیں کچھ سامان لے کر ، لڑکے نے بوڑھی خاتون کو بینچ پہ بٹھاتے ہوئے کہا ۔
بوڑھی خاتون نے پریشان ہوکر چاروں طرف دیکھا پھر لڑکے کی طرف دیکھ کر بولیں ، جلدی آجانا میں انتظار کرونگی ۔
جی جی اماں آپ فکر مت کریں ہم بس کچھ ہی دیر میں آتے ہیں ، اب کی بار لڑکی نے بوڑھی خاتون کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کی تسلی دی ، بینچ کے برابر ہی ایک ستائیس اٹھائیس سال کا لڑکا بھی بیٹھا تھا ، بھائی زرا انکا خیال رکھنا ہم بس ابھی آتے ہیں ۔ اس نے تسلی دینے کے انداز میں سر ہلایا تو وہ دونوں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے ۔
اماں آپ کچھ کھائیں گی ؟کچھ دیر بعد لڑکے نے بوڑھی خاتون سے پوچھا ،
نہیں بیٹا ابھی بس میرا بیٹا بہو آتے ہی ہونگے بوڑھی خاتون نے ہلکے سے مسکرا کر کہا ۔
وقت گذرتا رہا تھوڑی دیر سے بیس منٹ پھر آدھا گھنٹہ گزر گیا مگر وہ دونوں واپس نہیں آئے ۔
خاتون کے چہرے پہ اب فکر تھی ، اماں کب تک آئیں گے آپکے بیٹا بہو ؟ اس لڑکے نے پھر سوال پوچھا تو اماں بولیں پتہ نہیں بیٹا بہت دیر ہوگئی ہے،
آپ کو اپنا گھر یاد ہے ؟ لڑکے نے دوبارہ سوال کیا
نہیں بیٹا ہم نے کل ہی تو گھر بدلا ہے میں نے تو دیکھا نہیں تین دن سے سامان ہی جارہا تھا بیٹا بہو جاکر سامان سیٹ کرتے ، اپنا گھر لیا ہے ناں بیٹے نے ، آجائے گا وہ ابھی بس ، اماں نے شائد خود کو تسلی دی تب ہی اس لڑکے کے فون پہ کال آئی ،
ہیلو ۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہاں یار ابھی نہیں آسکتا جب تک تم سنبھال لو میں کسی کا انتظار کر رہا ہوں ہاں ۔۔۔۔ چلو پھر میں جلدی آنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اس نے فون بند کردیا اور انکا انتظار کرنے لگا ۔اب مغرب بھی ہوچکی تھی اندھیرا پھیلنے لگا تھا اس لڑکے کے پاس کالز آرہی تھیں جنہیں وہ کبھی ریسو نہیں کرتا کبھی مختصر بات کر کے بند کردیتا ۔
اماں آپ کے پاس آپ کے بیٹے کا نمبر ہے ؟
بیٹا میرا تو فون بھی بہو کے پاس ہے اور مجھے کسی کا نمبر یاد نہیں ، خاتون بےبسی سے بولیں ۔۔۔۔۔ بیٹا آپ کو جہاں جانا ہے آپ چلے جاؤ میں انتظار کر لوں گی ، اماں کی آواز میں شرمندگی تھی
نہیں اماں آپ کو اکیلے کیسے چھوڑ کر جاسکتا ہوں ، اور اماں کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تو وہ فوراً انکے پاس آیا ، کیا ہوا اماں میری کوئی بات بری لگی ؟
نہیں بیٹا میں تو اس لیئے رو رہی ہوں کہ تم میرے کچھ نہیں ہو پھر بھی میرے ساتھ ہو وہ میرا بیٹا پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے مجھے چھوڑ کر, اماں بمشکل بولیں ۔ تب ہی اسکے موبائل پہ کال آئی ۔
ہاں بس آرہا ہوں ، تم انتظار کرو
اسنے کال کٹ کی اور اماں کے پاس چلا آیا ،
اماں آپ جب تک میرے ساتھ چلیں ،
نہیں بیٹا تم جاؤ میرا بیٹا آتا ہی ہوگا ، اماں پریشان ہوگئیں ۔
اماں میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا مجھ پر بھروسہ کریں اور کچھ پس و پیش کے بعد اماں اس کے ہمراہ چل دیں
کچھ دنوں بعد وہ کچھ شاپنگ کرنے مال آیا تھا تب ہی اس کی نظر ان دونوں میاں بیوی پہ پڑی تو وہ لمحے کی تاخیر کیئے بنا ان تک پہنچا
اسلام علیکم بھائی کیسے ہو ؟ اس نے بات کا آغاز کیا تو دونوں نے حیرت سے اسکو دیکھا
کمال ہے آپ مجھے نہیں پہچانے لڑکے کے سوال پہ وہ بولا
نہیں میں آپ کو نہیں پہچانا،
کچھ دن پہلے ایک روڈ پہ آپ نے ایک بزرگ خاتون کو چھوڑا تھا آپکی ماں ہیں وہ انہوں نے بتایا تھا مجھے
لڑکے کے چہرے پہ سائے گذرے
جی۔۔۔۔۔ کب کہاں نن نہیں تو
میری تو کوئی ماں نہیں ہیں
بھائی کیا کہہ رہے ہو تمہیں پہچانتا ہوں میں ایسا کیسے تم کہہ سکتے ہو ، اب کی بار حیران ہونے کی باری اس کی تھی
دیکھیئے جو بھی تھا ہم نے وہاں جن خاتون کو بھی چھوڑا ہمارا اب ان سے کوئی تعلق نہیں برائے مہربانی آپ ہمیں پریشان مت کریں ، اب کی بار وہ لڑکی بگڑ کر بولی جبکہ لڑکا خاموش ہی تھا دیکھو بھائی وہ تمہارا بہت انتظار کرتی ہیں تم چلو میرے ساتھ میں۔۔۔۔
میں انکو اپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتا، اس لڑکے نے تیزی سے اسکی بات کاٹی تو اسکی آنکھوں میں حیرت پھیلی، جبکہ اس نے مزید کہا
اور اگر آپ انکے بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں تو انکو کسی اولڈ ایج ہوم چھوڑ دیں ہم ان سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتے ، اتنا کہہ کر وہ لڑکا اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا جبکہ وہ اپنی جگہ کھڑا رہا ۔
اسفند ، وہ آنٹی اپنے بیٹے کو بہت یاد کررہی ہیں ، حجاب نے آکر اس لڑکے اسفند کو بتایا جو ابھی آفس آیا تھا ۔ اس نے ایک نظر حجاب پہ ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔
تم نے ڈھونڈا میرے بیٹے کو ؟اماں کے سوال پہ اسفند نے محبت سے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، اماں کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں ؟ میں ہوں، حجاب ہیں آپ کے پاس آپ نے دوا لی ؟
اماں کی آنکھوں میں نمی تیر گئی تو وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا
پتہ نہیں کہاں ہے ان کا بیٹا
مجھے آج ملا تھا اماں کا بیٹا، کچھ دیر بعد اس نے بتایا تو حجاب نے حیرت اور خوشی سے اسکو دیکھا ۔ سچ ؟ تم نے بتایا انکو کیا بولے وہ پریشان ہونگے بہت ، اس نے سارے سوال ایک ساتھ کر دیئے
ہاں پریشان تو بہت ہوگیا تھا اماں کا زکر سن کر ، اسفند نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ،
ہاں پریشان تو ہوگا ماں جو ہیں انکی، کب لینے آئیں گے وہ ؟ اماں کتنا خوش ہونگی ، وہ ایک ہی سانس میں بولی
اب کے بار حجاب نے حیرت سے اسفند کو دیکھا
کہہ رہا تھا کہ وہ نہیں رکھ سکتا انکو اپنے ساتھ اور کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتا ۔ کہہ رہا تھا کہ کسی اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آؤ
کیا ۔۔۔۔۔۔۔ کیسی اولادیں ہیں آج کل کی ۔ حجاب کو بہت افسوس ہوا ۔
اب اسے کہا پتہ کہ جس کے پاس اسکی ماں ہیں وہ خود ایک اولڈ ایج ہوم چلارہا ہے
اسفند نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور حجاب کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا
کھڑکی کے ساتھ لگی اماں نے ساری باتیں سن لی تھیں اور انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
ایک بے رحمانہ فیصلہ انہوں نے بھی کبھی کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید کتنا وقت گذرا پتہ بھی نہ چلا اور آج اسفند اور حجاب کا بیٹا یہ اولڈ ایج ہوم چلا رہا تھا ،
اسفند آج اپنے بیٹے کے آفس میں موجود تھا ، بیٹا کسی کام سے باہر گیا تھا کہ اسفند کو اپنے ییچھے کسی کی آہٹ ہوئی۔ پلٹ کر دیکھا تو اسفند کے ہم عمر میاں بیوی موجود تھے چہرے پہ ہزاروں غم لیئے ،
تب ہی اسفند کا بیٹا بھی آگیا اور انکو احترام سے کرسی پہ بٹھایا ۔ اسفند بھی اپنے بیٹے کے برابر میں ہی بیٹھ گیا، کچھ یاد آرہا تھا ، کوئی دھندلا سا چہرہ ، مگر کون ؟ کافی سوچنے کے بعد بھی یاد نہیں آیا
بس میرا بیٹا کہتا ہے کہ ہمیں آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا ان بزرگ نے کہا تو اسفند کے ذہن میں وہ چہرہ واضح ہوگیا ،
"تم" ...... اسفند نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھ کر کہا تو وہ آدمی چونکا ،
کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ سوال میں الجھن تھی
ہاں میں وہی جس نے تمہاری ماں کو اپنے پاس رکھا تم تو اپنی ماں کو سڑک پہ چھوڑ کر چلے گئے تھے تمہاری ماں انتظار کرتی رہی گئی ، پھر جب تم مجھے ملے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ
"ہمیں ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا"
میں نے انکو کبھی نہیں بتایا کہ انکے بیٹے نے ان کو اپنانے سے انکار کردیا ہے ۔ جانتے ہو یہ اولڈ ایج ہوم میں نے اپنے گھر میں ہی کھولا ہے اور تمہاری ماں جن کو میں نے اپنی ماں کا درجہِ دیا وہ میرے ساتھ ہی رہیں ۔
سچ ہے کہ ماں باپ سے جیسا سلوک کرو گے اس کا بدلہ دونوں جہاں میں اللہ پاک ضرور دیں گے، آج دیکھو تم کو بھی آج اپنی ماں سے سلوک کا بدلہ مل گیا ۔ بے شک اللہ کا انصاف بہت بہترین ہے
کمرے میں سکوت تھا اور اس سکوت میں بس سسکیاں اور آہیں تھیں، اور اسفند صاحب سوچ رہے تھے کہ اب اسکے بیٹے کی بھی باری ہے ۔ کیونکہ ماں باپ کے ساتھ سلوک وہ عمل ہے جس کی سزا یا جزا نسل در نسل چلتی رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
© 2025 فاطمہ رائیٹس۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
اس تحریر کی نقل، اشاعت یا کسی بھی صورت میں استعمال مصنفہ کی اجازت کے بغیر ممنوع ہے۔