گھر کی عزت پارٹ 1
ہمارے گھر کا ماحول سادہ سا تھا ہم 2 بہنیں ایک ماں ایک بھای اور پاپا سعودی عرب ہوتے ہیں ہمارا گھرانہ تمام رشتہ داروں میں مذہبی گھرانے کے طور پے دیکھا جاتا تھا ہم کبھی بھی گھر سے بغیر پردے کے نہیں نکلی تھی
ہمارا گھرانا بہت ہی امن والا تھا ایک دوسرے سے تعاون کرتے تھے امی کا نام زاہدہ عمر 42 ان کی شادی کم عمری میں ہوگی تھی اس لئے ابھی بھی وہ 35 کی لگتی ہیں ان کے تھن اور گانڈ بہت موٹے تھے میں گھر میں سب سے بڑی تھی عمر 20 سال مجھ سے چھوٹا بھائ نام عمران عمر 17 سال اور میری چھوٹی بہن فاطمہ 14 سال کی تھی اس پاپا سال میں ایک مہینے کی چٹھی پہ آتے تھے باقی وہیں پہ رہیتے تھے
میرا ایف اے مکمل ہوا تو امی نے ابو کے کہنے پر مجھے عالمہ کا کورس کروانے کا سوچا ساتھ میں یہ بھی فائنل کرلیا کہ عائشہ ترجمہ وتفسیر بھی کر لے گی ہم دونوں بہنوں کو محلہ کے ایک قاری صاحب کے پاس داخل کروانے امی لے گئ اور بھائ کی ذمہ داری تھی ہمیں چھوڑ کے آنے اور واپس لانے کی شروع شروع میں صبح کی کلاسس تھی سب کچھ نارمل چلتا رہا پھر بعد میں عمران اور عائشہ کے سکول کھل گئے جس سے کافی مسئلہ بن گیا تو امی جان نے قاری صاحب کو گھر بلایا اور ان سے ریکوسٹ کی آپ ان کو پچھلے ٹائم پڑھا دیا کریں دونوں بہنیں پڑھ لئیں گی تب قاری صاحب جو تقریباً زیادہ عمر کے نہیں تھے ان کی عمر 30 تھی بڑی مشکل سے مانے اور ہماری کلاس انہوں نے مغرب کی نماز بعد سے عشاء تک رکھ لی
لیکن ایک چیز میں نے نوٹ کی جب وہ قاری گھر پہ آے وہ امی کہ ابھرے ہوے مموں کی طرف بڑھی غور سے دیکھ رہے تھے میں بھی اب جوان ہوچکی تھی مجھ پہ بھی شہوت طاری رہتی تھی جسم کہ ابار اور حسن ایسا تھا کہ کوئ بھی مرد پھسل سکتا تھا لیکن گھر والوں کی عزت پہ خاموش ہوجاتی تھی
معمول سے کلاس چل رہی تھی ایک دن قاری صاحب نے خلافِ توقع بات کی اور گھر کا نمبر مانگ لیا میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے یہ وقت مناسب نہیں ہے اور گلی بھی میں نے تمہاری امی سے مناسب وقت اور جگہ کے بارے بات کرنا ہے میرے ذہن میں کوی غلط بات نہیں آئ تو نمبر دے دیا اگلے دن ہم جانے لگے تو امی نے کہا آج سے قاری صاحب گھر پہ ہی پڑھائیں گیں تو ہم راضی ہوگئے قاری صاحب بہت سج دج کے خوشبو لگا کے آے اور آتے ہی سلام کیا باہر ہم برقع پہنتی ہیں لیکن گھر میں ہم کبھی کبھار دوپٹا بھی نہ لیں تو کوئ ممانت نہیں قاری صاحب بنا دوپٹہ کے امی جان کو دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گے امی نے ٹائٹ شلوار قمیض پہنی تھی گرمی کی وجہ سے ان کا برا صاف دکھ رہا تھا امی نے خاموشی تھوڑی اور بولی آپ کے لئے اندر کمرے میں جگہ مختص کی ہے آپ وہاں پہ ان کو پڑھا سکتے میں نے فوراً دوپٹہ ٹھیک کیا اور اندر آگئ ابھی عائشہ آنے والی تھی کہ میں نے قاری صاحب سے معذرت کی ہم ایسے بنا دوپٹہ کے تھیی تب قاری صاحب نے مجھ سے کہا میں بھی تمہارا روحانی باپ ہوں مجھ اور باپ محرم ہوتا اس کے سامنے جس مرضی حالت میں رہو گناہ نہیں ہوتا
قاری صاحب مجھ پہ تو ایک سال سے لائن مار رہے تھے مجھ پہ کوئ اثر نہیں ہوا تو امی جان کے پیچھے پڑھ گئے اب امی جان تو لن لے چکی تھی اس لئے ان کو اس کے مزے کا پتا تھا اس لئے وہ ان کے الٹے سیدھے سوالوں کا جواب بھی دینے لگی کبھی کبھی وہ امی کے لئے کوئ پھول لے آتے کبھی کو چیز اور تعریفیں بھی بہت کرتے نہیں تھکتے مجھے یہ سب دیکھ کہ اور بھی شہوت ہونے لگی میں بھی قاری صاحب سے تھوڑا کھل گئ
ایک دن امی کا موبائل دیکھا اس میں قاری سے بے شمار کالز تھی اور میسیج بھی بے انتہا تھے میرا دل زور سے دھڑکنے لگا میں نے دل پہ ہاتھ رکھ کے میسج کھولا پہلا میسیج یہی تھا میری جان بریزر کا سائز ٹھیک ہے نا میری آنکھییں کھلی کی کھلی رہ گی وہ میسج بہت ہی گندے تھے امی کا ایک میسج یہ بھی تھا جان گولیاں ختم ہوگئ ہیں آج یاد سے لانا مجھے کچھ شک ہوا امی روز رات کو ہمیں دودھ پلاتی تھی سب کو کچھ دنوں سے قاری صاحب کا گھر یہاں سے بہت دور تھا اس لئے وہ مسجد میں رہتے تھے اس بات کو لے کر مجھے اور شک ہوا
رات کو جب قاری صاحب چلے گے تو امی کھانے بعد چلی گی میں جان بوجھ کر اٹیج باتھ میں گس گی امی نے کچھ دیر انتظار کیا میں دیکھتی رہی کیوں کہ امی ہمیں دودھ زبردستی پلاتی تھی جب میں نہیں آئ تو امی دودھ رکھ کے بھائ کے کمرے کی طرف گی میں فوراً باہر نکلی اور دودھ کو واشروم میں گرا دیا اور دودھ کا گلاس باہر رکھ دیا امی واپس آئ اور بولی صبا دودھ پی لیا میں نے بولا جی امی جی پھر وہ معمول سے پوچھنے لگی کیسہ چل رہا کورس یہ وہ میں بولی امی مجھے نیند آ رہی ہے امی مسکرای اور بولی چلو ٹھیک ہے تم سوجاو
مجھے نییند نہیں آرہی تھی کچھ دیر بعد مجھے ایسا لگا گھر کا دروازہ کھلا ہمارے کمرے سے دروازے تک نظر جاتی ہے میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا باہر دیکھتے ہی میرے پاوں تلے سے زمین نکل گی امی قاری صاحب کے ہونٹ چوس رہی تھی میرا دل کیا اس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لوں لیکن مجھے یہ دیکھ کے اچھا لگنے لگا قاری صاحب ایک ہوتھ امی کا دودھ پکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے کبھی کبھی امی کی گانڈ مسل رہا تھا اتنے میں اس نے امی کے کان میں کچھ کہا شائد اس رنڈی کو یاد کروایا ہوگا کہ دروازہ کھلا ہے امی نے کہا چلو اندر چلیں اس نے دروازے کو کنڈی لگای اور بھاری بھرکم امی کو اپنی گود میں اٹھا کر کمرے کی طرف چل دیا میں نے دروازہ بند کیا اندر آئ لیکن اب میری نیند جاچکی تھی میرے ذہن میں ایک ترکیب آئ میں نے اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور دبے پاوں امی کے کمرے کی طرف چل پڑی امی کے کمرے کی کھڑکی میں ایک سوراخ تھا جو کہ اس میں سے میں نے دیکھا کہ قاری صاحب امی کہ اوپر چڑھے ہیں اور قاری صاحب نے قمیض نہیں پہنی اور امی ان کو اور وہ امی کو پاگلوں کی طرح چوم رہیں ہیں میری امی کو دیکھ کہ کوی نہیں کہہ سکتا کہ اس کی اولاد جوان ہے اور یہ کسی غیر مرد سے منہ کالا کروا رہی ہے امی نے منہ ہٹایا اور بولی کیوں تڑپا رہے اپنی جان کو ٹھوکو قاری صاحب اٹھے اور بولے گشتی سب سوگے ہیں تو امی بولی ہاں آج تو 2 2 گولیاں ڈالی ہیں آج تو جو من میں ہے کرو ان کی ماں کی عزت لوٹ لو
تب اس نے کہا چل رنڈی ننگی ہوجا امی فوراً اٹھی اور بڑے انداز سے اپنی قمیض اتاری قاری صاحب بولے بہن چود بریزر کدھر ہے ماں مسکرائ اور بھولی دن بھر آپ بہانے بہانے دودھ کو پکڑتے اس لیے میں نے پہننا چھوڑدیا امی نے شلوار بھی اتار دی اب امی بالکل ننگی تھی اور قاری صاحب شلوار میں امی نے قاری صاحب کا لن شلوار میں تنا ہوا تھا امی ایسے ننگی بڑی شلوار کے اوپر سے ہی ان کی گود میں بیٹھ گی مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے بھی اپنی شلوار میں ہاتھ ڈال دیا









