بیرون ملک وزیر اعظم کسی کو ایک کھوکھا نہیں دے سکتا، یہاں وزیر اعظم نے بڑی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت کیسے دی، چیف جسٹس #ChiefJustice #SupremeCourt #SuoMoto #aajkalpk وزرا ء 1800سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہفتہ تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی ۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔ نے بتایا کہ ان کے زیر استعمال ایک گاڑی تھی اور کابینہ ڈویژن کی منظوری سے گاڑی استعمال کی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ وزراء کتنے سی سی گاڑی رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں؟ ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزرا ء 1800سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اس پر وزیر قانون زاہد حامد نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اس حوالے سے ان کے علم میں نہیں، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے قانون دیکھے بغیر گاڑی کا استعمال کیسے شروع کردیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ بیرون ملک تو وزیراعظم کھوکھا بھی نہیں دے سکتا، عدالت جائزہ لیگی کہ وزیراعظم نے کیسے اور کس قانون کے تحت منظوری دی جبکہ عدالت نے بروز ہفتہ وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیرڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں، وزراء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنے پاس سے گاڑیاں کیوں نہیں رکھتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ استحقاق کے بغیر دی گئی 30 گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں۔ بعدا ازاں عدالت نے درخواست پر مزید سماعت ہفتہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔










