Saqib Nisar Audio Call Leak | Saqib Nisar Audio Leak | CJ Saqib Nisar Ca...
seen from United States
seen from Brazil
seen from China

seen from United States
seen from United States

seen from India
seen from China

seen from Malaysia
seen from Brazil
seen from United States
seen from Guatemala
seen from Colombia
seen from Nepal
seen from China
seen from Germany
seen from Germany

seen from India

seen from Singapore
seen from China

seen from Malaysia
Saqib Nisar Audio Call Leak | Saqib Nisar Audio Leak | CJ Saqib Nisar Ca...
#Lahore : SABIQ #CJP #SaqibNisar NE GHAIR MULKI SHEHRIYAT KI SAKHTI SE TARDEED KARTAY HUWAY KAHA HAI K WO GHAIR MULKI SHEHRIYAT HASIL KARNAY KA SOCH BHI NAHI SAKTAY. #DAM K LIYE AWAMI RAQAM KI NIGRANI KHUD #SupremeCourt KAR RAHI HAI. 3:00PM #FastNews #News #PK https://www.instagram.com/p/B1V5jGwna3u/?igshid=1uykknm9skyow
چیف جسٹس نے میئر کراچی کو نالوں کی صفائی کےلیے ایک ماہ وقت دے دیا، صفائی نہ ہونے پر سخت کاروائی کی تنبیہ #SupremeCourt #ChiefJustice #SaqibNisar #Karachi #aajkalpk سندھ کمیشن کے سربراہ امیر ہانی مسلم کی مدت میں جنوری 2019 تک توسیع کرنے کی منظوری سپریم کورٹ نے میئرکراچی وسیم اختر کو شہر میں برساتی نالوں کی صفائی کیلئے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فاضل بینچ نے سندھ بھر میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ کی جانب سے واٹر کمیشن کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ درخواست گزار شہاب اوستوایڈووکیٹ نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ واٹر کمیشن کی کاوشوں سے صوبے بھر میں 33 واٹرٹریٹمنٹ پلانٹس 16 جون 2018 تک مکمل فنکشنل ہو جائیں گے، جون 2019 تک 915 اسکیمیں مکمل ہو جائیں گی۔ اس لیے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی مدت میں دسمبر 2019 تک توسیع کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ امیر ہانی مسلم کی مدت میں اتنا ہی اضافہ کرسکتا ہوں جتنا وقت میری ریٹائرمنٹ میں ہے۔ بعد ازاں سندھ کمیشن کے سربراہ امیر ہانی مسلم کی مدت میں جنوری 2019 تک توسیع کرنے کی منظوری دے دی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سندھ سے استفسار کیا کہ آپ ہمیں کہاں دورے کیلئے لے جارہے ہیں، جس پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ صفائی کا معاملہ میئر کراچی ہی بتا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے میئر کراچی وسیم اختر سے استفسار کیا کہ کراچی والے کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا صفائی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے؟، میئر کراچی نے جواب دیا کہ ہم کام کررہے ہیں اور حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ نالوں کی صفائی کا کام بھی شروع ہوچکا ہے۔چیف جسٹس نے میئر کراچی سے استفسار کیا کہ مون سون شروع ہورہا ہے، مجھے بتائیں کب نالے دکھائیں گے آپ؟ میئر کراچی کی جانب سے مہلت طلب کئے جانے پر چیف جسٹس نے انہیں شہر کے برساتی نالوں کی صفائی کے لئے ایک ماہ کی مہلت دے دی، چیف جسٹس نے تنبیہ کی کہ اگر ایک ماہ میں صفائی نہ ہوئی تو سخت کارروائی کریں گے۔
بھری عدالت میں چیف جسٹس سے گستاخی, درخواست گزار نے رشوت لینے کا الزام لگا دیا #ChiefJustice SupremeCourt #aajkalpk سپریم کورٹ میں اسلام آباد میٹرو بس سروس کے خلاف مشاہد حسین کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار اور ایک درخواست گزار شاکراللہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے، دونوں نے ایک دوسرے کو دماغی خلل کے طعنے دیتے ہوئے معائنہ و علاج کرانے کے لئے کہا ہے ۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا مشاہد حسین سید صاحب موجود ہیں؟ مشاہد حسین سید عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے 4 سال قبل جسٹس تصدق جیلانی کو خط لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 4 سال قبل لکھا تھا تب بھی آپ دلائل دیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ میرا مسئلہ ماحولیات سے متعلق تھا، میں نے سی ڈی اے کے ماسٹر پلان پر سوالات اٹھائے تھے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ اب چونکہ میٹرو بس بن چکی یے لہذا اس کیس کو نمٹانا ہی بہتر ہے، جس کے بعد چیف جسٹس نے ازخود نوٹس نمٹا دیا ازخود نوٹس نمٹانے پر ایک اور درخواست گزار شاکراللہ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج ہائیکورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہونے دے رہے۔ درخواست گزار شاکر اللہ نے کہا کہ وہ جج اور کوئی نہیں، بالکل چیف جسٹس صاحب آپ خود ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ 9 ماہ سے آپ فیصلہ نہیں ہونے دے رہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ وہی ہیں جن کی درخواست میں نے بطور سیکرٹری قانون منظور نہیں کی اور آپ کے خلاف فیصلہ دیا، شاکراللہ نے جواب میں کہا کہ آپ نے مجھ سے رشوت مانگی مگر میں نے آپ کو رشوت نہیں دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بارے میں جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے آپ کے دماغی توازن کا معائنہ ہونا چاہیے۔ شاکراللہ نے جواب دیا کہ چلیں ہم دونوں چل کر معائنہ کراتے ہیں، آپ میڈیکل بورڈ بنائیں اس میں ہم دونوں پیش ہوں گے۔ عدالتی عملے نے درخواست گزار کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا (بشکریہ: پاکستان24)
بیرون ملک وزیر اعظم کسی کو ایک کھوکھا نہیں دے سکتا، یہاں وزیر اعظم نے بڑی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت کیسے دی، چیف جسٹس #ChiefJustice #SupremeCourt #SuoMoto #aajkalpk وزرا ء 1800سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہفتہ تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیر ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی ۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔ نے بتایا کہ ان کے زیر استعمال ایک گاڑی تھی اور کابینہ ڈویژن کی منظوری سے گاڑی استعمال کی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ وزراء کتنے سی سی گاڑی رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں؟ ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزرا ء 1800سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اس پر وزیر قانون زاہد حامد نے عدالت میں موقف اپنایا کہ اس حوالے سے ان کے علم میں نہیں، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے قانون دیکھے بغیر گاڑی کا استعمال کیسے شروع کردیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ بیرون ملک تو وزیراعظم کھوکھا بھی نہیں دے سکتا، عدالت جائزہ لیگی کہ وزیراعظم نے کیسے اور کس قانون کے تحت منظوری دی جبکہ عدالت نے بروز ہفتہ وزیراعظم کی منظوری کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس گزار رو رہا ہے اور وزیرڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی گاڑیاں استعمال کررہے ہیں، وزراء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنے پاس سے گاڑیاں کیوں نہیں رکھتے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ استحقاق کے بغیر دی گئی 30 گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں۔ بعدا ازاں عدالت نے درخواست پر مزید سماعت ہفتہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔