Ehsan Danish (احسان دانش) - کسان
فضا ویران ہے گرمی کی شدت ہے زمانے میں
مگر مصروف ہیں بیچارے دیقاں ہل چلانے میں
دلِ مجرُوح میں امّید کی تابانیوں والے
کڑکتی دھوپ میں تپتی ہوئی پیشانیوں والے
یہی دہقاں چلاتے ہیں جو ہل بنجر زمینوں میں
چراغِ آرزو سے دل ہیں روشن ان کے سینوں میں
یہ وہ انساں ہیں دامانِ مَشقت میں جو پلتے ہیں
جہاں سوتا ہے اور یہ آبیاری کو نکلتے ہیں
ابھی ہوتا نہیں کچھ ذکرِ ’’ہُو حق‘‘ پارساؤں میں
جُدا بچّوں سے ہو جاتے ہیں یہ تاروں کی چھاؤں میں
انہیں پایا ہے گاتے اس گھڑی سنسان راہوں میں
خموشی ہوتی ہے جب شہریوں کی خواب گاہوں میں
زباں سے ان کے شکرِ ایزدی سو بار ہوتا ہے
خدا کے نام سے ہر وقت ان کو پیار ہوتا ہے
انہی کے بازوؤں سے ہیں بہاریں گلستانوں کی
انہی کے دم سے ہے تعلیم جاری نوجوانوں کی
انہی فاقوں سے گھبرائے ہوؤں میں پارسائی ہے
انہی ڈوبے ہوؤں کے دم سے زندہ ناخدائی ہے









