جانتا ہوں میں تم کو ______ ذوقِ شاعری بھی ہے
شہر کے دوکاندارو ______ کاروبارِ الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
دل کے دام کتنے ہیں _____ خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقدِ جاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
کوئی کیسے ملتا ہے _____ پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے _____ سانس کیسے رُکتی ہے کیسے رہ نکلتی ہے ______ کیسے بات چلتی ہے شوق کی زباں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
وَصل کا سکوں کیا ہے ______ ہجر کا جنوں کیا ہے حُسن کا فسوں کیا ہے ______ عشق کے دروں کیا ہے تم مریضِ دانائی ______ مصلحت کے شیدائی راہِ گمراہاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
زخم کیسے پھلتے ہیں ______ داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے ______ کوئی کیسے روتا ہے اشک کیا ہیں نالے کیا ______ دشت کیا ہیں چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
نا مُرادِ دل کیسے ______ صبح شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں ______ اور کیسے مرتے ہیں تم کو کب نظر آئی ______ غمزدوں کی تنہائی زیست بے امان کیا ہے تم نہ جان پاؤگے
جانتا ہوں میں تم کو ______ ذوقِ شاعری بھی ہے شخصیت سجانے میں ______ اِک یہ ماہری بھی ہے پھر بھی حرف چُنتے ہو ______ صرف لفظ سُنتے ہو اِن کے درمیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
__________ جاوید اختر (source )

















