سہاگ رات پر لڑکی کے خون کے پیاسے نہ بنیں
آے دن اخبار یا میڈیا کے زریعے ہم ایسی خبر سنتے ہیں کہ سہاگ رات پر شرمگاہ سے خون نہ آنے کی وجہ سے لڑکی کو قتل کر دیا گیا یا طلاق دے دی گئی…
افسوس کہ ہمارے ہاں ابھی تک یہ دقیانوسی تصور پایا جاتا ہے کہ عورت کی شرمگاہ سے خون نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بدکار ہے حالانکہ کہ پردہ بکارت(hymen ) کسی اور وجہ سے بھی زائل ہو سکتا ہے…
پردہ بکارت شرمگاہ کے اندر ایک نہایت نازک جھلی ہوتی ہے جو کھیل کود جمپ وغیرہ سے بھی زائل ہو جاتا ہے.. اس کا مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ لڑکی نے زنا کیا ہے..
ہمارے ہاں سکول میں کھیلی جانے والی لڑکیوں کی مشہور گیم “سٹاپو” میں اکثر لڑکیوں کی یہ جھلی پھٹ جاتی ہے کیونکہ اس میں جمپ لگا کر ٹانگیں پھیلا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پردہ بکارت پھٹ جاتا ہے..اسی طرح گھر کے کام کاج جو اکڑوں بیٹھ کر کیے جاتے ہیں جیسے آٹا گوندھنا یا پوچا لگانے سے بھی پردہ بکارت فاش ہو جاتا ہے.
لڑکوں کی طرح لڑکیوں میں بھی بلوغت آتے ہی جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں اور لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح ماسٹر بیشن کرتی ہیں.. شدت جزبات کی وجہ سے یا کوئی چیز اندر ڈالنے کی وجہ سے بھی پردہ بکارت فاش ہو جاتا ہے… خود لذتی ایک نارمل اور صحت مند ایکٹیویٹی ہے. اس لیے جیسے لڑکے اس کو کرتے ہیں اسی طرح لڑکیوں کی خود لذتی کرنے کو قطعی غلط نہیں سمجھنا چاہیے.
اسی طرح بہت سے لڑکوں کا خیال ہوتا ہے کہ سہاگ رات پر بیوی کے ساتھ جماع کرنی کوئی بہت ضروری ہے اس طرح وہ لڑکی کے جزبات کا خیال کیے بغیر صرف اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں لڑکی کے لیے جو عمل نہایت لذت بخش ہونا چاہیے وہ ایک کربناک اور تلخ تجربہ بن جاتا ہے.. اسی طرح لڑکے بھی اس جوش میں کبھی جلدی منی کا اخراج کر دیتے ہیں کبھی پوری طرح دخول نہیں کر پاتے.. اور نتیجتاً شرمندگی کے احساس میں رہتے ہیں….
ہمارے ہاں جیسے لڑکے ناتجربہ کار ہوتے ہیں لڑکیاں ان سے زیادہ ناتجربہ کار ہوتی ہیں پھر لڑکیوں کی فطری شرم وحیا کی وجہ سے وہ سہاگ رات پر کچھ بتا نہیں سکتی کہ وہ کس تکلیف میں ہیں.
سہاگ رات کو پرلطف بنانے کے لیے لڑکوں کو چاہیے نہ وہ لڑکی کو اعتماد دیں. اس سے باتیں کریں… جسم کو چومیں..آہستہ آہستہ لڑکی کو مباشرت کے لیے تیار کریں.ہاتھ سے شرمگاہ کو سہلائییں اور دیکھیں کہ شرمگاہ شہوت کی وجہ سے گیلی ہو رہی ہے یا نہیں.. لڑکیاں جب شہوت میں آتی ہیں تو ان کی شرمگاہ عضو تناسل لینے کے لیے گیلی ہونا شروع ہو جاتی ہے.. جب شرمگاہ سے گیلا چپچپا پانی باہر نکلنے لگے تو اپنی انگلی لڑکی کی شرمگاہ میں ڈالنے کی کوشش کریں اور ساتھ لڑکی سے پوچھتے رہیے کہ اس کو کیسا محسوس ہو رہا ہے.. جہاں اس کو تکلیف محسوس ہو وہاں رک جائیں.. لڑکی کو بتائیں کہ آپ کی شہوت جتنی مرضی سہی لیکن وہ لڑکی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے… یقین کریں لڑکی آپ کو دیوتا سمجھ لے گی… اگر ایک انگلی پوری جا چکے تو پھر آہستہ آہستہ دوسری انگلی شرمگاہ میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ لڑکی کے احساسات کو دیکھیں.. اگر لڑکی کمفرٹیبل نہ ہو تو سہاگ رات پر مباشرت نہ کریں.زبردستی کر کے اگر اپ چند جھٹکے مار کر اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھنا شروع ہو جائیں تو آپ کی مرضی لیکن عورت کے دل میں آپ جگہ نہیں بنا سکیں گے .. اپنی پہلی دفعہ کی مباشرت کو اتنا پرلطف اور شہوت انگیز بنائیں کہ آپ کو اور آپ کی بیوی کو ساری زندگی وہ مزہ یاد رہے.