me and my Chai ☕❤
Xuebing Du
The Bowery Presents
Sade Olutola

roma★

@theartofmadeline
we're not kids anymore.

Origami Around

shark vs the universe

blake kathryn
Noah Kahan
Cosimo Galluzzi

★
No title available
Mike Driver
Claire Keane
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
YOU ARE THE REASON
macklin celebrini has autism
d e v o n

Kiana Khansmith

seen from Mexico

seen from New Zealand
seen from United States

seen from Germany
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United States

seen from Peru
seen from United States
seen from Mexico
seen from United States
seen from Bangladesh
seen from South Korea

seen from India

seen from United Kingdom

seen from Mexico
seen from Türkiye
seen from Germany
seen from United States
@aiklahori
me and my Chai ☕❤
"Ab dil nahi karta"
is such a harsh reality when you realize that you've lost the energy for doing the things you used to love.
باپ
طاہر شہیر
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے !
وہ وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پر رکھتا ہے
یہی وجہ ہے مجھے چومتے جھجکتا ہے !
وہ آشنا میرے ہر کرب سے رہے ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے !
جڑی ہے اس کی ہر اک ہاں فقط میری ہاں سے
یہ بات سچ ھے میرا باپ کم نہیں ماں سے !
ہر ہر ایک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا ہے
تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے !
وہ لوٹتا ہے کہیں رات دیر کو، دن بھر
وجود اس کا پسینہ میں ڈھل کر بہتا ہے !
گلے ہیں پھر بھی مجھے ایسے چاک گریبان سے
یہ بات سچ ھے میرا باپ کم نہیں ماں سے !
پرانا سوٹ پہنتا ہے کم وہ کھاتا ہے
،،، مگر کھلونے میرے سب خرید کے لاتا ہے !
وہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کے
نجانے سوچ کے کیا کیا وہ مسکراتا ہے !
میرے بغیر ہیں سب خواب اس کے ویران سے
یہ بات سچ ھے میرا باپ کم نہیں ماں سے !
such a beautiful book/journal thing ! 😍
خواب سے جاگ کے بستر کی طرف دیکھا تھا
اور پھر چرخِ ستم گر کی طرف دیکھا تھا
تو نے دیکھا تھا وہ پل چشمِ خزاں نے جس وقت
آخری بار گلِ تر کی طرف دیکھا تھا
پھر کنارے پہ پہنچنے میں مجھے عمر لگی
میں نے اک بار سمندر کی طرف دیکھا تھا
یاد ہے مجھ کو وہاں پھوٹ پڑا تھا چشمہ
تو نے کس دھیان میں پتھر کی طرف دیکھا تھا
وہ نظر آج بھی پیوستِ رگِ جاں ہے میاں
میں نے پھینکے ہوئے خنجر کی طرف دیکھا تھا
وہ ندامت بھرا بیٹھا تھا اُسے کیا کہتا
بارہا میں نے مقدر کی طرف دیکھا تھا
عشق اس بات پہ ناراض ہے اب تک اشفاق
میں نے کیوں جاتے ہوئے گھر کی طرف دیکھا تھا
ڈاکٹر اشفاق ناصر
واہ !
پھر کنارے پہ پہنچنے میں مجھے عمر لگی
میں نے اک بار سمندر کی طرف دیکھا تھا
A coffee & a plan
Muhammad Sodiq Muhammad Yusuf masjid
Tashkent
بارش ... چائے ... محبت ❤️
چاک دامانیاں نہیں جاتیں
دل کی نادانیاں نہیں جاتیں
بام و در جل اُٹھے چراغوں سے
گھر کی ویرانیاں نہیں جاتیں
اوڑھ لی ھے زمین خود پہ مگر
تن کی عریانیاں نہیں جاتیں
ھم تو چپ ھیں مگر زمانے کی
حشر سامانیاں نہیں جاتیں
دیکھہ کر آئینے میں عکس اپنا
اس کی حیرانیاں نہیں جاتیں
لاکھ اُجڑے ھوۓ ھوں شہزادے
سر سے سلطانیاں نہیں جاتیں
محسن نقوی
تم اک گورکھ دھندا ہو
نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
ناز خیالوی
tum ik gorakh dhanda ho
اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا آرام گیا
چہروں سے بہار صبح گئی آنکھوں سے فروغ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چھٹا ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں رو رو کے دعائیں کرتے ہیں
آنکھوں میں تصور دل میں خلش سر دھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
اے عشق یہ کیسا روگ لگا جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش ہر وقت خلش بے خواب ہوں میں بے دار ہے وہ
جینے پہ ادھر بیزار ہوں میں مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ
اور ضبط کہے فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اختر شیرانی
I can't believe Candles of Vienna caved to commercial pressure and added the Goku expansion.
Types of Board Game [Explained]
Transcript Under the Cut
The world is waiting for an apology from america for electing that horrible cartoon as their leader.